امریکہ ایران مذاکرات: سوئٹزرلینڈ میں نئی سفارتی صف بندی امکانات، خطرات اور عالمی اثرات

US-Iran talks New diplomatic alignment in Switzerland prospects, risks and global implications

امریکہ اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاک میں ہونیوالے اعلیٰ سطح تکنیکی مذاکرات کا پہلا سیشن محض ایک معمول کی سفارتی نشست نہیں بلکہ ایک ایسے نازک عالمی موڑ کی علامت ہے جہاں برسوں سے جاری دشمنی، پابندیوں، جوہری تنازع اور علاقائی پراکسی جنگوں کے درمیان ایک نئی راہ تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہونے والا یہ عمل اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس میں نہ صرف دو بڑے مخالف ممالک ایک ہی میز پر تکنیکی سطح پر بیٹھے ہیں بلکہ ایک منظم فریم ورک کے تحت آئندہ 60 دنوں میں حتمی معاہدے تک پہنچنے کی حکمت عملی بھی طے کی گئی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ پیش رفت واقعی پائیدار امن کی بنیاد رکھ سکتی ہے یا یہ بھی ماضی کی ناکام کوششوں کی طرح ایک اور وقتی وقفہ ثابت ہوگااس مذاکراتی ڈھانچے میں سب سے اہم پیش رفت ایک اعلیٰ سطح کمیٹی کا قیام ہے جو پورے ثالثی عمل کی سیاسی نگرانی کرے گی اس کمیٹی کو چیف مذاکرات کار باقاعدگی سے رپورٹ پیش کریں گے اور ساتھ ہی جوہری امور، پابندیوں کے نظام، نگرانی کے طریقہ کار اور تنازعات کے حل کیلئے ورکنگ گروپس بھی تشکیل دئیے جائینگے اس پورے فریم ورک کا مقصد یہ ہے کہ مذاکرات محض بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ ایک عملی اور قابلِ عمل معاہدے کی طرف بڑھ سکیں مزید برآں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کیلئے رابطہ لائن کا قیام بھی اس بات کی علامت ہے کہ فریقین فوری خطرات کو کم کرنے پر بھی آمادہ نظر آتے ہیںاس پیش رفت کا سب سے بڑا ممکنہ فائدہ عالمی سطح پر توانائی کے استحکام کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل ترسیلی گزرگاہ ہے اور عالمی تیل کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم ہوتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال کم ہو سکتی ہے اور عالمی معیشت کو ایک حد تک استحکام مل سکتا ہے اسی طرح خطے میں پراکسی جنگوں کے امکانات میں کمی بھی ایک بڑا فائدہ ہو سکتا ہے کیونکہ ایران اور امریکا کی دشمنی براہ راست نہیں بلکہ لبنان، شام، یمن اور عراق جیسے ممالک میں بالواسطہ تصادم کی شکل اختیار کرتی رہی ہےمزید برآں اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو ایران پر عائد سخت اقتصادی پابندیوں میں نرمی کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں جس سے اس کی معیشت کو بحالی کا موقع ملے گا ایک بڑی آبادی والا ملک طویل عرصے سے معاشی دباؤ کا شکار ہے اور کسی بھی قسم کی سفارتی پیش رفت اس کیلئے ریلیف کا باعث بن سکتی ہے اسی طرح امریکہ کیلئے بھی یہ ایک سٹریٹجک موقع ہوگا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں اپنی پالیسی کو ایک نئے انداز سے تشکیل دے سکے اور براہ راست فوجی تصادم کے بجائے سفارتکاری کے ذریعے اپنے اہداف حاصل کرےپاکستان اور قطر کیلئے یہ پیش رفت سفارتی سطح پر غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ دونوں ممالک اس عمل میں ثالث کے طور پر سامنے آئے ہیں پاکستان کیلئے یہ موقع ہے کہ وہ عالمی سفارت کاری میں اپنا کردار مزید مضبوط کرے اور خود کو ایک ذمہ دار علاقائی طاقت کے طور پر منوا سکے۔ قطر پہلے ہی مختلف عالمی تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے اور اس نئے عمل سے اس کی سفارتی حیثیت مزید مستحکم ہو سکتی ہےتاہم اس پورے عمل کے ساتھ کئی سنگین خدشات بھی جڑے ہوئے ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا سب سے بڑا خطرہ داخلی سیاسی مخالفت کا ہے امریکہ میں مختلف سیاسی گروہ ایران کے ساتھ کسی بھی نرم روئیے کی مخالفت کر سکتے ہیں جبکہ ایران کے اندر بھی سخت گیر عناصر کسی بھی سمجھوتے کو قومی خودمختاری کے خلاف سمجھ سکتے ہیں ایسے میں کسی بھی ممکنہ معاہدے پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہےدوسرا بڑا خدشہ یہ ہے کہ یہ مذاکرات ماضی کی طرح ایک عارضی حل ثابت نہ ہوں پہلے بھی ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے ہوئے لیکن سیاسی تبدیلیوں اور اعتماد کی کمی کے باعث وہ دیرپا ثابت نہ ہو سکے اگر
اس بار بھی بنیادی اختلافات یعنی جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور پابندیوں کے مسئلے حل نہ ہوئے تو یہ پورا فریم ورک دوبارہ تعطل کا شکار ہو سکتا ہےعلاقائی سطح پر بھی اس معاہدے کے اثرات پیچیدہ ہو سکتے ہیںکچھ علاقائی طاقتیں ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی مفاہمت کو اپنے اسٹریٹجک مفادات کے خلاف سمجھ سکتی ہیں جس سے خطے میں نئے اتحاد اور نئی کشیدگیاں جنم لے سکتی ہیں اسی طرح لبنان، یمن اور شام جیسے ممالک میں موجود غیر ریاستی گروہ کسی بھی معاہدے کو اپنے اثر و رسوخ کے خاتمے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں جس سے زمینی سطح پر تشدد کے نئے خدشات پیدا ہو سکتے ہیںآبنائے ہرمز کے حوالے سے بنایا گیا رابطہ لائن میکانزم اگرچہ ایک مثبت پیش رفت ہے لیکن اس کی عملی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ دونوں فریق کس حد تک اعتماد قائم رکھ سکتے ہیں ماضی میں ایسے اعتماد سازی کے اقدامات اکثر وقتی ثابت ہوئے ہیں کیونکہ کسی بھی چھوٹے واقعے نے پورے عمل کو متاثر کر دیالبنان کے حوالے سے ڈی کنفلکشن سیل کا قیام بھی ایک اہم پیش رفت ہے لیکن یہ اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتا جب تک زمینی سطح پر مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے کا کوئی واضح اور قابلِ عمل طریقہ موجود نہ ہو، صرف سفارتی سطح پر فیصلے اکثر زمینی حقائق کو تبدیل نہیں کر پاتےاس تمام صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ مذاکرات واقعی ایک نئے عالمی سفارتی نظام کی طرف اشارہ ہیں یا یہ صرف ایک وقتی دباؤ کا نتیجہ ہیں جہاں دونوں فریق وقتی طور پر کشیدگی کم کرنا چاہتے ہیں عالمی سیاست میں طاقت کے توازن، اقتصادی دباؤ اور علاقائی مفادات ہمیشہ اہم کردار ادا کرتے ہیں اس لئے کسی بھی معاہدے کی کامیابی صرف دستخطوں پر نہیں بلکہ عملی نفاذ پر منحصر ہوگی آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ برگن سٹاک مذاکرات ایک امید کی کرن ضرور ہیں لیکن یہ کرن ابھی مکمل روشنی میں تبدیل نہیں ہوئی 60 روزہ روڈ میپ ایک سخت امتحان ہے جو نہ صرف امریکا اور ایران بلکہ ثالث ممالک کیلئے بھی ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ اگر یہ عمل کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے لیکن اگر ناکام ہوا تو یہ خطہ ایک بار پھر اسی پرانی کشیدگی اور عدم استحکام کی طرف لوٹ سکتا ہے جس سے نکلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
محمود احمد

اپنا تبصرہ بھیجیں