پاکستان اور بھارت،آزادی ایک، ترقی کے راستے مختلف کیوں؟

پاکستان اور بھارت کی آزادی کی تاریخ جنوبی ایشیا کی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جسے دنیا بھر میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے 1947ء میں برطانوی راج کے خاتمے کے بعد برصغیر 2آزاد ریاستوں، پاکستان اور بھارت، میں تقسیم ہوا دونوں ممالک نے ایک ہی نوآبادیاتی نظام سے آزادی حاصل کی، دونوں نے برطانوی دور کے انتظامی، قانونی اور معاشی ڈھانچے ورثے میں پائے، دونوں کو غربت، کم شرح خواندگی، پسماندہ صنعتی ڈھانچے، بے روزگاری اور لاکھوں لوگوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے جیسے مسائل کا سامنا تھا اس کے باوجود آج جب دونوں ممالک کے تقریباً 8دہائیوں کے سفر کا جائزہ لیا جاتا ہے تو یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ ایک ہی تاریخی پس منظر سے نکلنے والے دونوں ممالک ترقی کے معاملے میں مختلف مقام پر کیوں کھڑے ہیں؟یہ سوال محض پاکستان اور بھارت کے درمیان مقابلے کا سوال نہیں بلکہ ریاستوں کی ترقی، حکمرانی، ادارہ سازی، معاشی پالیسی اور قومی ترجیحات کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے کسی ملک کی ترقی کا فیصلہ صرف اس بات سے نہیں کیا جا سکتا کہ اس کی مجموعی معیشت کتنی بڑی ہے یا اس کے پاس کتنی دولت ہے ترقی ایک وسیع تصور ہے جس میں معیشت، تعلیم، صحت، روزگار، صنعتی پیداوار، ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر، اداروں کی مضبوطی، سیاسی استحکام اور عوام کے معیار زندگی سمیت کئی عوامل شامل ہوتے ہیںیہ بات درست ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں بھارت نے اپنی مجموعی معیشت، صنعتی پیداوار، انفارمیشن ٹیکنالوجی، خلائی تحقیق، ادویات، آٹو موبائل، خدمات اور عالمی سرمایہ کاری کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے بھارت آج دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمار ہوتا ہے اور عالمی سطح پر اس کا معاشی و سفارتی اثر بھی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے پاکستان بھی مختلف شعبوں میں کامیابیاں حاصل کر چکا ہے مگر مجموعی معاشی حجم، برآمدات، صنعتی تنوع اور کئی دوسرے معاشی اشاریوں میں وہ بھارت سے پیچھے رہ گیا ہےاس فرق کو سمجھنے کیلئے سب سے پہلے دونوں ممالک کے سیاسی اور ادارہ جاتی سفر پر نظر ڈالنا ضروری ہےپاکستان کے ابتدائی برس انتہائی مشکل تھے نئی ریاست کو نہ صرف محدود وسائل کے ساتھ اپنا انتظامی ڈھانچہ قائم کرنا تھا بلکہ لاکھوں مہاجرین کی آبادکاری، مالی مشکلات، سرحدی مسائل، کشمیر کا تنازع اور دیگر فوری چیلنجز بھی درپیش تھے قائداعظم محمد علی جناح کی وفات اور پھر قائداعظم کے بعد مضبوط سیاسی قیادت کا فقدان بھی ایک بڑا مسئلہ بن گیا سیاسی ادارے ابھی مستحکم نہیں ہوئے تھے کہ ملک کو آئینی اور سیاسی بحرانوں کا سامنا شروع ہو گیابھارت کو بھی تقسیم کے بعد شدید مشکلات کا سامنا تھا وہاں بھی لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، فرقہ وارانہ فسادات ہوئے اور معاشی مسائل موجود تھے لیکن بھارت نے نسبتاً جلد ایک مستقل آئینی اور انتخابی نظام قائم کر لیا اور جمہوری عمل کو مسلسل آگے بڑھایا حکومتیں تبدیل ہوتی رہیں سیاسی جماعتوں کے درمیان شدید اختلافات بھی رہے مگر ریاستی نظام کا بنیادی تسلسل برقرار رہا۔پاکستان میں دوسری طرف سیاسی عدم استحکام نے معاشی منصوبہ بندی کو کئی مرتبہ متاثر کیا حکومتوں کی تبدیلی، مارشل لا ادوار، آئینی بحران، سیاسی کشمکش اور پالیسیوں میں بار بار تبدیلی نے ایک مستقل اور طویل المدتی معاشی وژن کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کیں، ترقی کیلئے ضروری ہے کہ کسی ملک کی معاشی پالیسیاں 5یا10سال نہیں بلکہ کئی دہائیوں کے تناظر میں بنائی جائیں اگر ہر حکومت اپنی ترجیحات تبدیل کرے تو سرمایہ کاروں، صنعت کاروں اور کاروباری طبقے کیلئے بھی غیر یقینی پیدا ہوتی ہے،یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف جمہوری تسلسل ہی بھارت کی ترقی کی وجہ ہے؟ جواب مکمل طور پر ہاں نہیں ہےبھارت کی ترقی کے پیچھے کئی عوامل نے مشترکہ کردار ادا کیا وہاں ریاستی اداروں کی مسلسل موجودگی، بڑی اندرونی مارکیٹ، اعلیٰ تعلیم کے مراکز، صنعتی پالیسی، ٹیکنالوجی پر توجہ، نجی شعبے کی وسعت اور عالمی معیشت کے ساتھ بڑھتا ہوا تعلق بھی اہم عوامل رہے ہیںبڑی آبادی اور بڑی مارکیٹ بھی بھارت کیلئے ایک معاشی طاقت ثابت ہوئی، ایک بہت بڑی آبادی کا مطلب یہ ہے کہ وہاں مصنوعات اور خدمات کیلئے ایک وسیع اندرونی مارکیٹ موجود ہے جب مقامی کمپنی کوئی نئی مصنوعات تیار کرتی ہے تو اسے صرف بیرونی منڈیوں پر انحصار نہیں کرنا پڑتا بلکہ ملک کے اندر ہی کروڑوں صارفین موجود ہوتے ہیں اس صورتحال نے بڑی بھارتی کمپنیوں کو ترقی کرنے، سرمایہ حاصل کرنے اور عالمی سطح پر مقابلہ کرنے میں مدد دی،پاکستان کی آبادی بھی بڑی ہے اور اس کی مارکیٹ بھی اہم ہے لیکن پاکستان میں معاشی بحرانوں، کم فی کس آمدنی، مہنگائی اور
محدود قوت خرید نے اندرونی مارکیٹ کی صلاحیت کو مکمل طور پر استعمال کرنے میں رکاوٹ پیدا کی ہےدونوں ممالک کے درمیان ایک نمایاں فرق تعلیم اور انسانی وسائل کی ترقی میں بھی نظر آتا ہےیہ حقیقت ہے کہ بھارت میں بھی تعلیمی نظام کے اندر کئی مسائل موجود ہیں اور ہر بھارتی شہری کو معیاری تعلیم دستیاب نہیںتاہم بھارت نے اعلیٰ تعلیم، انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، سائنس اور ٹیکنالوجی کے ایسے ادارے قائم کئے جنہوں نے ایک بڑی تعداد میں ماہرین پیدا کئے، بھارتی انجینئرز، سائنس دانوں اور آئی ٹی ماہرین نے نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر کی کمپنیوں میں اہم مقام حاصل کیا،انفارمیشن ٹیکنالوجی کا شعبہ اس کی ایک واضح مثال ہے بھارت نے کمپیوٹر اور سافٹ ویئر کی عالمی صنعت کے پھیلاؤ سے بھرپور فائدہ اٹھایا بنگلورو، حیدرآباد اور دیگر شہروں میں ٹیکنالوجی کا ایک بڑا ماحولیاتی نظام وجود میں آیا بھارتی کمپنیوں نے دنیا بھر میں خدمات فراہم کرنا شروع کیں اور اس شعبے سے ملک کیلئے بڑے پیمانے پر زرمبادلہ حاصل ہوا،پاکستان میں بھی آئی ٹی کے شعبے میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے پاکستانی نوجوان فری لانسنگ، سافٹ ویئر، مصنوعی ذہانت، سائبر ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں اپنی صلاحیت ثابت کر رہے ہیں لیکن ابھی اس صلاحیت کو قومی سطح کی بڑی صنعت میں تبدیل کرنے کیلئے بنیادی ڈھانچے، پالیسی تسلسل اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہےصنعت اور برآمدات بھی دونوں ممالک کے معاشی فرق کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیںپاکستان کی معیشت میں ٹیکسٹائل کا بڑا کردار ہے ٹیکسٹائل ہماری بڑی برآمدی صنعت ہے اور لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتی ہے لیکن کسی ملک کی معاشی طاقت کیلئے ضروری ہے کہ برآمدات چند شعبوں تک محدود نہ رہیں بھارت نے وقت کیساتھ ساتھ اپنی برآمدی بنیاد کو وسیع کیا اور آئی ٹی، ادویات، گاڑیوں، انجینئرنگ، کیمیکل، مشینری اور دیگر شعبوں میں عالمی مارکیٹ میں اپنی موجودگی بڑھائی،پاکستان کیلئے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ اپنی برآمدات کو روایتی مصنوعات سے نکال کر زیادہ قدر رکھنے والی مصنوعات اور خدمات تک لے جائے، اگر ہم صرف خام مال یا کم ویلیو ایڈڈ مصنوعات برآمد کرتے رہیں گے تو ہماری آمدنی محدود رہے گی لیکن اگر یہی خام مال ملک میں تیار ہو کر اعلیٰ معیار کی مصنوعات میں تبدیل ہو اور پھر عالمی منڈی میں فروخت ہو تو برآمدی آمدنی کئی گنا بڑھ سکتی ہےٹیکس نظام اور ریاستی آمدنی بھی معاشی ترقی میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں،ایک مضبوط ملک کیلئے ضروری ہے کہ ریاست کے پاس اتنے وسائل ہوں کہ وہ تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر، دفاع، تحقیق اور عوامی سہولیات پر سرمایہ کاری کر سکے پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ محدود ٹیکس بیس ہے جب ریاست کی آمدنی کم ہو تو حکومت کو قرض لینا پڑتا ہے قرض بڑھنے کے بعد اس کی ادائیگی اور سود کا بوجھ بجٹ کا بڑا حصہ کھا جاتا ہے یوں ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل محدود ہو جاتے ہیں،یہ مسئلہ صرف حکومت کے مالیاتی نظام کا نہیں بلکہ معاشرے کے مجموعی رویے کا بھی ہے اگر ٹیکس دینے والے کم ہوں اور ریاست سے سہولیات کی توقع رکھنے والے زیادہ ہوں تو معاشی نظام دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے اس لئے پاکستان کو ٹیکس نظام میں ایسی اصلاحات کی ضرورت ہے جو ٹیکس چوری کو کم کریں، ٹیکس نیٹ وسیع کریں اور عام شہری کے بجائے زیادہ آمدنی رکھنے والے طبقات اور غیر دستاویزی معیشت کو مؤثر انداز میں نظام کا حصہ بنائیںتوانائی کا بحران بھی پاکستان کی صنعتی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ رہا ہے صنعت کو سستی، مسلسل اور قابل اعتماد بجلی اور گیس کی ضرورت ہوتی ہے جب توانائی مہنگی ہو یا اس کی فراہمی غیر یقینی ہو تو ملکی صنعت عالمی مارکیٹ میں مقابلہ نہیں کر سکتی، بھارت نے بھی توانائی کے مسائل کا سامنا کیا مگر وقت کے ساتھ اس نے توانائی کے ذرائع کو وسعت دینے، بجلی کی پیداوار بڑھانے اور انفراسٹرکچر بہتر کرنے پر توجہ دی،پاکستان کیلئے توانائی کا مسئلہ صرف بجلی پیدا کرنے تک محدود نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ توانائی کی قیمت ایسی ہو کہ صنعت، زراعت اور کاروبار اسے برداشت کر سکیں اگر پیداواری لاگت بہت زیادہ ہو جائے تو ہماری مصنوعات عالمی منڈی میں مہنگی پڑتی ہیں اور برآمدات متاثر ہوتی ہیںزراعت دونوں ممالک کیلئے انتہائی اہم شعبہ ہے پاکستان زرعی ملک ہونے کے باوجود زرعی پیداوار میں جدید ٹیکنالوجی، پانی کے مؤثر استعمال، تحقیق، بیجوں کے معیار اور ویلیو ایڈیشن کے میدان میں مزید بہتری کا محتاج ہے صرف گندم، چاول، کپاس یا دیگر فصلیں پیدا کرنا کافی نہیں، اصل کامیابی یہ ہے کہ زرعی پیداوار کو جدید فوڈ پروسیسنگ، پیکیجنگ اور برآمدی صنعت کے ساتھ جوڑا جائے،بھارت نے زرعی شعبے میں بھی مختلف اصلاحات اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے اپنی پیداوار اور زرعی ویلیو چین کو وسعت دی ہے پاکستان کیلئے بھی یہی راستہ اہم ہے کہ کسان کو صرف فصل پیدا کرنے والا نہیں بلکہ پوری زرعی معیشت کا مرکزی کردار سمجھا جائے،اس تمام بحث میں آبادی اور نوجوان نسل کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا بڑی نوجوان آبادی کسی ملک کیلئے بوجھ نہیں بلکہ بہت بڑا اثاثہ بن سکتی ہے بشرطیکہ اسے تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں، پاکستان کے پاس نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود ہے اگر یہ نوجوان جدید ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، میڈیکل، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تجارت، صنعتی مہارت اور دیگر شعبوں میں تربیت حاصل کریں تو یہی آبادی پاکستان کی سب سے بڑی معاشی طاقت بن سکتی ہےلیکن اگر نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار نہ ملے تو یہی آبادی معاشی دباؤ میں تبدیل ہو سکتی ہے اس لئے پاکستان کے مستقبل کی سب سے بڑی سرمایہ کاری شاید کسی سڑک، عمارت یا پل سے زیادہ انسان پر سرمایہ کاری ہےبھارت کی ترقی کا ایک اور اہم پہلو عالمی سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی توسیع ہے بڑی عالمی کمپنیوں نے بھارت میں اپنی صنعتیں اور مراکز قائم کیے کیونکہ وہاں ایک بہت بڑی مارکیٹ، بڑی افرادی قوت اور بڑھتی ہوئی معاشی سرگرمی موجود ہے پاکستان بھی غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کر سکتا ہے لیکن اس کیلئے سیاسی استحکام، پالیسی کا تسلسل، شفاف قوانین، تیز رفتار عدالتی نظام اور کاروباری آسانیاں ضروری ہیں،سرمایہ کار سب سے پہلے یہ دیکھتا ہے کہ اس کا سرمایہ محفوظ ہے یا نہیں، پالیسی کل تبدیل تو نہیں ہو جائے گی ٹیکس کا نظام واضح ہے یا نہیں، بجلی اور گیس دستیاب ہوں گی یا نہیں اور تنازع کی صورت میں اسے انصاف کتنی جلدی ملے گا اس لئے سرمایہ کاری صرف مراعات دینے سے نہیں آتی بلکہ اعتماد پیدا کرنے سے آتی ہے،یہاں پاکستان کیلئے ایک اہم سبق موجود ہے ہمیں بھارت سے صرف یہ نہیں سیکھنا چاہیے کہ اس کی معیشت بڑی کیوں ہوئی بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ اس نے کن شعبوں میں طویل عرصے تک مسلسل پالیسی اختیار کی،پاکستان میں اکثر اچھی پالیسیاں بنائی جاتی ہیں لیکن ان پر مستقل مزاجی سے عمل درآمد نہیں ہو پاتا حکومت تبدیل ہوتی ہے تو منصوبہ بدل جاتا ہے، ترجیح بدل جاتی ہے یا پالیسی پر نظرثانی شروع ہو جاتی ہے نتیجتاً وقت اور وسائل دونوں ضائع ہوتے ہیںملک کی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ کچھ قومی شعبوں پر سیاسی اختلاف سے بالاتر ہو کر اتفاق رائے پیدا کیا جائے تعلیم، صحت، برآمدات، صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی، توانائی، ٹیکس اصلاحات اور انسانی وسائل ایسے شعبے ہیں جنہیں حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ تبدیل نہیں ہونا چاہیےیہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کو بھارت سے اپنا موازنہ کرتے ہوئے اپنی مخصوص صورتحال کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے دونوں ممالک کی جغرافیائی، سیاسی، معاشی اور سماجی صورتحال مکمل طور پر یکساں نہیں، پاکستان کو اپنے مسائل کے مطابق اپنا ترقیاتی ماڈل بنانا ہوگا اندھی تقلید کے بجائے کامیاب تجربات سے سبق حاصل کرنا زیادہ ضروری ہے،آخر میں یہ سوال اہم ہے کہ کیا پاکستان بھارت سے آگے نکل سکتا ہے؟اس کا جواب مایوسی نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ امید ہے پاکستان کے پاس بڑی نوجوان آبادی، زرعی وسائل، معدنی ذخائر، جغرافیائی محل وقوع، سمندری راستے، بڑی اندرونی مارکیٹ اور باصلاحیت انسانی وسائل موجود ہیں۔ مسئلہ وسائل کی مکمل عدم موجودگی نہیں بلکہ ان وسائل کے مؤثر استعمال کا ہےاگر پاکستان سیاسی استحکام پیدا کرے، قانون کی بالادستی کو مضبوط بنائے، تعلیم اور فنی تربیت کو قومی ترجیح بنائے، برآمدات میں تنوع پیدا کرے، ٹیکس نیٹ وسیع کرے، توانائی کی قیمت اور فراہمی کو صنعت کیلئے قابل عمل بنائے، سرکاری اداروں میں اصلاحات کرے، ٹیکنالوجی اور تحقیق پر سرمایہ کاری بڑھائے اور سب سے بڑھ کر پالیسیوں میں تسلسل پیدا کرے تو معاشی صورتحال نمایاں طور پر تبدیل ہو سکتی ہےپاکستان اور بھارت تقریباً ایک ہی وقت میں آزاد ہوئے تھے مگر آزادی کے بعد دونوں نے مختلف راستے اختیار کئے ایک ملک کی کامیابی دوسرے کی ناکامی کا مکمل ثبوت نہیں لیکن دونوں کے تجربات سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہےقوموں کی ترقی ایک دن، ایک حکومت یا ایک منصوبے سے نہیں ہوتی، یہ کئی دہائیوں کی مسلسل محنت، مضبوط اداروں، درست فیصلوں اور مستقل پالیسیوں کا نتیجہ ہوتی ہے بھارت نے اپنے سفر میں بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کیلئے راستے بند ہو چکے ہیںاگر پاکستان اپنی سیاسی اور معاشی توانائی باہمی کشمکش میں ضائع کرنے کے بجائے تعلیم، صنعت، برآمدات، ٹیکنالوجی اور انسانی ترقی پر صرف کرے تو وہ نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی معیشت میں بھی ایک مضبوط مقام حاصل کر سکتا ہےآزادی دونوں ممالک کو تقریباً ایک ہی وقت میں ملی تھی لیکن ترقی کا سفر کبھی ایک جیسا نہیں ہوتا آزادی ریاست کو ملتی ہے مگر ترقی قوم اپنے فیصلوں، اداروں اور مسلسل محنت سے حاصل کرتی ہے پاکستان کے پاس آج بھی موقع موجود ہے کہ وہ اپنی سمت درست کرے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال ملک کی بنیاد رکھے۔
محمود احمد
