محمد سعید شیخ کو ستارۂ خدمت اوورسیز پاکستانیوں کے کردار کا قومی اعتراف

National recognition of the role of overseas Pakistanis through the conferral of the Sitara-e-Khidmat upon Muhammad Saeed Sheikh.


پاکستان کی ترقی کی داستان صرف اس کی سرزمین تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں بسنے والے لاکھوں اوورسیز پاکستانی بھی اس داستان کے اہم کردار ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو ہزاروں میل دور رہتے ہوئے بھی اپنے وطن سے محبت، وابستگی اور خدمت کے جذبے کو کبھی ماند نہیں ہونے دیتے وہ اپنی محنت، قابلیت اور دیانت داری سے نہ صرف اپنے لئے کامیابی کی نئی منزلیں طے کرتے ہیں بلکہ پاکستان کا نام بھی عالمی سطح پر روشن کرتے ہیں ایسے ہی افراد میں ممتاز کاروباری شخصیت محمد سعید شیخ کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے جنہیں صدر مملکت آصف علی زرداری نے ایوانِ صدر میں منعقدہ خصوصی تقریب کے دوران ملک کے اعلیٰ سول اعزاز ’’ستارۂ خدمت‘‘ سے نوازا یہ اعزاز صرف ایک فرد کی کامیابی نہیں بلکہ دنیا بھر میں مقیم اوورسیز پاکستانیوں کی خدمات کا اعتراف بھی ہے کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کے وہ شہری ہوتے ہیں جو اپنے کردار، اپنی صلاحیتوں اور اپنی خدمات کے ذریعے قومی وقار میں اضافہ کرتے ہیں محمد سعید شیخ نے کاروبار، سرمایہ کاری، سماجی خدمت اور بیرون ملک پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنے کے میدان میں جو کردار ادا کیا، وہ یقیناً قابلِ تحسین ہے یہی وجہ ہے کہ ریاستِ پاکستان نے ان کی خدمات کو قومی سطح پر سراہتے ہوئے انہیں اس باوقار اعزاز سے نوازا، آج کے دور میں جب دنیا کے مختلف ممالک میں پاکستان کا تعارف صرف سیاسی خبروں یا معاشی مشکلات تک محدود نہیں رہنا چاہیے،ایسے میں کامیاب پاکستانی کاروباری شخصیات ملک کا اصل چہرہ بن کر سامنے آتی ہیں وہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرتی ہیں پاکستان کی معیشت کے امکانات کو اجاگر کرتی ہیں اور یہ پیغام دیتی ہیں کہ پاکستانی قوم صلاحیت، ذہانت اور محنت میں کسی سے کم نہیں، محمد سعید شیخ کا سفر بھی اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ اگر عزم مضبوط ہو تو ایک پاکستانی دنیا کے کسی بھی کونے میں اپنی شناخت قائم کر سکتا ہے انہوں نے اپنی کامیابی کو صرف ذاتی مفاد تک محدود نہیں رکھا بلکہ وطن عزیز کیلئے بھی اسے فائدہ مند بنانے کی کوشش کی، یہی وہ جذبہ ہے جو کسی بھی انسان کو محض ایک کامیاب کاروباری شخصیت سے بڑھ کر قومی ہیرو بنا دیتا ہے اوورسیز پاکستانی ہمیشہ سے ملکی معیشت کا مضبوط ستون رہے ہیں ان کی بھیجی گئی ترسیلات زر نے ہر مشکل دور میں پاکستان کی معیشت کو سہارا دیا ہے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو یا معاشی بحران کے دوران استحکام پیدا کرنا، اوورسیز پاکستانیوں نے ہر موقع پر وطن کا ساتھ دیا ہے لیکن ان کی خدمات صرف ترسیلات زر تک محدود نہیں، انہوں نے مختلف ممالک میں پاکستانی ثقافت، تہذیب، کاروباری صلاحیت اور قومی وقار کو بھی فروغ دیا ہے محمد سعید شیخ بھی انہی افراد میں شامل ہیں جنہوں نے کاروباری میدان میں اپنی شناخت قائم کرتے ہوئے پاکستان کیلئے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کئے، آج عالمی سرمایہ کار کسی بھی ملک میں سرمایہ کاری سے پہلے وہاں کے کاروباری ماحول اور اعتماد کو دیکھتے ہیں ایسے میں اگر بیرون ملک موجود پاکستانی سرمایہ کار پاکستان کے سفیر بن کر مثبت تصویر پیش کریں تو اس کے دور رس نتائج سامنے آتے ہیں صدر مملکت آصف علی زرداری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بجا طور پر کہا کہ قومی ترقی، معیشت، تعلیم، صحت، سماجی بہبود اور دیگر شعبوں میں غیر معمولی خدمات انجام دینے والی شخصیات قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں یہ صرف رسمی الفاظ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے ترقی یافتہ ممالک کی تاریخ گواہ ہے کہ وہاں کامیاب افراد کی عزت افزائی کی جاتی ہے تاکہ نئی نسل کو محنت اور خدمت کا پیغام ملے جب ریاست اپنے محسنوں کو عزت دیتی ہے تو معاشرے میں مثبت مقابلے کی فضا جنم لیتی ہے نوجوان یہ محسوس کرتے ہیں کہ اگر وہ محنت کریں گے، دیانت داری سے کام کریں گے اور ملک و قوم کیلئے خدمات انجام دیں گے تو ریاست ان کی قدر کرے گی پاکستان میں بھی اس روایت کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ہر شعبے میں میرٹ، خدمت اور کارکردگی کو بنیادی معیار بنایا جا سکے محمد سعید شیخ کو ملنے والا ستارۂ خدمت اسی مثبت روایت کا تسلسل ہے یہ اعزاز صرف ان کی کاروباری کامیابی کا اعتراف نہیں بلکہ ان کی سماجی خدمات اور قومی وابستگی کا بھی اظہار ہے ایک کامیاب انسان وہی ہوتا ہے جو اپنی کامیابی کا فائدہ دوسروں تک پہنچائے، اگر کاروبار کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا ہوں، فلاحی منصوبے شروع کئے جائیں، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں معاونت کی جائے اور ضرورت مند افراد کی مدد کی جائے تو یہی حقیقی کامیابی ہے دنیا بھر میں وہ کاروباری شخصیات ہمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں جو سماجی ذمہ داری کو اپنی ترجیح بناتی ہیں پاکستان میں بھی ایسے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے جو کاروبار کیساتھ ساتھ فلاحی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں محمد سعید شیخ کی خدمات اسی سوچ کی عکاس ہیں بیرون ملک پاکستانیوں کیلئے بھی یہ اعزاز ایک حوصلہ افزا پیغام ہے کہ اگر وہ وطن سے تعلق مضبوط رکھیں، اپنی کامیابی کو قومی ترقی کیلئے استعمال کریں اور پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کریں تو ریاست ان کی خدمات کو ضرور تسلیم کرے گی اس وقت دنیا کے مختلف ممالک میں ایک کروڑ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں ان میں ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، پروفیسر، سرمایہ کار، صنعت کار اور مختلف شعبوں کے ماہرین شامل ہیںان کے تجربات، سرمایہ اور عالمی روابط پاکستان کیلئے قیمتی اثاثہ ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ایسی پالیسیاں تشکیل دے جن کے ذریعے اوورسیز پاکستانیوں کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کیا جا سکے انہیں سرمایہ کاری کیلئے آسانیاں فراہم کی جائیں، بیوروکریسی کی رکاوٹیں کم کی جائیں اور ان کے مسائل کو فوری حل کیا جائے تاکہ وہ اعتماد کے ساتھ وطن میں سرمایہ کاری کر سکیں اگر ایسا ہو جائے تو پاکستان میں صنعت، تجارت، روزگار اور برآمدات کے شعبوں میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے سول اعزازات کی روایت کسی بھی ملک کی تہذیبی اور قومی اقدار کی علامت ہوتی ہے یہ اعزاز صرف تمغہ یا سند نہیں بلکہ اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ ریاست اپنے محسنوں کو فراموش نہیں کرتی، یہی احساس معاشرے میں قومی یکجہتی، اعتماد اور خدمت کے جذبے کو فروغ دیتا ہے پاکستان میں بھی ہر سال یومِ پاکستان کے موقع پر مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کیلئے سول اعزازات کا اعلان کیا جاتا ہے اور بعد ازاں ایوانِ صدر میں باوقار تقریب کے دوران انہیں یہ اعزازات دئیے جاتے ہیں یہ روایت برقرار رہنی چاہیے بلکہ اسے مزید شفاف، مؤثر اور وسیع بنایا جانا چاہیے تاکہ ہر وہ شخص جو ملک کیلئے غیر معمولی خدمات انجام دے، اس کی حوصلہ افزائی ہو سکے محمد سعید شیخ نے اعزاز حاصل کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مستقبل میں بھی پاکستان کی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ، فلاحی سرگرمیوں اور اوورسیز پاکستانیوں کی خدمت کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے یہی وہ جذبہ ہے جو حقیقی قیادت اور ذمہ دار شہری کی پہچان ہوتا ہے اعزاز حاصل کرنے کے بعد ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں کیونکہ لوگ ایسے افراد کو اپنا رول ماڈل سمجھتے ہیں امید کی جانی چاہیے کہ محمد سعید شیخ آئندہ بھی اسی جذبے کے ساتھ وطن عزیز کیلئے خدمات انجام دیتے رہیں گے اور دوسرے اوورسیز پاکستانی بھی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستان کی معاشی اور سماجی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں گے آج پاکستان کو ایسے ہی کرداروں کی ضرورت ہے جو اختلافات سے بالاتر ہو کر صرف ملک کی ترقی کو اپنی منزل بنائیں سرمایہ کاری، تعلیم، صحت، فلاح، ٹیکنالوجی، صنعت اور عالمی روابط جیسے شعبوں میں اگر اہل اور مخلص افراد آگے بڑھیں تو پاکستان اپنی بے شمار صلاحیتوں کو عملی کامیابی میں بدل سکتا ہے ریاست کا فرض ہے کہ وہ ایسے افراد کی عزت افزائی کرے، جبکہ معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھے محمد سعید شیخ کو دیا جانے والا ستارۂ خدمت اس حقیقت کا مظہر ہے کہ وطن کی خدمت صرف سرکاری منصب پر رہ کر نہیں بلکہ کاروبار، سماجی خدمت، سرمایہ کاری، دیانت داری اور قومی وقار کے فروغ کے ذریعے بھی کی جا سکتی ہے یہی پیغام آج کی نوجوان نسل کیلئے سب سے زیادہ اہم ہے کہ کامیابی صرف دولت کمانے کا نام نہیں بلکہ اپنی کامیابی کو قوم کی ترقی، عوام کی خوشحالی اور پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے وقف کرنا ہی اصل کامیابی اور حقیقی خدمت ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں