ایران، امریکہ اور سعودی عرب،جنگ کا دائرہ کہاں تک پھیلے گا؟

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسی آگ کے درمیان کھڑا ہے جس کی لپٹیں صرف ایران، امریکہ، اسرائیل یا یمن تک محدود نہیں رہیں بلکہ اب سعودی عرب، خلیج، عالمی توانائی کی منڈی اور پوری دنیا اس کے اثرات محسوس کر رہی ہے سوال یہ نہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کیوں شروع ہوئی، سوال یہ ہے کہ اگر یہ جنگ اسی طرح پھیلتی رہی تو اس کا آخری میدان کہاں ہوگا اور اس کی قیمت کون ادا کرے گا؟ چند ماہ پہلے تک یہ تصور کرنا بھی مشکل تھا کہ ایک تنازع آبنائے ہرمز سے لے کر باب المندب، ریاض سے لے کر یمن اور واشنگٹن سے لے کر اسلام آباد تک اتنی گہری جغرافیائی اور سیاسی زنجیر بنا دے گا مگر آج حالات اسی سمت بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے بعد ایران کے ساتھ شروع ہونے والا تنازع اب کئی محاذوں میں تقسیم ہو چکا ہے اور سعودی عرب پر حوثی حملوں نے اس جنگ کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے 19 ستمبر کو حوثیوں نے ریاض سمیت سعودی اہداف کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا جبکہ سعودی حکام نے بعض حملوں کو روکنے کی اطلاع دی یمن میں بھی حوثی پیش قدمی اور سعودی جوابی کارروائی نے ایک پرانے تنازع کو دوبارہ بھڑکا دیا ہےاصل خطرہ یہی ہے کہ ایران اور امریکا کی جنگ اب براہِ راست دو ملکوں کے درمیان محدود جنگ نہیں رہی، مشرقِ وسطیٰ میں ہر ملک کے اپنے اتحادی، اپنے مفادات اور اپنے حساس مقامات ہیں ایران کے ساتھ منسلک گروہوں کی کارروائیاں سعودی عرب، اسرائیل اور امریکی مفادات کو متاثر کرتی ہیں جبکہ امریکا کی فوجی موجودگی خلیج کے کئی ممالک کو براہِ راست اس تنازعے کے دائرے میں لے آتی ہے نتیجہ یہ ہے کہ ایک محاذ پر میزائل داغا جاتا ہے تو دوسرے محاذ پر تیل کی قیمت بڑھتی ہے، ایک بندرگاہ متاثر ہوتی ہے تو دنیا بھر میں شپنگ مہنگی ہو جاتی ہے اور ایک تیل کی پائپ لائن بند ہوتی ہے تو اس کا اثر ہزاروں میل دور عام صارف کی جیب تک پہنچتا ہےسعودی عرب کیلئے معاملہ صرف سرحدی سلامتی کا نہیں بلکہ اس کی پوری معاشی حکمتِ عملی کا مسئلہ بن چکا ہے سعودی معیشت تیل کی عالمی ترسیل، توانائی کے منصوبوں اور علاقائی استحکام سے گہری وابستہ ہے اگر یمن سے ہونے والے حملے سعودی تیل کے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بناتے ہیں اور بحیرہ احمر یا آبنائے باب المندب میں جہاز رانی متاثر ہوتی ہے تو ریاض کیلئے خطرہ صرف فوجی نہیں بلکہ اقتصادی بھی ہوگا حالیہ حملوں کے بعد سعودی تیل کی ترسیل کے راستوں پر دباؤ بڑھا ہے اور بعض برآمدات کو آبنائے ہرمز کی طرف منتقل کرنا پڑا ہےیہاں ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے اگر سعودی عرب کو مسلسل حملوں کا سامنا رہا تو کیا امریکا براہِ راست اس جنگ میں کودے گا؟ موجودہ اطلاعات کے مطابق واشنگٹن نے سعودی عرب کے بعض مطالبات کے باوجود حوثیوں کے خلاف براہِ راست بڑے پیمانے کی نئی کارروائی سے گریز کیا ہے یہ رویہ اس بات کی علامت بھی ہو سکتا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ پہلے سے جاری محاذ کو مزید پھیلانے کے خطرات کو دیکھ رہا ہے کیونکہ یمن میں ایک نئی امریکی جنگ شروع کرنا دراصل ایک ایسے وقت میں نیا محاذ کھولنا ہوگا جب ایران کے ساتھ جنگ پہلے ہی کئی ماہ سے جاری ہےدوسری طرف ایران کیلئے بھی صورتحال آسان نہیں، تہران جانتا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ مسلسل محاذ آرائی ایران کی معیشت، توانائی کی برآمدات اور داخلی حالات پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے اسی لئے ایک طرف ایران سخت بیانات دے رہا ہے تو دوسری طرف سفارتی راستے مکمل طور پر بند نہیں کئے گئے ایران نے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کیلئے جنگ بندی، امریکی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی سمیت بعض شرائط پیش کی ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کے میدان کیساتھ سفارت کاری کا دروازہ بھی مکمل طور پر بند نہیں ہوالیکن اس پوری کہانی کا سب سے خطرناک مقام آبنائے ہرمز ہے دنیا کے اہم ترین توانائی کے راستوں میں شمار ہونے والی یہ گزرگاہ اگر طویل عرصے تک غیر محفوظ رہی تو اس کے اثرات صرف امریکا، ایران یا سعودی عرب تک محدود نہیں رہیں گے تیل کے ٹینکرز کی آمدورفت میں کمی، بیمہ اور شپنگ کے اخراجات میں اضافہ اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت کا اوپر جانا ہر اس ملک کیلئے مسئلہ بنے گا جو توانائی درآمد کرتا ہے حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی رپورٹ ہوئی ہے جبکہ تیل کی قیمتیں بھی جنگ کے باعث تقریباً 100 ڈالر فی بیرل کے آس پاس پہنچ چکی ہیںاور یہاں سے معاملہ پاکستان تک پہنچتا ہےپاکستان کیلئے ایران اور سعودی عرب دونوں محض خارجہ پالیسی کے نقشے پر موجود دو ممالک نہیں، ایران ہمارا ہمسایہ ہے جبکہ سعودی عرب پاکستان کا قریبی دوست اور اہم معاشی و دفاعی شراکت دار ہے اسلام آباد کیلئے سب سے مشکل کام یہی ہے کہ وہ کسی ایک فریق کے ساتھ کھڑا نظر آئے بغیر دونوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے پاکستانی دفتر خارجہ نے حالیہ بریفنگ میں واضح کیا ہے کہ پاکستان ایران اور سعودی عرب دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتا ہے اور ایران، امریکا تنازع کے پرامن حل کیلئے اپنا سفارتی اور ثالثی کردار جاری رکھنے کا خواہاں ہےپاکستان کیلئے سب سے اہم امتحان یہی ہے کہ اگر جنگ مزید پھیلتی ہے تو اسلام آباد اپنے دفاعی وعدوں، سعودی عرب کے ساتھ تعلقات، ایران کے ساتھ ہمسائیگی اور اپنی داخلی سلامتی کے درمیان توازن کیسے قائم کرے گا پاکستان پہلے ہی معاشی دباؤ، توانائی کی ضروریات اور داخلی سلامتی کے مسائل سے دوچار ہے ایسے میں کسی نئے علاقائی فوجی تنازع کا حصہ بننا ملک کیلئے کئی سطحوں پر مشکلات پیدا کر سکتا ہے اسی لئے پاکستان کیلئے سفارت کاری کا راستہ محض ایک خارجی آپشن نہیں بلکہ ایک اہم قومی ضرورت بھی بن جاتا ہےاس پوری صورتحال میں ترکی اور چین کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا سعودی عرب علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں سے دفاعی تعاون چاہتا ہے جبکہ چین ایران اور خلیجی ممالک دونوں سے اپنے تعلقات کی وجہ سے سفارتی اثر رکھتا ہے چین کی جانب سے کشیدگی کم کرنے اور تیل کی ترسیل بحال رکھنے پر زور دیا جا رہا ہے اگر بڑی طاقتیں صرف فوجی اتحاد بنانے کے بجائے جنگ بندی اور مذاکرات کیلئے دباؤ بڑھائیں تو بحران کو محدود رکھنے کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہےمگر سب سے بڑا سوال اسرائیل کا بھی ہے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو اسرائیل کی سلامتی، ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں طاقت کے توازن سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا اگر جنگ کا بنیادی مقصد ایران کی فوجی اور جوہری صلاحیتوں کو محدود کرنا ہے تو اس کا اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟ کیا ایران مکمل طور پر پیچھے ہٹ جائے گا یا اپنے علاقائی اتحادیوں کے ذریعے دباؤ برقرار رکھے گا؟ اور اگر سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستیں براہِ راست حملوں کی زد میں آتی رہیں تو کیا وہ غیر جانب دار رہ سکیں گی؟ یہی وہ سوالات ہیں جو آنے والے ہفتوں کی سمت متعین کریں گےاصل المیہ یہ ہے کہ جنگ شروع کرنے والے اکثر میز پر بیٹھ کر اپنے مقاصد بیان کرتے ہیں، مگر جنگ کا اصل بوجھ عام انسان اٹھاتا ہے ایک طرف میزائل، ڈرون اور جنگی جہاز ہیں اور دوسری طرف وہ خاندان ہے جو مہنگا پٹرول خریدنے پر مجبور ہوتا ہے وہ صنعت ہے جس کیلئے توانائی مہنگی ہو جاتی ہے وہ تاجر ہے جس کیلئے سمندری راستے اور انشورنس کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں اور وہ غریب ملک ہے جس کا درآمدی بل اچانک کئی گنا بڑھ جاتا ہےمشرقِ وسطیٰ کی موجودہ جنگ اسی لئے صرف ایران اور امریکا کی جنگ نہیں رہی یہ توانائی، تجارت، سمندری راستوں، علاقائی اتحادوں اور عالمی سفارت کاری کی جنگ بھی بن چکی ہے اگر ریاض پر حملے بڑھتے ہیں، یمن کا محاذ پھیلتا ہے، آبنائے ہرمز مزید غیر محفوظ ہوتی ہے اور امریکا و ایران مذاکرات کے بجائے مزید فوجی دباؤ کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہونے کا خطرہ موجود رہے گا دوسری طرف اگر واشنگٹن، تہران، ریاض اور خطے کی دوسری طاقتیں یہ سمجھ لیں کہ مکمل فتح کے بجائے ایک قابلِ قبول سیاسی راستہ ہی سب کے مفاد میں ہے تو سفارت کاری اب بھی راستہ نکال سکتی ہےآج مشرقِ وسطیٰ کو ایک اور جنگ سے زیادہ ایک ایسے فیصلے کی ضرورت ہے جو جنگ کے پھیلاؤ کو روک سکے کیونکہ میزائل کسی سرحد کو پہچان کر نہیں گرتا، تیل کی قیمت کسی قوم کا مذہب پوچھ کر نہیں بڑھتی اور سمندری راستہ بند ہونے کا نقصان صرف ایک ملک نہیں اٹھاتا اگر یہ آگ پھیلتی ہے تو اس کے دھویں میں واشنگٹن، تہران اور ریاض کے ساتھ اسلام آباد بھی متاثر ہوگاشاید اسی لئے آنے والے دنوں کا سب سے اہم سوال یہ نہیں ہوگا کہ کون کس پر غالب آتا ہے؟ بلکہ یہ ہوگا کہ کیا عالمی طاقتیں اس جنگ کو اس مقام تک پہنچنے سے روک سکتی ہیں جہاں کسی ایک فریق کے لیے بھی واپسی آسان نہ رہے؟ کیونکہ جنگ جیتنے کا دعویٰ کرنے والے بہت مل جاتے ہیں، لیکن جنگ کے بعد امن، معیشت اور انسانی زندگی کو دوبارہ کھڑا کرنا کہیں زیادہ مشکل کام ہوتا ہے۔
