14 اگست،79 برس کا سفر پاکستان نے کیا کھویا، کیا پایا اور اب کہاں کھڑا ہے؟

August 14—a journey of 79 years What has Pakistan lost, what has it gained, and where does it stand now

14 اگست صرف کیلنڈر پر لکھی ہوئی ایک تاریخ نہیں یہ برصغیر کے مسلمانوں کی ایک طویل جدوجہد، قربانیوں، ہجرتوں، خوابوں اور امیدوں کی علامت ہے 14 اگست 1947 کو پاکستان ایک آزاد ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا اس وقت شاید کسی نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ یہ نوزائیدہ ملک آنے والی دہائیوں میں کتنے نشیب و فراز سے گزرے گا کتنے بحرانوں کا مقابلہ کرے گا کتنی جنگیں لڑے گا کتنے سیاسی تجربات کرے گا اور کتنی بار اپنے ہی بنائے ہوئے راستوں پر سوال اٹھائے گا آج 14 اگست 2026 کو ہم پاکستان کے قیام کے 79 سال مکمل ہونے پر جشن منا رہے ہیں گھروں، بازاروں، سرکاری عمارتوں اور شاہراہوں کو سبز ہلالی پرچموں سے سجایا جا رہا ہے بچے ملی نغمے گا رہے ہیں نوجوان موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں پر پرچم لہرا رہے ہیں تقریبات منعقد ہو رہی ہیں اور ہر طرف ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کی صدائیں سنائی دے رہی ہیں لیکن ایک سنجیدہ سوال بھی ہمارے سامنے کھڑا ہے 79 سال میں ہم نے کیا پایا اور کیا کھویا؟ یہ سوال پاکستان سے محبت کے خلاف نہیں بلکہ پاکستان سے حقیقی محبت کا تقاضا ہےپاکستان جب معرض وجود میں آیا تو اس کے پاس وسائل محدود تھے نہ مناسب صنعتی ڈھانچہ تھا، نہ مضبوط انفراسٹرکچر، نہ بڑی معاشی بنیاد، نہ تربیت یافتہ افرادی قوت اور نہ ہی وہ انتظامی سہولیات جو ایک جدید ریاست کیلئے ضروری ہوتی ہیں اس کے باوجود پاکستان نے اپنے ابتدائی برسوں میں قابل ذکر کامیابیاں حاصل کیں ادارے قائم ہوئے، صنعت کا آغاز ہوا، دفاعی صلاحیت مضبوط ہوئی، زرعی پیداوار میں اضافہ ہوا اور ملک نے اپنی شناخت دنیا میں قائم کی، بعد کے برسوں میں پاکستان نے ایٹمی صلاحیت حاصل کی، میزائل ٹیکنالوجی میں ترقی کی، آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی، بڑی شاہراہیں اور موٹرویز بنیں، شہروں میں انفراسٹرکچر پھیلا اور لاکھوں نوجوانوں نے دنیا بھر میں پاکستانی صلاحیتوں کا لوہا منوایاآج دنیا کے مختلف ممالک میں پاکستانی ڈاکٹرز، انجینئرز، سائنس دان، کاروباری افراد، آئی ٹی ماہرین، اساتذہ اور دیگر شعبوں سے وابستہ افراد اپنی قابلیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں پاکستان کے پاس دنیا کی بڑی نوجوان آبادی ہے یہ آبادی اگر تعلیم، ہنر اور روزگار کے مناسب مواقع حاصل کرے تو پاکستان کیلئے ایک بہت بڑی معاشی طاقت بن سکتی ہےسب سے پہلے ہمیں اپنی کامیابیوں کا اعتراف کرنا چاہیے پاکستان نے دفاع کے میدان میں ایک قابل ذکر مقام حاصل کیا 1998 میں ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان دنیا کی ایٹمی طاقتوں میں شامل ہوا اس کامیابی نے ملکی دفاعی حکمت عملی کو ایک نئی سمت دی، پاکستان نے زراعت میں بھی اہم کردار ادا کیا گندم، چاول، کپاس، گنے اور دیگر فصلوں کی پیداوار نے ملکی معیشت کو کئی دہائیوں تک سہارا دیا ٹیکسٹائل پاکستان کی اہم برآمدی صنعت بنی اور پاکستانی مصنوعات عالمی منڈیوں تک پہنچیں، تعلیم کے میدان میں اگرچہ ہمارے مسائل بہت بڑے ہیں لیکن جامعات، میڈیکل کالجز، انجینئرنگ اداروں اور نجی تعلیمی اداروں کے پھیلاؤ نے ایک بڑی تعلیم یافتہ نسل پیدا کی،آئی ٹی کے شعبے میں پاکستان کے نوجوانوں نے خاص طور پر اپنی صلاحیت ثابت کی ہے فری لانسنگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ای کامرس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ٹیکنالوجی کے دوسرے شعبوں میں پاکستانی نوجوان عالمی مارکیٹ کا حصہ بن رہے ہیں پاکستان نے کھیلوں میں بھی دنیا کو بڑے نام دئیے، کرکٹ میں 1992 کا ورلڈ کپ، 2009 کا ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ اور دیگر کامیابیاں قومی تاریخ کا حصہ ہیں ہاکی، سکواش اور دیگر کھیلوں میں بھی پاکستان نے عالمی سطح پر اپنا نام بنایا لیکن شاید پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کا عام شہری ہے وہ پاکستانی جو مشکل معاشی حالات کے باوجود اپنے بچوں کو پڑھاتا ہے بیرون ملک جا کر محنت کرتا ہے، چھوٹا کاروبار شروع کرتا ہے، ٹیکسٹائل فیکٹری میں کام کرتا ہے، کھیت میں فصل اگاتا ہے، سڑک بناتا ہے، مریض کا علاج کرتا ہے اور ہر مشکل کے باوجود اپنے وطن سے امید نہیں چھوڑتا،یہاں سے اصل سوال شروع ہوتا ہے ہم نے سب سے زیادہ جو چیز کھوئی ہے، وہ شاید اداروں پر اعتماد اور اجتماعی سمت کا احساس ہے پاکستان کی تاریخ سیاسی عدم استحکام، حکومتوں کی تبدیلی، مارشل لاز، سیاسی محاذ آرائی، آئینی بحرانوں اور طاقت کے مختلف مراکز کے درمیان کشمکش سے بھری ہوئی ہے ہم نے کئی مرتبہ آئین کو معطل ہوتے دیکھا، کئی بارسیاسی حکومتوں کو اپنی مدت مکمل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتے دیکھا اور کئی مرتبہ سیاسی اختلاف کو قومی دشمنی میں تبدیل ہوتے دیکھا نتیجہ یہ نکلا کہ ریاستی اداروں کے تسلسل کے
بجائے شخصیات اور حکومتوں کی تبدیلی ہمارے سیاسی کلچر کا اہم حصہ بن گئی،ہم نے یہ بھی کھویا کہ قومی مسائل پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی صلاحیت کمزور ہوئی، سیاسی اختلاف جمہوریت کی خوبصورتی ہے لیکن جب اختلاف دشمنی بن جائے تو ریاست کمزور ہوتی ہے پاکستان میں آج بھی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے بجائے اکثر ایک دوسرے کو ختم کرنے کی سیاست کرتی نظر آتی ہیں یہی رویہ قومی ترقی کے راستے میں بڑی رکاوٹ بنتا ہےپاکستان کے سامنے آج سب سے بڑا چیلنج معاشی خود مختاری کا ہے ہماری معیشت کئی مرتبہ بیرونی قرضوں اور مالی معاونت کی ضرورت کا شکار ہوئی، عالمی مالیاتی اداروں سے پروگرام لینا کوئی بذاتِ خود شرمندگی کی بات نہیں لیکن اگر ایک ملک بار بار بنیادی معاشی بحران سے نکلنے کیلئے بیرونی مدد کا محتاج ہو تو یہ ضرور سوچنے کی بات ہے کہ مسئلہ کہاں ہے ہمیں قرضوں کے بجائے برآمدات، سرمایہ کاری، صنعتی پیداوار، ٹیکنالوجی، زرعی اصلاحات اور ٹیکس نیٹ میں وسعت کے ذریعے اپنی معیشت کو مضبوط کرنا ہوگاپاکستان وسائل کے اعتبار سے غریب ملک نہیں، ہمارے پاس زرعی زمین، معدنی وسائل، سمندری راستہ، نوجوان افرادی قوت، جغرافیائی اہمیت اور وسیع مارکیٹ موجود ہے اصل مسئلہ وسائل کی کمی سے زیادہ وسائل کے بہتر استعمال اور حکمرانی کا ہے ایک طرف پاکستان میں لاکھوں نوجوان روزگار کے منتظر ہیں اور دوسری طرف صنعتوں کو ہنرمند افرادی قوت کی ضرورت ہے ایک طرف زراعت ملکی معیشت کی بنیاد ہے اور دوسری طرف پانی کے ضیاع، کم پیداوار، پرانے زرعی طریقوں اور مارکیٹ کے مسائل موجود ہیں ایک طرف ملک میں آئی ٹی کے نوجوان عالمی سطح پر کام کر رہے ہیں دوسری طرف ڈیجیٹل معیشت کیلئے مستقل اور قابل اعتماد پالیسیوں کی ضرورت ہے یہ تضادات بتاتے ہیں کہ پاکستان میں صلاحیت کی کمی نہیں، پالیسی کے تسلسل اور بہتر حکمرانی کی کمی ہے14 اگست کے موقع پر ہمیں پاکستان کے غریب شہری کو بھی یاد رکھنا چاہیے اگر ایک مزدور اپنے بچوں کی فیس ادا کرنے کیلئے پریشان ہے اگر ایک متوسط طبقے کا خاندان بجلی، گیس، تعلیم اور علاج کے اخراجات میں دب گیا ہے اگر ایک نوجوان ڈگری حاصل کرنے کے باوجود روزگار کیلئے بیرون ملک جانے کو مجبور ہے تو ہمیں یہ سوال ضرور کرنا ہوگا کہ آزادی کا اصل مقصد عام شہری تک کب پہنچے گا؟ عالمی بینک کے تازہ ترین دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں غربت اور انسانی ترقی کے حوالے سے اب بھی بڑے چیلنجز موجود ہیں یہ صرف اعداد نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگی، مشکلات اور مستقبل کے سوالات ہیںپاکستان نے دفاع پر بڑی توجہ دی، مگر تعلیم اور انسانی ترقی کو وہ ترجیح نہیں مل سکی جس کی ضرورت تھی، دنیا کی وہ قومیں جو آج ہم سے آگے ہیں، انہوں نے یونیورسٹی، تحقیق، سائنس، ٹیکنالوجی، ہنر اور انسانی سرمائے کو اپنی قومی طاقت بنایا پاکستان میں آج بھی تعلیم کا معیار اور مواقع علاقے، طبقے اور آمدنی کے لحاظ سے بہت مختلف ہیںہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ پاکستان کا اگلا بڑا منصوبہ صرف کوئی شاہراہ یا عمارت نہیں بلکہ ایک تعلیم یافتہ اور ہنرمند نسل ہونی چاہیےصحت کے شعبے میں بھی کچھ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں لیکن مجموعی صورتحال اب بھی تشویش کا باعث ہے ایک مضبوط پاکستان صرف مضبوط دفاع کا نام نہیں، مضبوط پاکستان وہ ہے جہاں بچے صحت مند ہوں، نوجوان تعلیم یافتہ ہوں، خواتین کو مواقع حاصل ہوں، مزدور کو مناسب اجرت ملے اور بیمار شخص کو علاج کیلئے اپنی پوری جمع پونجی نہ بیچنی پڑے،2026 کا پاکستان ایک اہم دوراہے پر کھڑا ہے ایک طرف معاشی استحکام کے کچھ اشارے موجود ہیں دوسری طرف قرض، روزگار، برآمدات، توانائی، ٹیکس، تعلیم، سیاسی کشیدگی اور مہنگائی جیسے بنیادی مسائل ابھی ختم نہیں ہوئے، عالمی مالیاتی اداروں کے مطابق پاکستان کی معیشت میں بحالی کے آثار موجود ہیں، لیکن بیرونی حالات، توانائی کی قیمتوں اور جغرافیائی سیاسی بحرانوں سے خطرات بھی موجود ہیں اس لئے ہمیں وقتی معاشی بہتری پر مطمئن ہونے کے بجائے ایسی معاشی اصلاحات کرنا ہوں گی جو آنے والی نسلوں کو مضبوط بنیاد فراہم کریںہماری سب سے بڑی غلطی شاید یہ رہی کہ ہم نے ریاستی پالیسی کو طویل المدتی قومی منصوبہ بنانے کے بجائے اکثر وقتی سیاسی، معاشی یا انتظامی ضرورت کے مطابق چلایا حکومت بدلتی رہی، ترجیحات بدلتی رہیں اور منصوبے بدلتے رہے دنیا کے کامیاب ممالک نے تعلیم، صنعت، برآمدات، ٹیکنالوجی، تحقیق اور انسانی ترقی کے حوالے سے دہائیوں پر محیط منصوبہ بندی کی، پاکستان کو بھی اب یہی کرنا ہوگا ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ اگلے 10، 20 اور 30 سال میں پاکستان کہاں کھڑا ہوگاپاکستانی معاشرے میں سیاسی اور سماجی برداشت بھی کمزور ہوئی ہے ہم اختلاف رائے کو قبول کرنے کے بجائے دوسرے کو غلط، غدار یا دشمن قرار دینے میں جلدی کرتے ہیں ایک جمہوری معاشرے میں حکومت پر تنقید ریاست سے دشمنی نہیں ہوتی، صحافت کا سوال حکومت دشمنی نہیں ہوتا اپوزیشن کا اختلاف ملک دشمنی نہیں ہوتا، اسی طرح حکومت پر تنقید کرنے والے کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی نفرت میں تبدیل کرنا معاشرے کیلئے نقصان دہ ہے پاکستان کو اب ایک ایسے سیاسی کلچر کی ضرورت ہے جس میں اختلاف ہو مگر دشمنی نہ ہو، مقابلہ ہو مگر انتقام نہ ہو اور اقتدار ہو مگر اداروں کی بالادستی بھی ہو،کیا پاکستان ناکام ہو گیا ہے؟ ہرگز نہیں پاکستان ناکام ریاست نہیں بلکہ ایک ایسی ریاست ہے جس نے اپنی صلاحیت کے مطابق ابھی وہ مقام حاصل نہیں کیا جس کی وہ اہل ہے اس ملک نے انتہائی مشکل حالات میں خود کو قائم رکھا، جنگیں دیکھیں، دہشت گردی کا سامنا کیا، معاشی بحران دیکھے، قدرتی آفات برداشت کیں، لاکھوں مہاجرین کو جگہ دی اور پھر بھی دنیا کے نقشے پر ایک اہم ملک کے طور پر موجود ہے پاکستان کی اصل کہانی ناکامی کی نہیں بلکہ ادھوری کامیابی کی کہانی ہے ہم نے بہت کچھ حاصل کیا، مگر بہت کچھ حاصل کرنا ابھی باقی ہے14 اگست کا اصل پیغام صرف یہ نہیں کہ ہم پرچم لہرائیں، اصل پیغام یہ ہے کہ ہم اپنے ملک سے سوال کریں کیا ہم نے انصاف قائم کیا؟ کیا ہم نے تعلیم کو ترجیح دی؟ کیا ہم نے عام شہری کو عزت دی؟ کیا ہم نے اداروں کو مضبوط کیا؟ کیا ہم نے ٹیکس دینے کو قومی ذمہ داری سمجھا؟ کیا ہم نے کرپشن کو قبول کرنے سے انکار کیا؟ کیا ہم نے میرٹ کو ترجیح دی؟ کیا ہم نے سیاسی اختلاف کو برداشت کرنا سیکھا؟ اور سب سے اہم کیا ہم نے پاکستان کو وہ ملک بنانے کی کوشش کی جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا؟
اگر ان سوالات کا جواب مکمل طور پر ہاں نہیں ہے تو ہمیں مایوس ہونے کے بجائے اپنی سمت درست کرنی ہوگی، پاکستان کا مستقبل اسلام آباد کے کسی دفتر، لاہور کی کسی مارکیٹ، کراچی کی کسی بندرگاہ یا کسی ایک سیاسی جماعت کے ہاتھ میں نہیں، پاکستان کا مستقبل اس کے کروڑوں شہریوں سے جڑا ہوا ہے ایک استاد بہتر تعلیم دے تو پاکستان مضبوط ہوتا ہے ایک ڈاکٹر ایمانداری سے مریض کا علاج کرے تو پاکستان مضبوط ہوتا ہے ایک پولیس اہلکار انصاف سے ڈیوٹی کرے تو پاکستان مضبوط ہوتا ہے ایک کاروباری شخص ایمانداری سے ٹیکس دے اور روزگار پیدا کرے تو پاکستان مضبوط ہوتا ہے ایک صحافی سچ لکھے تو پاکستان مضبوط ہوتا ہے ایک سیاست دان قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دے تو پاکستان مضبوط ہوتا ہے اور ایک عام شہری قانون کی پاسداری کرے تو پاکستان مضبوط ہوتا ہے
79 سال کے سفر کو اگر ایک جملے میں بیان کیا جائے تو شاید یہ کہنا مناسب ہوگا کہ پاکستان نے بہت کچھ حاصل کیا، بہت کچھ کھویا، مگر سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ ہم اپنی صلاحیت اور اپنے مقصد کے درمیان فاصلہ ختم نہ کر سکے۔
ہم نے ایٹمی طاقت حاصل کرلی، مگر معاشی خود مختاری ابھی باقی ہے ہم نے بڑے بڑے شہر بنا لیے، مگر ہر شہری کو بنیادی سہولیات نہیں دے سکے ہم نے جامعات بنائیں، مگر تحقیق کو عالمی معیار تک نہیں پہنچا سکے ہم نے نوجوانوں کی بڑی تعداد پیدا کی، مگر ان سب کو مناسب مواقع نہیں دے سکے ہم نے جمہوریت کے دعوے کئے مگر سیاسی برداشت ابھی کمزور ہے ہم نے ترقی کے منصوبے بنائے، مگر انسانی ترقی کو وہ مقام نہیں دیا جس کی وہ مستحق تھی،لیکن کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی، پاکستان کے پاس اب بھی وقت ہے، نوجوان ہیں، وسائل ہیں، جغرافیائی اہمیت ہے محنتی لوگ ہیں اور سب سے بڑھ کر ایک ایسی قوم ہے جو ہر بحران کے بعد دوبارہ کھڑی ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم جشن آزادی کو ایک دن کی تقریب کے بجائے قومی احتساب کا دن بھی بنائیں، 14 اگست کو صرف یہ نہ کہیں کہ ’’پاکستان زندہ باد‘‘ بلکہ یہ عہد بھی کریں کہ پاکستان کو ایسا ملک بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے جہاں قانون طاقتور اور کمزور دونوں کیلئے برابر ہو، جہاں تعلیم امیر اور غریب دونوں کا حق ہو، جہاں روزگار سفارش کے بجائے میرٹ پر ملے، جہاں معیشت قرض کے بجائے پیداوار پر کھڑی ہو، جہاں سیاست دشمنی کے بجائے خدمت کا نام ہو اور جہاں ریاست کا سب سے اہم مقصد عام شہری کی عزت، تحفظ اور خوشحالی ہو،پاکستان نے 79 سال کا سفر طے کر لیا ہے اب سوال یہ نہیں کہ پاکستان نے ماضی میں کیا کھویا اور کیا پایا، اصل سوال یہ ہے کہ ہم اگلے 79 سال کے پاکستان کو کیسا دیکھنا چاہتے ہیں؟ یہ فیصلہ آج کی نسل نے کرنا ہے کیونکہ آزادی صرف زمین حاصل کرنے کا نام نہیں، آزادی اپنے مستقبل کو خود بنانے کی صلاحیت کا نام بھی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں