ابراہیمی معاہدہ (Abrahamic Accord)پاکستان کیلئے اس میں شمولیت کی اہمیت،حکمت عملی ،تعارف اور پس منظر

سال 2020ء میں دستخط ہونے والا ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ مشرقِ وسطیٰ کی جدید تاریخ میں ایک بہت بڑا جیو پولیٹیکل موڑ ثابت ہوا ہے اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات (UAE) بحرین، مراکش اور سوڈان جیسے مسلم اکثریتی ممالک نے اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی اور تجارتی تعلقات کو باضابطہ طور پر استوار کیا اس بدلتے ہوئے علاقائی منظر نامے نے پاکستان کیلئے بھی ایک پیچیدہ اور اہم سوال کھڑا کر دیا ہے،کیا پاکستان کو اپنی روایتی خارجہ پالیسی پر قائم رہنا چاہیے، یا ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کے امکانات پر غور کرنا چاہیے؟موجودہ دور میں جہاں عالمی سیاست نظریات سے زیادہ معاشی اور تزویراتی مفادات کے گرد گھومتی ہے، اس معاہدے کا حصہ بننا یا اس کے ساتھ فعال روابط قائم کرنا پاکستان کیلئے کئی لحاظ سے اہمیت کا حامل ہو سکتا ہےپاکستان اس وقت ایک طویل مدتی معاشی بحران سے گزر رہا ہے، جہاں اسے بیرونی سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کی اشد ضرورت ہے۔ ابراہیمی معاہدے میں بالواسطہ یا بلاواسطہ شمولیت پاکستان کیلئے درج ذیل معاشی راہیں کھول سکتی ہے۔متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب (جو کہ خود خطے میں ان تبدیلیوں کا گہرائی سے جائزہ لے رہا ہے) اب اپنی سرمایہ کاری کو ان ممالک سے جوڑ رہے ہیں جو علاقائی امن اور تجارتی روابط کے حامی ہیں۔
اسرائیل زراعت، پانی کی بچت (Water Management) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT) میں دنیا کے صفِ اول کے ممالک میں شامل ہے۔ پاکستان، جو کہ ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود پانی کی قلت اور کم پیداوار کا شکار ہے ان تکنیکی مہارتوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے درمیان نئے تجارتی راستوں کی تشکیل سے پاکستان خود کو ایک اہم اقتصادی مرکز کے طور پر پیش کر سکتا ہے۔
خلیجی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کا تحفظ پاکستان کے معاشی اور دفاعی مفادات تاریخی طور پر خلیجی ممالک، بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ لاکھوں پاکستانی مشرقِ وسطیٰ میں مقیم ہیں جو ہر سال اربوں ڈالر کا زرِ مبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں جو ہماری معیشت کی لائف لائن ہے۔ جیسے جیسے خلیجی ممالک کے مفادات اسرائیل کے ساتھ تجارتی اور سکیورٹی تعاون میں بڑھ رہے ہیں پاکستان کا مکمل تنہا رہ جانا یا اس عمل سے دور رہنا طویل مدتی بنیادوں پر خلیج میں اس کے اثر و رسوخ کو کمزور کر سکتا ہے۔ معاہدے کے فریم ورک کو سمجھنا اور اس کے ساتھ ہم آہنگ ہونا پاکستان کو اپنے ان دیرینہ دوستوں کے بلاک میںموجود رکھے گا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک بڑا چیلنج بھارت کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا ہے۔ بھارت نے حالیہ برسوں میں مشرقِ وسطیٰ اور اسرائیل دونوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو بے پناہ مضبوط کیا ہے ۔اگر پاکستان اس نئے علاقائی نیٹ ورک سے بالکل باہر رہتا ہے، تو یہ میدان مکمل طور پر بھارت کے ہاتھ میں چلا جائے گا جس سے پاکستان کے خلاف سفارتی پراپیگنڈے کو تقویت مل سکتی ہے۔ ابراہیمی معاہدے کے ماحول میں شمولیت یا اس کے ساتھ سمارٹ سفارت کاری کے ذریعے پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں بھارت کے یکطرفہ اثر و رسوخ کو متوازن کر سکتا ہے۔
ایک روائتی سوچ یہ ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے مسئلۂ فلسطین کمزور پڑ جائے گا تاہم، ایک دوسرا سفارتی نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ میز سے باہر بیٹھ کر آپ فیصلے پر اثر انداز نہیں ہو سکتے۔متحدہ عرب امارات اور مراکش جیسے ممالک نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی چینلز کھلے رکھ کر وہ فلسطینیوں کے حقوق اور دو ریاستی حل (Two-State Solution) کیلئے زیادہ مؤثر طریقے سے بات چیت کر سکتے ہیں۔
ایک اہم مسلم جوہری طاقت ہونے کے ناطے، اگر پاکستان اس وسیع تر علاقائی فریم ورک کا حصہ بنتا ہے، تو وہ خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر فلسطینیوں کے سیاسی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے زیادہ مضبوط سفارتی دباؤ ڈالنے کی پوزیشن میں آ سکتا ہے۔یہ فیصلہ جتنا تزویراتی طور پر اہم ہے، داخلی سطح پر اتنا ہی حساس بھی ہے۔ پاکستان کے اندر شدید عوامی اور سیاسی جذبات مسئلۂ فلسطین کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح کا اصول پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون رہا ہے۔اس لئے، پاکستان کیلئے اچانک یا یکطرفہ فیصلہ کرنا ممکن نہیں ہوگاتاہم، وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان کے ذریعے ان ممالک کے تجربات کا مطالعہ کرے جنہوں نے اس معاہدے پر دستخط کئے۔اپنے قومی مفاد (معیشت اور سکیورٹی) کو اولیت دیتے ہوئے آہستہ آہستہ جذباتیت کے بجائے حقیقت پسندانہ خارجہ پالیسی کی طرف قدم بڑھائے۔
موجودہ صدی میں جیواکانومکس (Geoeconomics) نے جیوپولیٹکس کی جگہ لے لی ہے۔ ابراہیمی معاہدہ محض چند ممالک کا اتحاد نہیں، بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی معاشی اور سیکیورٹی کی نئی ترتیب ہے۔ پاکستان اگر دنیا کی پانچویں بڑی آبادی اور ایک اہم سکیورٹی پلیئر کے طور پر اپنی اہمیت برقرار رکھنا چاہتا ہے، تو اسے بدلتے ہوئے عالمی اصولوں کے ساتھ خود کو ڈھالنا ہوگا، ورنہ معاشی تنہائی اور تزویراتی نقصان کا خطرہ بڑھتا چلا جائے گا۔



