امریکہ اور ایران کشیدگی: عالمی سیاست کا پیچیدہ اور مسلسل بدلتا ہوا محاذ

تحریر:محمود احمد
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی سیاست کا ایک اہم اور پیچیدہ باب بنی ہوئی ہے جس میں وقتاً فوقتاً شدت بھی آتی ہے اور وقتی طور پر کمی بھی دیکھنے کو ملتی ہے مگر بنیادی تنازع اپنی جگہ برقرار رہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب بھی مشرق وسطیٰ میں کوئی نیا بحران جنم لیتا ہے تو اس کے پس منظر میں امریکی اور ایرانی تعلقات کی کشمکش کو ضرور دیکھا جاتا ہے کیونکہ یہ دونوں ریاستیں نہ صرف اپنے خطوں بلکہ عالمی طاقت کے توازن پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں اور ان کے درمیان اختلافات صرف سفارتی سطح تک محدود نہیں بلکہ ان میں نظریاتی، اسٹریٹیجک، معاشی اور عسکری پہلو بھی شامل ہیں امریکہ ایک عالمی سپر پاور کے طور پر اپنے اتحادی نظام اور بین الاقوامی مفادات کے تحت مشرق وسطیٰ میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنا چاہتا ہے جبکہ ایران ایک علاقائی طاقت کے طور پر اپنی خودمختاری، نظریاتی نظام اور سکیورٹی خدشات کے تحت اپنی پالیسیوں کو تشکیل دیتا ہے اور یہی دو مختلف زاوئیے اس کشمکش کو مستقل پیچیدگی میں بدل دیتے ہیں تاریخی طور پر دیکھا جائے تو 1979 کا ایرانی انقلاب اس تعلقات میں بنیادی موڑ تھا جب ایران میں شاہی نظام کا خاتمہ ہوا اور ایک مذہبی و انقلابی نظام قائم ہوا جس کے بعد امریکہ اور ایران کے تعلقات یکسر تبدیل ہو گئے اور اعتماد کی جگہ بداعتمادی نے لے لی اور اس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان مختلف ادوار میں براہ راست اور بالواسطہ تصادم کے حالات پیدا ہوتے رہے ہیں جن میں سفارتی بحران، اقتصادی پابندیاں، خطے میں پراکسی تنازعات اور سکیورٹی محاذ آرائی شامل ہیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایران پر امریکی پابندیاں سخت ہوتی گئیں اور ایران نے بھی اپنی دفاعی اور علاقائی حکمت عملی میں مزاحمتی پالیسی کو فروغ دیا جس کے تحت اس نے مختلف خطوں میں اپنے اتحادی گروہوں کے ذریعے اثر و رسوخ بڑھایا جبکہ امریکہ نے اپنے اتحادی ممالک جیسے اسرائیل، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعلقات مضبوط کئےتاکہ ایران کے اثر کو متوازن رکھا جا سکے اس پورے منظر نامے میں سب سے اہم عنصر توانائی یعنی تیل اور گیس کی عالمی سیاست ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ دنیا کے توانائی کے بڑے ذخائر رکھتا ہے اور ایران آبنائے ہرمز جیسے اہم آبی راستے کے قریب واقع ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اس لئے اس خطے میں کسی بھی کشیدگی کا اثر عالمی معیشت پر فوری طور پر پڑتا ہے اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملتا ہے اسی طرح سائبر جنگ، انٹیلی جنس سرگرمیاں اور خفیہ آپریشنز بھی اس کشمکش کا حصہ بن چکے ہیں جہاں کھلے جنگی محاذ کے بجائے زیادہ تر لڑائی غیر مرئی انداز میں لڑی جاتی ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو محدود کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالیہ برسوں میں ایران کے جوہری پروگرام نے اس کشیدگی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے کیونکہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی طرف بڑھ سکتا ہے جبکہ ایران مسلسل یہ موقف اختیار کرتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کیلئے ہے اور توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ہے تاہم اس معاملے پر اعتماد کا فقدان دونوں طرف سے گہرا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی معاہدے جیسے کہ جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن یعنی JCPOA بھی مکمل طور پر مستحکم نہیں رہ سکے اور ان پر عمل درآمد کے حوالے سے اختلافات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں خطے کی سیاست میں اسرائیل کا کردار بھی انتہائی اہم ہے کیونکہ اسرائیل ایران کو اپنا سب سے بڑا سکیورٹی خطرہ تصور کرتا ہے اور امریکہ کے ساتھ اس کا قریبی دفاعی تعاون ایران کے خلاف ایک مضبوط پالیسی فریم ورک تشکیل دیتا ہے جبکہ ایران فلسطینی کاز کی حمایت اور اسرائیل کی پالیسیوں کی مخالفت کے ذریعے اپنے علاقائی مؤقف کو واضح کرتا ہے اسی طرح خلیجی ممالک بھی اپنی سکیورٹی کے حوالے سے امریکہ پر
انحصار کرتے ہیں اور ایران کے ساتھ ان کے تعلقات اکثر کشیدہ رہتے ہیں لیکن حالیہ برسوں میں کچھ سفارتی کوششیں بھی سامنے آئی ہیں جن میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بہتری کی مثال شامل ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ خطے میں مکمل تصادم کے بجائے سفارت کاری کے امکانات بھی موجود ہیں مگر یہ امکانات اس وقت تک مکمل طور پر مستحکم نہیں ہو سکتے جب تک امریکہ اور ایران کے درمیان بنیادی اعتماد بحال نہ ہو جائے عالمی طاقتوں جیسے روس اور چین کا کردار بھی اس کشمکش میں بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ یہ دونوں ممالک ایران کے ساتھ مختلف سطحوں پر اقتصادی اور اسٹریٹیجک تعاون رکھتے ہیں اور اس طرح عالمی سیاست ایک کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں کسی ایک طاقت کا مکمل غلبہ ممکن نہیں رہا اور یہی صورتحال امریکہ اور ایران کی پالیسیوں کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے اقتصادی لحاظ سے ایران پر امریکی پابندیوں نے اس کی معیشت پر گہرے اثرات ڈالے ہیں جن میں تیل کی برآمدات میں کمی، مالیاتی نظام کی مشکلات اور بین الاقوامی تجارت میں رکاوٹیں شامل ہیں جبکہ ایران نے ان پابندیوں کے باوجود اپنی اندرونی معیشت کو سہارا دینے اور متبادل تجارتی راستے تلاش کرنے کی کوشش کی ہے دوسری طرف امریکہ نے پابندیوں کو ایک دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے تاکہ ایران کی پالیسیوں میں تبدیلی لائی جا سکے لیکن اس کے نتائج ہمیشہ یکساں نہیں رہے اور بعض اوقات اس کے برعکس ردعمل بھی سامنے آیا ہے خطے میں پراکسی جنگوں کا عنصر بھی انتہائی اہم ہے کیونکہ شام، عراق، یمن اور لبنان جیسے ممالک میں مختلف گروہوں کی موجودگی نے اس کشمکش کو براہ راست ریاستی تصادم کے بجائے غیر ریاستی عناصر کے ذریعے ایک پیچیدہ جنگ میں بدل دیا ہے جہاں ہر طرف مختلف اتحاد اور مفادات کارفرما ہیں اور اس صورتحال نے امن کے امکانات کو مزید مشکل بنا دیا ہے سکیورٹی ماہرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان مکمل جنگ کا امکان اگرچہ کم سمجھا جاتا ہے لیکن محدود جھڑپیں یا کسی بھی غلط فہمی کی صورت میں کشیدگی میں اضافہ ہمیشہ ایک حقیقی خطرہ رہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دونوں فریق اکثر پیغام رسانی، بالواسطہ مذاکرات اور بین الاقوامی ثالثی کے ذریعے بحران کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں مستقبل کے منظر نامے میں یہ سوال اہم ہے کہ کیا یہ دونوں ممالک کسی بڑے معاہدے کی طرف بڑھ سکتے ہیں یا پھر موجودہ کشمکش مزید طویل اور پیچیدہ شکل اختیار کرے گی اس کا انحصار نہ صرف ان دونوں ممالک کی داخلی سیاست پر ہے بلکہ عالمی طاقتوں کے توازن، توانائی کی ضروریات، علاقائی اتحادوں اور سکیورٹی خدشات پر بھی ہے اور یہی تمام عوامل اس تعلقات کو ایک مسلسل بدلتی ہوئی کیفیت میں رکھتے ہیں جس میں کبھی کشیدگی بڑھتی ہے اور کبھی وقتی سکون پیدا ہوتا ہے مگر بنیادی تنازع اپنی جگہ قائم رہتا ہے اور عالمی نظام میں اس کے اثرات مسلسل محسوس کئے جاتے ہیں۔



