زلزلے کی تباہی، گرمی کی قیامت اور موسمیاتی تبدیلی کا عالمی بحران

The devastation of the earthquake, the scorching heat, and the global climate change crisis.


قدرت نے ایک ہی ہفتے میں دنیا کو دو مختلف مگر یکساں دردناک مناظر دکھائے ایک طرف وینزویلا کی سرزمین اچانک لرز اٹھی، عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں، بستیاں اجڑ گئیں، سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں خاندان غم کی چادر اوڑھنے پر مجبور ہوگئے اور ہلاکتوں کی تعداد مسلسل بڑھتی چلی گئی جبکہ دوسری جانب یورپ کے ترقی یافتہ ممالک شدید گرمی کی ایسی غیر معمولی لہر کی لپیٹ میں آگئے کہ ہسپتال بھر گئے جنگلات آگ کی نذر ہونے لگے اور گرمی کی شدت نے سینکڑوں انسانوں کی جان لے لی بظاہر یہ دونوں سانحات ایک دوسرے سے مختلف دکھائی دیتے ہیں ایک زمین کے اندر پیدا ہونے والی طاقت کا اظہار ہے اور دوسرا فضا میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کا نتیجہ مگر ان دونوں کا مشترکہ پیغام ایک ہی ہے کہ انسان جتنا بھی ترقی کرلے، وہ فطرت کے قوانین سے بالاتر نہیں ہوسکتا وینزویلا کے زلزلے نے یاد دلایا کہ چند لمحوں میں آباد شہر کھنڈرات میں بدل سکتے ہیں جبکہ یورپ کی جان لیوا گرمی نے ثابت کیا کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ موجودہ حقیقت ہے جو خاموشی سے انسانوں کی زندگیاں نگل رہی ہے آج دنیا کا ایک خطہ زمین کی لرزش سے لرز رہا ہے تو دوسرا سورج کی بے رحم تپش سے جل رہا ہے کہیں امدادی کارکن ملبے سے زندہ انسان نکالنے کی جدوجہد کر رہے ہیں تو کہیں ڈاکٹر ہیٹ سٹروک کے شکار مریضوں کی جان بچانے میں مصروف ہیں یہ دونوں سانحات اس حقیقت کی علامت ہیں کہ قدرتی آفات صرف غریب یا ترقی پذیر ممالک کا مسئلہ نہیں رہیں بلکہ ترقی یافتہ دنیا بھی ان کے سامنے بے بس دکھائی دے رہی ہے اگرچہ زلزلوں کا براہِ راست تعلق موسمیاتی تبدیلی سے نہیں بلکہ زمین کی ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت سے ہوتا ہے تاہم شدید گرمی، غیر معمولی بارشیں، خشک سالی، جنگلات میں آگ، گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا اور سمندری طوفان سب اسی ماحولیاتی بحران کا حصہ ہیں جسے انسان نے اپنی صنعتی سرگرمیوں، بے تحاشا کاربن اخراج، جنگلات کی کٹائی اور قدرتی وسائل کے بے دریغ استعمال سے جنم دیا ہے آج دنیا کے مختلف حصوں میں رونما ہونے والی ہر نئی آفت اس بات کا اعلان کر رہی ہے کہ اگر انسان نے فطرت کے ساتھ اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو آنے والے برسوں میں ایسے سانحات مزید شدید، مزید مہلک اور مزید عام ہوتے جائیں گے اقوام متحدہ اور موسمیاتی ماہرین مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو روکنے کیلئے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں کیونکہ اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو گرمی کی لہریں مزید جان لیوا ہوں گی، پانی کی قلت بڑھے گی، زرعی پیداوار متاثر ہوگی، سمندروں کی سطح بلند ہوگی اور کروڑوں انسان نقل مکانی پر مجبور ہوسکتے ہیں وینزویلا کے زلزلے میں ملبے تلے دبے انسان اور یورپ کی جھلسا دینے والی گرمی سے دم توڑتے شہری دراصل ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا انسان اب بھی قدرت کے اس واضح انتباہ کو نظر انداز کرتا رہے گا یا پھر زمین کو بچانے کیلئے سنجیدہ، اجتماعی اور عملی اقدامات کرے گا کیونکہ اگر آج بھی ہم نے ماحول، جنگلات، پانی اور فضا کے تحفظ کو اپنی ترجیحات میں شامل نہ کیا تو کل شاید دنیا کے کسی بھی کونے میں رہنے والا انسان خود کو محفوظ محسوس نہ کرسکے اور آنے والی نسلیں ہم سے یہ سوال ضرور کریں گی کہ جب خطرہ سب کے سامنے تھا تو اسے روکنے کیلئے کیا کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں