آسٹریا میں 14 سال سے کم عمر طالبات کے اسکارف پر پابندی نافذ، خلاف ورزی پر بھاری جرمانہ

ویانا: آسٹریا میں تعطیلات کے بعد اسکول کھلنے کے ساتھ ہی 14 سال سے کم عمر طالبات کے اسکارف پہننے پر پابندی کا نیا قانون نافذ ہوگیا ہے۔
حکومت میں شامل تین جماعتوں نے اس پابندی کی حمایت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد کم عمر لڑکیوں کی آزادی اور خودمختاری کا تحفظ ہے۔ یہ قانون گزشتہ دسمبر میں پارلیمنٹ سے منظور ہوا تھا اور اسے انتہائی دائیں بازو کی فریڈم پارٹی کی حمایت بھی حاصل تھی۔
نئے قانون کے تحت پابندی کی خلاف ورزی کی صورت میں اسکول انتظامیہ کو پہلے طالبہ سے بات چیت کرنا ہوگی، جبکہ مسلسل خلاف ورزی پر 150 سے 800 یورو تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔
آسٹریا میں مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم اسلامک ریلیجیئس کمیونٹی اِن آسٹریا نے قانون کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسے عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
آسٹریا کی آئینی عدالت ماضی میں بھی کم عمر بچیوں کے اسکارف سے متعلق ایک قانون کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔ 2020 میں عدالت نے 10 سال سے کم عمر بچیوں کے اسکارف پر پابندی ختم کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ یہ اقدام مسلمانوں کے خلاف امتیازی نوعیت رکھتا ہے۔
نئے قانون کے نفاذ کے بعد آسٹریا میں مذہبی آزادی، کم عمر بچوں کے حقوق اور اسکولوں میں مذہبی علامات سے متعلق بحث ایک بار پھر شدت اختیار کرنے کا امکان ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں