ایران ،امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کا معاہدہ ایک تاریخی موڑ

ہیوسٹن میں ’’کچھ گفتگو کچھ شاعری‘‘ کی کامیاب ادبی نشست، ڈاکٹر سید تقی عابدی کو خراجِ تحسین،محفل کی صدارت ڈاکٹر سید تقی عابدی نے کی ،شاعری اور ادب سے دلچسپی رکھنے والے افراد، میڈیا نمائندگان اور شہر کی مختلف اہم شخصیات کی شرکت ،فرح اقبال کی نظامت میں پروگرام ترتیب دیا گیا،مشاعرے میں مجید اختر، فرح اقبال، باسط جلیلی، افضل خان، جمیل درانی اور ڈاکٹر نجمہ اعجاز نے اپنا کلام پیش کیا، شعرا کے منتخب اشعار کو حاضرین نے بے حد پسند کیا اور بھرپور داد سے نوازا(تصویر ی جھلکیاں)


دنیا کی تاریخ میں چند ایسے لمحات آتے ہیں جو صرف ایک خطے یا دو ممالک کی کہانی نہیں رہتے بلکہ پوری انسانی تہذیب کی سمت بدل دیتے ہیں ایران اور امریکہ کے درمیان طویل کشیدگی، پراکسی جنگوں، پابندیوں، اور سفارتی سرد مہری کے بعد اگر واقعی کوئی جامع امن معاہدہ وجود میں آتا ہے تو یہ محض ایک سیاسی دستاویز نہیں بلکہ ایک نئے عالمی دور کا آغاز ہوگا ایسا دور جس میں جنگ کی جگہ مفاہمت، خوف کی جگہ اعتماد، اور غیر یقینی کی جگہ استحکام لینے لگے گا اس ممکنہ معاہدے کے اثرات اتنے گہرے اور وسیع ہوں گے کہ ان کی بازگشت واشنگٹن سے تہران تک ہی نہیں بلکہ کراچی، لندن، بیجنگ اور ماسکو تک سنائی دے گی اس حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کہ ایران اور امریکہ کی کشیدگی صرف 2ممالک کا اختلاف نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر پھیلا ہوا ایک پیچیدہ عالمی نظام ہے اس میں توانائی کے وسائل، خلیج کی جغرافیائی اہمیت، اسرائیل کی سلامتی، عرب ریاستوں کی سیاست، یورپی معیشت، اور بڑی طاقتوں کی اسٹریٹجک دلچسپیاں سب شامل ہیں اسی لئے اگر یہ تنازع کسی بڑے معاہدے کے ذریعے ختم ہوتا ہے تو یہ صرف جنگ بندی نہیں بلکہ پورے عالمی طاقت کے توازن کی نئی تشکیل ہوگی مشرقِ وسطیٰ، جو برسوں سے عدم استحکام، جنگوں اور سیاسی بحرانوں کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے، ایک نئے استحکام کی طرف بڑھ سکتا ہےسب سے پہلے سب سے اہم اور فوری اثر عالمی توانائی منڈی پر پڑے گا تیل اور گیس صرف ایندھن نہیں بلکہ جدید معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں ایران ایک ایسا ملک ہے جس کے پاس دنیا کے بڑے تیل اور گیس کے ذخائر موجود ہیں لیکن پابندیوں اور سیاسی تناؤ کی وجہ سے وہ مکمل طور پر عالمی منڈی میں حصہ نہیں لے سکا اگر ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ ہوتا ہے تو ایران کی توانائی برآمدات میں اضافہ ممکن ہوگا جب عالمی مارکیٹ میں سپلائی بڑھتی ہے تو قیمتوں پر دباؤ کم ہوتا ہے اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب پوری دنیا میں مہنگائی کی رفتار سست پڑنے لگتی ہےیہ تبدیلی عام آدمی کی زندگی تک اثر انداز ہوتی ہے جب تیل سستا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم ہوتے ہیں، اشیائے خورونوش کی قیمتیں نیچے آتی ہیں فیکٹریوں کی پیداواری لاگت کم ہوتی ہے اور مجموعی طور پر معیشت میں ایک ’’ریلیف سائیکل‘‘ شروع ہوتا ہے یورپ جیسے خطے، جو حالیہ برسوں میں توانائی کے بحران سے گزرے ہیں اس صورتحال سے خاص طور پر فائدہ اٹھا سکتے ہیں وہاں صنعتی پیداوار میں اضافہ اور معاشی سرگرمیوں میں تیزی آ سکتی ہےلیکن اس معاہدے کا اثر صرف تیل کی قیمتوں تک محدود نہیں ہوگا یہ عالمی مالیاتی نظام میں بھی ایک نیا اعتماد پیدا کرے گا سرمایہ کاری ہمیشہ استحکام کی تلاش میں رہتی ہے اور جہاں جنگ کا خطرہ کم ہوتا ہے وہاں سرمایہ زیادہ تیزی سے آتا ہے اگر ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات بہتر ہوتے ہیں تو بین الاقوامی سرمایہ کار مشرقِ وسطیٰ اور ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کی طرف دوبارہ متوجہ ہو سکتے ہیںسٹاک مارکیٹس میں بہتری، کرنسیوں میں استحکام، اور عالمی تجارت میں وسعت اس کا قدرتی نتیجہ ہو سکتے ہیںمشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں یہ معاہدہ ایک خاموش انقلاب کی حیثیت رکھ سکتا ہے برسوں سے خطہ پراکسی جنگوں کا مرکز رہا ہے جہاں یمن، شام، عراق اور لبنان جیسے ممالک مختلف طاقتوں کے اثر میں رہے ہیں اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم ہوتی ہے تو ان خطوں میں بھی سیاسی درجہ حرارت کم ہو سکتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگی معیشتوں کی جگہ ترقیاتی منصوبے لے سکتے ہیں دفاعی اخراجات کم کر کے تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر پر زیادہ سرمایہ لگایا جا سکتا ہے، جو کسی بھی معاشرے کی حقیقی ترقی کی بنیاد ہوتے ہیںآبنائے ہرمز کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا یہ دنیا کی سب سے اہم توانائی گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے کسی بھی کشیدگی کی صورت میں یہ راستہ خطرے میں پڑ جاتا ہے جس سے عالمی منڈی میں فوری جھٹکے محسوس ہوتے ہیں اگر معاہدہ کامیاب ہوتا ہے تو اس سمندری راستے کی سلامتی یقینی ہو سکتی ہے اور اس کے نتیجے میں شپنگ لاگت، انشورنس پریمیم اور تجارتی خطرات میں واضح کمی آئے گی یہ خاموش مگر انتہائی طاقتور معاشی فائدہ ہوگااب اگر ہم خطے کے بڑے ممالک کے ردعمل پر نظر ڈالیں تو صورتحال مزید دلچسپ ہو جاتی ہے اسرائیل اور بعض خلیجی ممالک ایران کے ساتھ کسی بھی امریکی مفاہمت کو احتیاط سے دیکھیں گے ان کیلئے یہ سوال اہم ہوگا کہ خطے میں طاقت کا نیا توازن کیا ہوگا دوسری طرف ایران کے اندر بھی معاشی کھلاؤ کے ساتھ سیاسی اور سماجی تبدیلیاں آ سکتی ہیں جب کسی ملک کی معیشت عالمی نظام سے جڑتی ہے تو اس کے اندرونی ڈھانچے بھی آہستہ آہستہ بدلنے لگتے ہیںترقی پذیر ممالک کیلئے یہ معاہدہ ایک امید کی کرن ثابت ہو سکتا ہے پاکستان جیسے ملک جو توانائی درآمد کرتے ہیں، ان کیلئے تیل کی قیمتوں میں کمی براہِ راست ریلیف کا باعث بن سکتی ہے درآمدی بل کم ہونے سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم ہوتا ہے اور مہنگائی کی شرح میں کمی آ سکتی ہے اس کے علاوہ اگر خطے میں امن قائم ہوتا ہے تو علاقائی تجارت کو بھی فروغ مل سکتا ہے ایران، پاکستان، افغانستان، وسطی ایشیا اور ترکی کے درمیان تجارتی راستے مضبوط ہو سکتے ہیں جو پورے خطے کو ایک نئی اقتصادی طاقت میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیںیہ معاہدہ صرف معیشت یا سیاست کا نہیں بلکہ انسانی نفسیات کا بھی معاملہ ہے جنگیں صرف زمین نہیں تباہ کرتیں بلکہ اعتماد، امید اور مستقبل کے خواب بھی ختم کر دیتی ہیں امن کا مطلب صرف گولیاں بند ہونا نہیں بلکہ معاشرے میں امید کا دوبارہ جنم لینا ہے اگر ایران اور امریکہ کے درمیان واقعی اعتماد کی فضا قائم ہوتی ہے تو یہ عالمی سطح پر ایک نئے ذہنی رجحان کو جنم دے سکتی ہے جہاں تنازعات کو طاقت سے نہیں بلکہ مکالمے سے حل کرنے کی کوشش کی جائے گی تاہم حقیقت یہ بھی ہے کہ ایسے معاہدے آسان نہیں ہوتے، ان کے راستے میں کئی رکاوٹیں، مفادات کا ٹکراؤ، اور تاریخی عدم اعتماد موجود ہوتا ہے بعض اوقات چھوٹے واقعات بھی بڑے معاہدوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اسی لئے اس طرح کے کسی بھی امن عمل کو مستقل سفارتی کوششوں، صبر اور سیاسی حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے یہ ایک دن یا ایک معاہدے کا کھیل نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہوتا ہےاگر طویل مدتی تناظر میں دیکھا جائے تو ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ ایک نئے عالمی نظام کی بنیاد رکھ سکتا ہے ایسا نظام جس میں طاقت کا استعمال کم اور اقتصادی انحصار زیادہ ہوگا جہاں ممالک ایک دوسرے کے دشمن نہیں بلکہ شراکت دار ہوں گے یہ تصور اگرچہ مثالی لگتا ہے، لیکن تاریخ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ بڑے بحران ہی بڑے حل پیدا کرتے ہیںآخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر یہ معاہدہ حقیقت بنتا ہے تو یہ صرف سیاست دانوں کی کامیابی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی اجتماعی جیت ہوگی تیل کی قیمتوں میں کمی، عالمی تجارت میں وسعت، سرمایہ کاری میں اضافہ اور خطے میں استحکام اس کے فوری اثرات ہو سکتے ہیں لیکن اس سے بھی بڑا اثر یہ ہوگا کہ دنیا ایک بار پھر یہ یقین کرنے لگے گی کہ جنگ ہمیشہ آخری حل نہیں ہوتی اور امن اب بھی ممکن ہے۔
محمود احمد

اپنا تبصرہ بھیجیں