ایران، امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ کی نئی کشیدگی

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک غلط فیصلہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے سیاسی، معاشی اور عسکری توازن کو متاثر کرسکتا ہے ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی صرف تین ممالک کے درمیان تنازع نہیں بلکہ یہ عالمی طاقتوں، توانائی کی منڈیوں، بین الاقوامی قانون، سفارت کاری، فوجی حکمتِ عملی، جوہری سیاست اور عالمی معیشت کے مستقبل سے جڑا ہوا معاملہ بن چکا ہے حالیہ دنوں میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے بیانات، ایران کی جانب سے 90 فیصد یورینیم افزودگی کی دھمکی اور امریکی میڈیا میں سامنے آنے والی ان رپورٹس نے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں، اس پوری صورتحال کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے ان تینوں خبروں کو الگ الگ دیکھنے کے بجائے اگر ایک وسیع تر تناظر میں سمجھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں طاقت کی نئی صف بندیاں تیزی سے تشکیل پا رہی ہیں اور ہر ملک اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے پہلے سے زیادہ جارحانہ حکمتِ عملی اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے امریکہ میں دفاعی بجٹ کو ریکارڈ سطح تک بڑھانے کی تجویز، ایران کی جانب سے جوہری پروگرام میں مزید پیش رفت کی وارننگ اور اسرائیل کی مسلسل تشویش دراصل اس بڑے جیو پولیٹیکل مقابلے کا حصہ ہیں جس میں چین، روس، یورپ، خلیجی ممالک اور عالمی طاقتیں بھی براہِ راست یا بالواسطہ شامل ہیں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کا یہ کہنا کہ ایران کے خلاف کارروائی ایک مقدس مشن ہے، محض ایک سیاسی جملہ نہیں بلکہ امریکی داخلی سیاست، مذہبی قوم پرستی، عسکری سوچ اور عالمی قیادت کے تصور کی عکاسی کرتا ہے امریکا میں ایک عرصے سے یہ بیانیہ موجود رہا ہے کہ دنیا میں امریکی طاقت کا برقرار رہنا عالمی استحکام کے لیے ضروری ہے، لیکن اس سوچ کے ناقدین یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ کیا دنیا کو واقعی ایک ایسی طاقت کی ضرورت ہے جو ہر بحران کا حل فوجی طاقت میں تلاش کرے یا پھر سفارت کاری، اقتصادی تعاون اور بین الاقوامی اداروں کو مضبوط کرنا زیادہ مؤثر راستہ ہو سکتا ہے پیٹ ہیگستھ کے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ دفاعی طاقت کو نہ صرف امریکا کی سلامتی بلکہ اس کی عالمی حیثیت کیلئے بھی بنیادی عنصر سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 1اعشاریہ 5ٹریلین ڈالر کے دفاعی بجٹ کو صرف عسکری اخراجات نہیں بلکہ عالمی قیادت کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے یہ بجٹ امریکی تاریخ کا سب سے بڑا عسکری بجٹ ہوگا جس میں جدید ہتھیار، مصنوعی ذہانت، سائبر وارفیئر، بحری قوت، میزائل دفاعی نظام اور بحرالکاہل میں چین کے بڑھتے اثرورسوخ کا مقابلہ کرنے کیلئے خطیر سرمایہ کاری شامل ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ اب صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع تر عالمی مقابلے کی تیاری کر رہا ہے جس میں چین اس کا سب سے بڑا اسٹریٹجک حریف بن چکا ہے۔ امریکہ کے دفاعی اخراجات میں اس غیر معمولی اضافے کو بعض ماہرین ایک نئے سرد جنگی دور کی علامت قرار دیتے ہیں جہاں عسکری طاقت، ٹیکنالوجی، اقتصادی اثرورسوخ اور اتحادیوں کے نیٹ ورک کے ذریعے دنیا پر اثرانداز ہونے کی کوششیں مزید تیز ہو رہی ہیں دوسری جانب ایران کا مؤقف بھی اپنے مخصوص تاریخی اور سیاسی پس منظر رکھتا ہے ایران کئی دہائیوں سے اقتصادی پابندیوں، سفارتی دباؤ اور علاقائی تنازعات کا سامنا کر رہا ہے تہران کی قیادت کا مؤقف یہ رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کیلئے ہے تاہم مغربی ممالک اور اسرائیل مسلسل یہ خدشہ ظاہر کرتے رہے ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی صلاحیت کے قریب پہنچ رہا ہے 90 فیصد یورینیم افزودگی کی بات دراصل ایک اسٹریٹجک پیغام ہے ماہرین کے مطابق 90 فیصد افزودگی ہتھیاروں کے معیار کے قریب سمجھی جاتی ہے، اس لئے ایران کی جانب سے اس امکان کا ذکر عالمی سطح پر تشویش کا باعث بننا فطری
ہے تاہم ایران کا مؤقف یہ ہے کہ وہ دباؤ کے جواب میں اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے ایران یہ بھی سمجھتا ہے کہ اگر وہ عسکری یا تکنیکی لحاظ سے کمزور دکھائی دے گا تو اس پر حملے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، اس لئے طاقت کے اظہار کو وہ اپنی قومی سلامتی کا حصہ تصور کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ تہران بار بار یہ پیغام دیتا ہے کہ کسی بھی حملے کا جواب دیا جائے گا اور اگر دباؤ بڑھایا گیا تو جوہری پروگرام میں بھی تیزی لائی جا سکتی ہے اس صورتحال نے عالمی سفارت کاری کو انتہائی پیچیدہ بنا دیا ہے کیونکہ ایک طرف امریکہ اور اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنا چاہتے ہیں جبکہ دوسری طرف ایران اسے اپنی خودمختاری اور دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیتا ہے امریکی میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹس کہ صدر ٹرمپ دوبارہ محدود فوجی کارروائی کی طرف مائل ہو رہے ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ واشنگٹن میں سفارتی راستوں پر اعتماد کمزور پڑتا جا رہا ہے اگر مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو عسکری آپشنز پر غور ہونا غیر معمولی بات نہیں کیونکہ امریکی پالیسی ساز اکثر یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ ایران پر دباؤ بڑھائے بغیر اسے مذاکرات کی میز پر مطلوبہ شرائط کے ساتھ نہیں لایا جا سکتا تاہم دوسری طرف یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا فوجی کارروائی واقعی مسئلے کا مستقل حل فراہم کر سکتی ہے یا یہ پورے خطے کو مزید غیر مستحکم بنا دے گی، عراق، افغانستان، شام اور لیبیا کے تجربات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ فوجی مداخلتیں بعض اوقات فوری نتائج تو دے دیتی ہیں لیکن ان کے طویل المدتی اثرات زیادہ پیچیدہ اور غیر متوقع ہوتے ہیں مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی دہائیوں سے جنگوں، خانہ جنگیوں، پراکسی تنازعات اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے ایسے میں ایران کیخلاف کسی بڑی عسکری کارروائی کے نتائج صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خلیج، عراق، شام، لبنان، یمن اور حتیٰ کہ عالمی توانائی منڈیوں تک پھیل سکتے ہیں آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے اگر اس علاقے میں کشیدگی بڑھتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ، عالمی معیشت پر دباؤ اور سپلائی چین کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یورپی ممالک، چین اور دیگر عالمی طاقتیں ایران اور امریکہ کے درمیان مکمل جنگ سے بچنے کی کوشش کرتی رہی ہیں چین خاص طور پر اس معاملے میں اہم کردار رکھتا ہے کیونکہ وہ ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات بھی رکھتا ہے اور مشرقِ وسطیٰ سے توانائی کی فراہمی پر بھی انحصار کرتا ہے امریکہ کی جانب سے چین کے بڑھتے اثرورسوخ کا مقابلہ کرنے کی حکمتِ عملی میں مشرقِ وسطیٰ بھی ایک اہم میدان بن چکا ہے اگر امریکہ اس خطے میں اپنی عسکری موجودگی کمزور ہونے دیتا ہے تو اس سے چین اور روس کیلئے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ امریکی دفاعی پالیسی اب صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ تک محدود نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلے کے تناظر میں تشکیل دی جا رہی ہے پیٹ ہیگستھ کے بیانات میں بھی یہی سوچ نمایاں نظر آتی ہے کہ امریکہ کو دنیا کی سب سے طاقتور فوج بنائے رکھنا ضروری ہے تاکہ وہ نہ صرف اپنے دشمنوں کو روک سکے بلکہ اپنے اتحادیوں کو بھی یقین دلا سکے کہ امریکہ اب بھی عالمی قیادت کی صلاحیت رکھتا ہے تاہم امریکی کانگریس میں اٹھنے والے سوالات اس بات کی علامت ہیں کہ امریکہ کے اندر بھی اس حکمتِ عملی پر مکمل اتفاق موجود نہیں، بعض قانون ساز جنگی اخراجات، یوکرین کی امداد، یورپ میں فوجی موجودگی اور ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے ممکنہ نتائج پر تشویش رکھتے ہیں امریکی عوام بھی ایک طویل عرصے سے بیرونی جنگوں سے تھکن محسوس کرتے ہیں عراق اور افغانستان کی جنگوں نے نہ صرف امریکی معیشت پر بھاری بوجھ ڈالا بلکہ ہزاروں جانوں کے ضیاع اور سیاسی تقسیم کو بھی جنم دیا۔ اسی لئے ٹرمپ سمیت کئی امریکی سیاستدان ماضی میں یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ امریکہ کو غیر ضروری جنگوں سے دور رہنا چاہیے لیکن اب اگر وہی قیادت دوبارہ فوجی آپشنز پر غور کر رہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ واشنگٹن ایران کے معاملے کو محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ اپنی عالمی ساکھ اور قومی سلامتی کے مسئلے کے طور پر دیکھ رہا ہےاسرائیل کا کردار بھی اس پوری صورتحال میں انتہائی اہم ہے اسرائیل طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے وجود کے لیے خطرہ قرار دیتا آیا ہے اسرائیلی حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ اگر ایران جوہری صلاحیت حاصل کر لیتا ہے تو خطے میں طاقت کا توازن بنیادی طور پر تبدیل ہو جائے گا یہی وجہ ہے کہ اسرائیل مسلسل امریکا پر دباؤ ڈالتا رہا ہے کہ ایران کے خلاف سخت اقدامات کئے جائیں تاہم ایران پر کسی بھی براہِ راست حملے کے نتائج اسرائیل کیلئے بھی پیچیدہ ہو سکتے ہیں کیونکہ ایران کے اتحادی گروہ مختلف محاذوں پر ردعمل دے سکتے ہیں لبنان، شام، عراق اور یمن میں موجود مختلف گروہوں کی سرگرمیاں پہلے ہی خطے کی سکیورٹی صورتحال کو پیچیدہ بنا چکی ہیں اس لئے کسی بھی بڑے فوجی آپریشن کے نتائج کئی محاذوں پر سامنے آ سکتے ہیں ایران اور امریکا کے درمیان موجود کشیدگی کو صرف عسکری زاوئیے سے دیکھنا بھی کافی نہیں ہوگا کیونکہ اس کے پیچھے معاشی اور سیاسی عوامل بھی موجود ہیں ایران پر عائد پابندیوں نے اس کی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے، تاہم اس کے باوجود تہران نے اپنے علاقائی اثرورسوخ کو مکمل طور پر ختم نہیں ہونے دیا دوسری جانب امریکا بھی عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرتا ہے اگر مکمل جنگ ہوتی ہے تو اس کے اثرات عالمی مالیاتی منڈیوں، تیل کی قیمتوں، تجارتی راستوں اور سرمایہ کاری کے ماحول پر پڑ سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی بحالی چاہتے ہیں سفارت کاری کے حامی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ سخت دباؤ اور دھمکیوں کے بجائے مرحلہ وار اعتماد سازی، محدود معاہدوں اور اقتصادی تعاون کے ذریعے بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں تاہم دوسری طرف سخت گیر حلقے یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ اگر ایران پر دباؤ کم کیا گیا تو وہ اپنے جوہری پروگرام کو مزید آگے بڑھا سکتا ہے یہی تضاد اس بحران کو مزید پیچیدہ بناتا ہے اس وقت دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں طاقت کے روایتی تصورات تبدیل ہو رہے ہیں مصنوعی ذہانت، سائبر وارفیئر، ڈرون ٹیکنالوجی، میزائل دفاعی نظام اور معلوماتی جنگ اب جدید تنازعات کا اہم حصہ بن چکے ہیں امریکہ کے نئے دفاعی بجٹ میں ان تمام شعبوں پر زور دینا اس بات کا اشارہ ہے کہ آئندہ جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، معیشت، مواصلات اور معلوماتی نظام بھی اس کا حصہ ہوں گے ایران بھی گزشتہ برسوں میں ڈرون ٹیکنالوجی، میزائل پروگرام اور سائبر صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کرتا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی ایران کو صرف ایک روایتی فوجی حریف نہیں بلکہ ایک غیر روایتی چیلنج کے طور پر بھی دیکھتے ہیں ایران کی حکمتِ عملی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ براہِ راست جنگ سے گریز کرتے ہوئے علاقائی اثرورسوخ، اتحادی گروہوں اور غیر متوازن عسکری حکمتِ عملی کے ذریعے اپنے مخالفین پر دباؤ برقرار رکھتا ہے اس کے مقابلے میں امریکا اپنی برتری کو جدید ٹیکنالوجی، عالمی اتحادیوں اور معاشی طاقت کے ذریعے برقرار رکھنا چاہتا ہے ان دونوں ماڈلز کے درمیان مقابلہ مستقبل کی عالمی سیاست کو متاثر کر سکتا ہے اگر مذاکرات مکمل طور پر ناکام ہوتے ہیں اور فوجی کارروائی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے روس، چین، یورپ، خلیجی ممالک اور حتیٰ کہ جنوبی ایشیا بھی اس سے متاثر ہو سکتے ہیں پاکستان جیسے ممالک کے لیے بھی یہ صورتحال اہم ہے کیونکہ خطے میں عدم استحکام کا اثر توانائی، تجارت، سفارتی تعلقات اور سکیورٹی ماحول پر پڑ سکتا ہے عالمی معیشت پہلے ہی مہنگائی، تجارتی تنازعات اور جغرافیائی کشیدگیوں کے باعث دباؤ کا شکار ہے اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کئے جا سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ طاقت کے استعمال اور سفارت کاری کے درمیان ایک متوازن راستہ تلاش کرے۔



