آبنائے ہرمز،پابندیاں، طاقت کی سیاست اور عالمی معیشت کا مستقبل

آبنائے ہرمز،پابندیاں، طاقت کی سیاست اور عالمی معیشت کا مستقبل


آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی سیاست، سلامتی اور معیشت کے مرکز میں آ کھڑی ہوئی ہے یورپی یونین کی جانب سے ایران پر نئی پابندیوں کے اعلان نے نہ صرف خلیج فارس میں جاری کشیدگی کو نمایاں کیا ہے بلکہ یہ سوال بھی پیدا کر دیا ہے کہ آیا موجودہ عالمی نظام میں پابندیاں واقعی مسائل کا حل ہیں یا صرف سیاسی دباؤ کا ایک ذریعہ، دنیا کی توانائی کی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی تنگ سمندری گزرگاہ سے گزرتا ہے، اس لئے یہاں پیدا ہونے والی ہر بے یقینی عالمی منڈیوں، سرمایہ کاروں اور حکومتوں کیلئے تشویش کا باعث بن جاتی ہےآبنائے ہرمز کی اہمیت محض ایک جغرافیائی راستے تک محدود نہیں بلکہ یہ عالمی معیشت کی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے خلیجی ممالک کی تیل اور گیس کی برآمدات کا بڑا حصہ اسی راستے سے دنیا تک پہنچتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس خطے میں معمولی کشیدگی بھی تیل کی قیمتوں، سپلائی چین اور بین الاقوامی تجارت پر فوری اثرات مرتب کرتی ہے روس،یوکرین جنگ کے بعد توانائی کے بحران کا سامنا کرنے والا یورپ اب پہلے سے زیادہ حساس ہو چکا ہے اور خلیج فارس کے استحکام کو اپنی اقتصادی سلامتی سے جوڑ کر دیکھ رہا ہےیورپی یونین کی نئی پابندیوں کو اسی تناظر میں سمجھنا ضروری ہے یورپ کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی بحری آمدورفت کا تحفظ عالمی ذمہ داری ہے اور کسی بھی ایسی سرگرمی کی حوصلہ شکنی ضروری ہے جو عالمی تجارت کیلئے خطرہ بن سکتی ہو دوسری جانب ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کی سلامتی اس کی قومی سلامتی کا حصہ ہے اور خطے میں بیرونی فوجی موجودگی کشیدگی کو بڑھاتی ہے دونوں مؤقف اپنی اپنی جگہ موجود ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان کے درمیان اعتماد کا فقدان مسلسل بڑھ رہا ہےگزشتہ چند دہائیوں کا تجربہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ پابندیاں ہمیشہ اپنے سیاسی مقاصد حاصل نہیں کر پاتیں ایران ان ممالک میں شامل ہے جن پر سب سے زیادہ اقتصادی اور سفارتی پابندیاں عائد کی گئیں، لیکن ان اقدامات کے باوجود اس کی علاقائی اور تزویراتی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی نہیں آ سکی اس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ پابندیاں بعض اوقات مسئلے کے حل کے بجائے فریقین کے درمیان فاصلے مزید بڑھا دیتی ہیں اگر پابندیوں کیساتھ سفارتی راستے کھلے نہ رکھے جائیں تو کشیدگی میں کمی کے امکانات محدود ہو جاتے ہیںاس معاملے کا ایک اہم پہلو عالمی سیاست میں طاقت کے توازن کی تبدیلی بھی ہے سرد جنگ کے بعد طویل عرصے تک مغربی ممالک عالمی فیصلوں پر غالب رہے لیکن اب چین، روس، بھارت اور دیگر ابھرتی ہوئی طاقتیں عالمی نظام میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر رہی ہیں ایسے ماحول میں یکطرفہ دباؤ یا پابندیوں کی افادیت پہلے جیسی نہیں رہی، کئی ممالک متبادل مالیاتی اور تجارتی نظاموں کی طرف بڑھ رہے ہیں، جس سے پابندیوں کے عملی اثرات محدود ہو سکتے ہیںمشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو صرف ایران اور یورپی یونین کے تناظر میں دیکھنا بھی کافی نہیں، اس خطے میں امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب، چین اور روس سمیت متعدد طاقتوں کے مفادات موجود ہیں توانائی، سلامتی، تجارت اور جغرافیائی اثرورسوخ کی یہ کشمکش آبنائے ہرمز کو ایک ایسے مقام میں تبدیل کر چکی ہے جہاں علاقائی تنازعات اور عالمی مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہاں پیدا ہونے والی ہر کشیدگی عالمی سطح پر توجہ حاصل کرتی ہےعالمی معیشت بھی اس وقت کسی نئے بحران کی متحمل نہیں ہو سکتی کووڈ کے بعد بحالی کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا، سپلائی چین کے مسائل کئی جگہ برقرار ہیں اور متعدد ترقی پذیر ممالک قرضوں اور مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات صرف تیل تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تجارت، بحری نقل و حمل، صنعتی پیداوار اور مالیاتی منڈیوں تک پھیل سکتے ہیں سب سے زیادہ متاثر وہ ممالک ہوں گے جو توانائی کی درآمدات پر انحصار کرتے ہیںپاکستان کیلئے بھی یہ صورتحال خصوصی اہمیت رکھتی ہے توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافہ
براہِ راست ملکی معیشت، زرمبادلہ کے ذخائر، درآمدی بل اور عوامی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے اس لئے پاکستان سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک کیلئے ضروری ہے کہ وہ متبادل توانائی کے ذرائع، علاقائی تعاون اور اقتصادی استحکام کی پالیسیوں پر زیادہ توجہ دیں تاکہ عالمی جھٹکوں کے اثرات کو کم کیا جا سکےحقیقت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کا مسئلہ صرف ایک سمندری راستے کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی نظام کی پیچیدگیوں کی عکاسی کرتا ہے یہاں طاقت کی سیاست، توانائی کی ضروریات، قومی سلامتی کے خدشات اور اقتصادی مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ایسے حالات میں صرف پابندیاں یا صرف سخت بیانات دیرپا استحکام فراہم نہیں کر سکتے پائیدار حل کے لیے سفارت کاری، اعتماد سازی، علاقائی مکالمہ اور بین الاقوامی قوانین کی غیر جانبدارانہ پاسداری ناگزیر ہےآج دنیا کو طاقت کے مظاہرے سے زیادہ دانشمندانہ قیادت کی ضرورت ہے آبنائے ہرمز میں استحکام صرف خطے کے ممالک کیلئے نہیں بلکہ پوری عالمی معیشت کیلئے ضروری ہے اگر فریقین محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دیتے ہیں تو کشیدگی کو کم کیا جا سکتا ہے لیکن اگر سیاسی دباؤ اور جوابی اقدامات کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے اثرات آنے والے برسوں تک عالمی سیاست اور معیشت پر محسوس کیے جاتے رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں