تیل کی آمدنی میں کمی اور فیکٹریوں کی تباہی سے ایران کے معاشی مسائل کئی گنا بڑھ گئے، صدر پزشکیان
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد ایران کے معاشی مسائل مزید سنگین ہوگئے ہیں۔ ان کے مطابق تیل کی آمدنی میں کمی اور جنگ کے دوران صنعتی تنصیبات اور فیکٹریوں کی تباہی نے ملکی معیشت پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔انادولو کے مطابق ایرانی میڈیا میں نشر ہونے والے بیانات میں صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ملک میں قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ اخراجات میں اضافہ اور حکومت کی آمدنی میں کمی ہے۔ ان کے مطابق تیل کی فروخت میں کمی کے باعث ریاست کو حاصل ہونے والی آمدنی بھی کم ہوگئی ہے۔ایرانی صدر نے کہا کہ ماضی میں ایران اپنی ضرورت کی درآمدی اشیا نسبتاً براہ راست راستوں سے حاصل کرتا تھا، لیکن اب مختلف متبادل راستوں سے سامان ملک میں پہنچ رہا ہے، جس کے نتیجے میں درآمدی اشیا کی حتمی قیمت میں اضافہ ہوگیا ہے۔مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کی آمدنی میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق ایران پہلے تیل فروخت کرتا تھا، لیکن موجودہ حالات میں تیل کی فروخت پہلے کی طرح ممکن نہیں رہی، جس سے حکومت کے مالی وسائل متاثر ہوئے ہیں۔ایرانی صدر نے جنگ کے دوران ملک کے صنعتی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کو بھی معاشی مشکلات کی اہم وجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں فیکٹریوں کو نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا، جس سے نہ صرف صنعتی پیداوار متاثر ہوئی بلکہ حکومت کی ٹیکس آمدنی بھی کم ہوگئی۔
