مولانا فضل الرحمان کو اگر حکومت میں حصہ ملتا تو وہ چپ کا روزہ رکھتے، گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی

مولانا فضل الرحمان کو اگر حکومت میں حصہ ملتا تو وہ چپ کا روزہ رکھتے، گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی

خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو اگر حکومت میں حصہ ملتا تو وہ پھر چپ کا روزہ رکھتے لیکن کبھی کبھی ثواب کا روزہ بھی رکھنا چاہیے جبکہ صوبے میں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں تاہم ابھی فل فلیج آپریشن کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔پشاور کے نجی ہوٹل میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے 13 سال کا گند 13 روز میں صاف نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، گزشتہ روز نادرا دفتر کے سامنے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے قتل کی تحقیقات جاری ہیں، اس قتل میں جو کوئی بھی ملوث ہوگا، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ پولیو ٹیم کی بازیابی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں جب بھی پولیو کے خاتمے کے لیے مہم شروع کی جاتی ہے، پولیو ورکرز پر حملے کیے جاتے ہیں، افغانستان میں پولیو کے کیسز بھی اصافہ ہوا ہے، اب خیبرپختونخوا پر بھی اس کے اثرات پڑ رہے ہیں۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سابقہ حکومت میں کرپشن کے کیسز سامنے آئے ہیں، اب اس کی مکمل تحقیقات ہو رہی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ جو بھی اس میں ملوث ہوں ان کے خلاف ٹھوس ثبوت ہوں تاکہ کسی بے گناہ کو سزا نہ ہو یہی وجہ ہے کہ ہر محکمے میں کی گئی کرپشن کی انکوائری کررہے ہیں۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا بہت احترام کرتے ہیں لیکن انہیں حکومت میں حصہ نہیں ملا جس پر وہ ناراض ہیں وہ خود کہتے ہیں کہ اس کے بغیر نہ کوئی حکومت قائم ہو سکتی ہے اور نہ چل سکتی ہے، اب اگر کوئی حکومت اس کے بغیر چل رہی ہے تو وہ واویلا کیوں کررہے ہیں مجھ سے پہلے انہوں نے کس کو گورنر لگایا تھا وہ سب کو معلوم ہے، کبھی کبھی ثواب کا روزہ بھی رکھنا چاہیے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں