مصر بھی مکہ دفاعی معاہدے کا حصہ بن سکتا ہے، ترک صدر
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ مصر مستقبل میں مکہ معاہدے میں شامل ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ مزید ممالک کی شمولیت کے لیے کھلا ہے اور آنے والے وقت میں اس کے دائرہ کار کو وسعت دی جاسکتی ہے۔عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رجب طیب اردوان نے تصدیق کی کہ مصر کو مکہ معاہدے میں شامل کرنے کا امکان موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کا مقصد شریک ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی رکن ملک کو بیرونی حملے کی صورت میں مشترکہ ردعمل کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ترک صدر کے مطابق مکہ معاہدے کے تحت شامل ممالک پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اگر کسی رکن ملک پر بیرونی حملہ کیا جاتا ہے تو دیگر شریک ممالک اجتماعی طور پر اس کے دفاع اور جواب دینے کے لیے اقدامات کریں۔مکہ معاہدہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید منظم کرنے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ معاہدے میں مزید ممالک کی شمولیت کا امکان اس دفاعی تعاون کو مستقبل میں وسیع علاقائی شراکت داری میں تبدیل کرسکتا ہے۔
