پمز نرسری سانحہ: آگ اور دھوئیں نے کئی ننھی جانیں نگل لیں

PIMS Nursery

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع ‘پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز’ (پمز) کے مدر اینڈ چائلڈ بلاک کا وہ کمرہ، جہاں نوزائیدہ بچوں کے لیے انکیوبیٹرز رکھے گئے تھے، امید اور نیکی کا مرکز ہونا چاہیے تھا۔ لیکن بدھ کی صبح 26 اگست 2026 کو وہی نرسری محض چند منٹوں کے اندر ایک ہولناک المیے کی مقتل گاہ میں تبدیل ہو گئی۔

صبح کے تقریباً پونے سات بج رہے تھے جب تیسری منزل پر واقع نرسری میں اچانک دھوئیں کے مرغولے اٹھنے لگے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایئر کنڈیشنر کا کمپریسر پھٹنے یا الیکٹرک شارٹ سرکٹ کی وجہ سے دھماکے جیسی آواز آئی اور سیکنڈوں میں آگ کی لپٹوں نے پورے وارڈ کو لپیٹ میں لے لیا۔ وارڈ کے اندر آکسیجن کی پائپ لائنز اور پلاسٹک سے بنے میڈیکل آلات موجود تھے، جنہوں نے آگ کے لیے گھی کا کام کیا۔
وہ معصوم فرشتے جو ابھی چند گھنٹے یا چند دن پہلے ہی اس دنیا میں آئے تھے، اس آگ اور زہریلے دھوئیں کے درمیان بالکل بے بس تھے۔ نرسری میں کل 15 سے 16 بچے موجود تھے۔ بدقسمتی سے صرف ایک بچے کو ہی ریسکیو کیا جا سکا، جبکہ 14 سے 15 نوائیدہ بچے اس دردناک حادثے کی نذر ہو گئے۔

ہسپتال کے باہر کا منظر کسی قیامت سے کم نہ تھا۔ عمارت کے شیشے توڑ کر اندر داخل ہونے کی کوششیں کی جاتی رہیں، لیکن جن ماؤں اور باپوں نے اپنے بچوں کی پہلی مسکراہٹ دیکھنی تھی، ان کے ہاتھوں میں ان کے بچوں کے لاشے آئے۔
ایک بدحواس باپ ہسپتال کی راہداری میں بیٹھا اپنے بے جان بچے کو سینے سے لگانے کی کوشش کر رہا تھا، جبکہ کئی مائیں ہسپتال کی سیڑھیوں پر سر پکڑ کر بیٹھ گئیں۔ ان کے پاس نہ تو رونے کا صبرا تھا اور نہ ہی اس سانحے کو تسلیم کرنے کا حوصلہ۔ ہر شخص کی زبان پر ایک ہی سوال تھا: “ہماری کیا غلطی
تھی؟”

یہ حادثہ صرف آگ لگنے کا ایک واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کے سرکاری صحت کے نظام کی اندرونی خامیوں کا آئینہ دار ہے۔
سیکیورٹی کے نام نہاد انتظامات: ایک اتنا بڑا سرکاری ہسپتال جہاں فائر سیفٹی (آگ سے بچاؤ) کے جدید آلات اور ہنگامی اخراج کے راستے ہنگامی بنیادوں پر فعال ہونے چاہیے تھے، وہاں محض ایک شارٹ سرکٹ یا اے سی دھماکہ اتنی بڑی تباہی کا باعث بن گیا۔
سیکیورٹی الارم اور فائر ایکسٹینگوشر (آگ بجھانے والے سلنڈر) کا وقت پر استعمال نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہسپتال کے عملے کو ایسے ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تربیت ہی حاصل نہیں تھی۔

واقعہ کے بعد حکومتی سطح پر تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں اور اعلیٰ حکام نے رسمی تعزیتی بیانات بھی جاری کر دیے ہیں۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ کمیٹیوں کی رپورٹس اور وقتی ہمدردیاں ان ماؤں کی گود کبھی نہیں بھر سکتیں جن کے لختِ جگر اس نظام کی غفلت کی بھینٹ چڑھ گئے۔
پمز ہسپتال کا یہ سانحہ محض ایک خبر نہیں، بلکہ ہمارے ضمیر پر ایک گہرا زخم ہے جو طویل عرصے تک اس ملک کے نظامِ صحت اور انتظامی غفلت پر سوال اٹھاتا رہے گا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں