دو وطن، ایک شناخت اور پاکستانیوں کا روشن چہرہ

امریکہ نے اپنے قیام کے اڑھائی سو سال مکمل کرلئے ہیں یہ صرف ایک قومی جشن نہیں بلکہ اس سفر کا اعتراف بھی ہے جس میں ایک نوآبادیاتی ریاست دنیا کی سب سے بڑی معاشی، عسکری اور سائنسی طاقتوں میں شمار ہونے لگی ہر سال امریکی یومِ آزادی پوری شان و شوکت سے منایا جاتا ہے لیکن اس بار 250ویں سالگرہ کی تقریبات کی اہمیت غیر معمولی تھی ان تقریبات میں صرف امریکی شہری ہی نہیں بلکہ دنیا بھر سے تعلق رکھنے والی وہ کمیونٹیز بھی شریک ہوئیں جنہوں نے امریکہ کو اپنا دوسرا گھر بنایا انہی میں پاکستانی کمیونٹی بھی شامل ہے جس نے یہ ثابت کیا کہ ایک شخص اپنے آبائی وطن سے محبت کرتے ہوئے اپنے اختیار کئے گئے وطن کے ساتھ بھی مکمل وفاداری نبھا سکتا ہےریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں پاکستان ایسوسی ایشن آف گریٹر ہیوسٹن(PAGH) کی جانب سے پاکستان سینٹر میں منعقد ہونے والی تقریب اس حقیقت کا خوبصورت اظہار تھی۔ تقریب میں امریکہ، پاکستان اور ریاست ٹیکساس کے پرچم ایک ساتھ بلند کئے گئے امریکی اور پاکستانی قومی ترانے بجائے گئے اور مسلم امریکن سکاوٹس نے پرچم کشائی کی ذمہ داری ادا کی گئی یہ منظر صرف ایک تقریب نہیں تھا بلکہ دو قوموں کے درمیان احترام، دوستی اور مشترکہ اقدار کی علامت تھاتقریب کی ایک منفرد بات یہ بھی تھی کہ پی اے چی ایچ کے صدر سراج نارسی کی انفرادی کوشش سے پاکستانی میوزیکل ورژن میں تیار کیا گیا امریکی قومی ترانے کا پیش کیا گیا یہ اقدام اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستانی کمیونٹی اپنے ملک کے قومی دن کو صرف رسمی طور پر نہیں بلکہ دل سے مناتی ہےایسے اقدامات دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیںپاکستان ایسوسی ایشن آف گریٹر ہیوسٹن(PAGH) گزشتہ کئی برس سے نہ صرف پاکستانی ثقافت کو فروغ دے رہی ہے بلکہ امریکہ میں پاکستانی کمیونٹی کو متحد رکھنے کیلئے بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے مذہبی، سماجی، تعلیمی اور فلاحی سرگرمیوں کے ذریعے یہ ادارہ پاکستانیوں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جہاں وہ اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے امریکی معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکیں یہی وجہ ہے کہ اس تقریب میں کمیونٹی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی ،پاکستانی نژاد ریاستی رکن اسمبلی ڈاکٹر سلیمان لالانی کا ایک جملہ تقریب کی سب سے نمایاں بات بن گیا انہوں نے کہا کہ ’’ہماری دو مائیں ہیں، ایک پاکستان ہے جس نے ہمیں پیدا کیا اور دوسری امریکہ ہے جو ہمیں پال رہی ہے‘‘ یہ صرف ایک جذباتی جملہ نہیں بلکہ لاکھوں اوورسیز پاکستانیوں کی زندگی کی حقیقی تصویر ہے ہر وہ شخص جو بہتر مستقبل، تعلیم، روزگار یا کاروبار کیلئے بیرون ملک جاتا ہے اس کے دل میں اپنے وطن کی محبت ہمیشہ زندہ رہتی ہے جبکہ وہ اپنے نئے وطن کی ترقی میں بھی پوری دیانت داری سے کردار ادا کرتا ہےیہی اصل حب الوطنی ہے کہ انسان جہاں رہتا ہے وہاں کے قوانین کا احترام کرے، اس کی ترقی میں حصہ ڈالے اور ساتھ ہی اپنے آبائی وطن کی عزت اور وقار کو بھی بلند رکھے پاکستانی نژاد امریکیوں نے گزشتہ کئی دہائیوں میں یہی کردار ادا کیا ہے آج امریکہ میں ہزاروں پاکستانی ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان، پروفیسر، وکیل، فوجی افسر، تاجر اور سرکاری اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں انہوں نے اپنی محنت، قابلیت اور دیانت داری سے نہ صرف اپنی شناخت بنائی بلکہ پاکستان کا نام بھی روشن کیاپاکستان ایسوسی ایشن آف گریٹر ہیوسٹن کے صدر سراج نارسی نے اپنے خطاب میں اس ذمہ داری کی طرف توجہ دلائی کہ پاکستانی نژاد امریکیوں کو امریکہ کی تعمیر و ترقی میں بھرپور کردار ادا کرنے کے
ساتھ ساتھ پاکستان کی عزت اور وقار کے لیے بھی کام کرنا چاہیے حقیقت یہی ہے کہ بیرون ملک رہنے والے پاکستانی صرف ترسیلات زر بھیجنے والے افراد نہیں بلکہ وہ پاکستان کے غیر سرکاری سفیر بھی ہیں دنیا پاکستان کو اکثر انہی کے کردار، رویے اور کامیابیوں کی بنیاد پر پہچانتی ہےآج پاکستان کو جن معاشی، سفارتی اور سماجی چیلنجز کا سامنا ہے، ان میں اوورسیز پاکستانیوں کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے ہر سال اربوں ڈالر کی ترسیلات زر پاکستانی معیشت کو سہارا دیتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ بیرون ملک مقیم پاکستانی سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، تعلیم اور کاروباری روابط کے ذریعے بھی وطن کی خدمت کر سکتے ہیں اگر حکومت ان کی صلاحیتوں سے مؤثر انداز میں فائدہ اٹھائے تو پاکستان کئی شعبوں میں نمایاں ترقی کر سکتا ہےتقریب میں شریک پاکستانی نژاد امریکی ٹیچر افشاں ضیاء کی گفتگو بھی قابلِ توجہ تھی انہوں نے کہا کہ امریکہ نے انہیں تعلیم کے میدان میں خدمات انجام دینے کا موقع دیا، جو ان کیلئے باعث فخر ہے یہ دراصل اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ جیسے ممالک میں صلاحیت اور محنت کو اہمیت دی جاتی ہے جب کسی فرد کو مساوی مواقع ملتے ہیں تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بدلتا ہے بلکہ پورے معاشرے کیلئے مثال بن جاتا ہےتعلیم وہ شعبہ ہے جہاں پاکستانی دنیا بھر میں اپنی قابلیت کا لوہا منوا رہے ہیں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور مشرق وسطیٰ سمیت متعدد ممالک میں پاکستانی اساتذہ، محققین اور سائنسدان نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں یہ سب پاکستان کیلئے باعثِ فخر ہیں کیونکہ ان کی کامیابیاں دنیا کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ پاکستانی قوم میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے صرف مناسب مواقع اور شفاف نظام کی ضرورت ہےہیوسٹن کی اس تقریب کا ایک اور مثبت پہلو یہ تھا کہ نئی نسل کو دونوں ممالک کی اقدار سے روشناس کرایا گیا امریکہ میں پیدا ہونے والے بہت سے پاکستانی بچے پاکستان کو صرف اپنے والدین کی باتوں سے جانتے ہیں ایسی تقریبات انہیں اپنی ثقافت، زبان، تاریخ اور قومی شناخت سے جوڑے رکھتی ہیں یہی بچے مستقبل میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان مضبوط تعلقات کا ذریعہ بن سکتے ہیںبدقسمتی سے پاکستان میں اکثر اوورسیز پاکستانیوں کو صرف زرِمبادلہ بھیجنے والے افراد سمجھا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ دنیا بھر میں پاکستان کی شناخت کے نمائندے ہیں جب کوئی پاکستانی بیرون ملک کامیابی حاصل کرتا ہے تو اس کا اثر صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری قوم کی ساکھ بہتر ہوتی ہے اسی طرح اگر کوئی غلط کام کرتا ہے تو اس کا منفی اثر بھی پوری کمیونٹی پر پڑتا ہے اس لئے بیرون ملک رہنے والے ہر پاکستانی کی ذمہ داری دوگنی ہو جاتی ہےپاکستان اور امریکہ کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں ان تعلقات میں کبھی اتار چڑھاؤ ضرور آیا لیکن دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط ہمیشہ مضبوط رہے پاکستانی نژاد امریکی اس رشتے کی سب سے مضبوط کڑی ہیں وہ دونوں معاشروں کو ایک دوسرے کے قریب لانے، غلط فہمیوں کو دور کرنے اور تعاون کے نئے راستے کھولنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیںہیوسٹن کی یہ تقریب اس حقیقت کا اعلان تھی کہ پاکستانی اپنی قومی شناخت پر فخر کرتے ہیں اور اپنے میزبان ملک کی ترقی کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں دو پرچم ایک ساتھ لہرانا کسی تضاد کی علامت نہیں بلکہ اس بات کا اظہار ہے کہ انسان اپنے وطنِ پیدائش سے محبت کرتے ہوئے اپنے وطنِ قیام سے بھی مکمل وفاداری نبھا سکتا ہےآج دنیا میں کامیاب قومیں وہ ہیں جو تنوع کو اپنی طاقت بناتی ہیں امریکہ کی ترقی میں مختلف قومیتوں نے حصہ ڈالا، اور پاکستانی کمیونٹی بھی اس کامیابی کی داستان کا اہم باب بن چکی ہے محنت، تعلیم، کاروبار، طب، سائنس اور سماجی خدمات کے میدان میں پاکستانیوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ جہاں بھی جائیں، اپنی قابلیت سے نئی راہیں کھولتے ہیںپاکستان کو بھی اپنے اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے انہیں صرف ترسیلات زر بھیجنے والے افراد کے طور پر نہیں بلکہ قومی اثاثہ سمجھا جانا چاہیے ان کی تجاویز، تجربات، سرمایہ کاری اور علمی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہے اگر پاکستان اپنے بیرون ملک مقیم شہریوں کو قومی ترقی کے عمل میں مؤثر شریک بنا لے تو ملک کی معاشی اور سماجی ترقی کی رفتار کئی گنا بڑھ سکتی ہےہیوسٹن میں ہونے والی یہ تقریب صرف امریکہ کے یومِ آزادی کا جشن نہیں تھی بلکہ یہ اس حقیقت کا اعلان بھی تھی کہ پاکستانی قوم دنیا کے جس کونے میں بھی آباد ہو، وہ اپنی محنت، کردار، حب الوطنی اور مثبت سوچ کے ذریعے دونوں وطنوں کا نام روشن کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یہی وہ پیغام ہے جو ہر پاکستانی کو اپنے دل میں زندہ رکھنا چاہیے کہ وطن سے محبت صرف سرحدوں کے اندر رہ کر نہیں بلکہ دنیا کے ہر کونے میں اپنے کردار، دیانت اور کامیابی سے بھی کی جا سکتی ہے۔
