ایران کے لیے وقت فیصلہ: تباہی سے بچنے کا واحد راستہ اور علاقائی اثرات

مشرقِ وسطیٰ ایک خطرناک موڑ پرموجودہ عالمی منظر نامے میں مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے آتش فشاں پر کھڑا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ ایران اور عالمی قوتوں، بالخصوص امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اب اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں سفارت کاری کی گنجائش روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے۔ آج ایران جس دوراہے پر کھڑا ہے، وہاں اسے ایک تلخ مگر ضروری حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا: اگر ایران نے اپنے سخت موقف سے قدم پیچھے نہ ہٹائے، تو اسے ایسی “بڑی تباہی” کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کی تلافی دہائیوں تک ممکن نہیں ہوگی۔
مذاکرات سے انکار اور ممکنہ تباہی کا پیش خیمہ ایران کی قیادت کے لیے اب یہ سمجھنا ناگزیر ہے کہ جنگی جنون اور مذاکرات سے مسلسل انکار اسے عالمی تنہائی کی اس گہرائی میں دھکیل دے گا جہاں سے واپسی ناممکن ہے۔ اگر ایران ایٹمی پروگرام یا علاقائی مداخلت کے حوالے سے دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنے پر راضی نہیں ہوتا، تو اس کے نتائج کسی ہولناک المیے سے کم نہیں ہوں گے۔ * فوجی انفراسٹرکچر کی مکمل تباہی: جدید ٹیکنالوجی اور فضائی برتری کے حامل حریف ممالک ایران کے دفاعی نظام، تیل کی تنصیبات اور بجلی کے گرڈز کو چند دنوں میں مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ * معاشی خاتمہ: پہلے سے نافذ پابندیاں ایرانی معیشت کو کمزور کر چکی ہیں، لیکن ایک مکمل جنگ کی صورت میں ایرانی ریال کاغذ کا ٹکڑا بن کر رہ جائے گا اور افراطِ زر قابو سے باہر ہو جائے گا۔ * انسانی المیہ: کسی بھی بڑی کارروائی کی صورت میں عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ خوراک اور ادویات کی قلت ایک ایسا انسانی بحران پیدا کرے گی جو پوری نسل کو متاثر کرے گا۔
امریکہ کی حکمتِ عملی اور “الزام کی سیاست”موجودہ حالات میں ریاستہائے متحدہ امریکہ ایک ایسی پوزیشن میں ہے جہاں وہ عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں استعمال کر رہا ہے۔ اگر ایران مذاکرات کی دعوت کو مسترد کرتا رہتا ہے، تو امریکہ کو یہ موقع مل جائے گا کہ وہ مستقبل میں ہونے والی کسی بھی قسم کی تباہی کا تمام تر ملبہ مکمل طور پر ایران پر ڈال دے۔امریکہ عالمی برادری کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو جائے گا کہ:
ایران ایک غیر لچکدار ریاست ہے:* جو امن کے تمام مواقع ضائع کر رہی ہے۔ جنگ کا ذمہ دار تہران ہے:* چونکہ ایران نے سفارتی حل کے بجائے محاذ آرائی کو ترجیح دی، اس لیے فوجی کارروائی ناگزیر” ہو گئی تھی۔
دفاعی جواز: امریکہ اسے اپنے اور اپنے اتحادیوں کے دفاع کے طور پر پیش کرے گا، جس سے ایران کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان پر عالمی ہمدردی حاصل کرنا ناممکن ہو جائے گا۔
پاکستان کے لیے سفارتی سبکی اور شرمندگیایران کی ضد اور ممکنہ تباہی کا ایک براہِ راست اثر اس کے پڑوسی ملک پاکستان پر پڑے گا۔ پاکستان اور ایران کے تعلقات ہمیشہ سے حساس نوعیت کے رہے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ ایک برادر ملک اور پڑوسی ہونے کے ناطے ایران کا دفاع کرنے اور اسے عالمی دھارے میں شامل رکھنے کی کوشش کی ہے۔تاہم، اگر ایران مذاکرات سے انکار کرتا ہے، تو پاکستان کو درج ذیل وجوہات کی بنا پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا: * سفارتی ناکامی: پاکستان نے بارہا عالمی سطح پر ایران کے لیے ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔ ایران کا پیچھے ہٹنے سے انکار پاکستان کی ان تمام مخلصانہ کوششوں کو ناکام ثابت کر دے گا۔ * عالمی دباؤ: جب ایران پر “ہٹ دھرمی” کا لیبل لگے گا، تو پاکستان کے لیے اپنے اس پڑوسی کا دفاع کرنا عالمی فورمز (جیسے اقوامِ متحدہ) پر ناممکن ہو جائے گا۔ پاکستان کو اپنے قریبی دوستوں اور معاشی شراکت داروں کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا کہ وہ ایک ایسے ملک کی حمایت کیوں کر رہا ہے جو امن کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ * داخلی مسائل: ایران میں کسی بھی قسم کی تباہی کا مطلب ہوگا کہ لاکھوں پناہ گزین پاکستان کا رخ کریں گے، جس سے پاکستان کی اپنی معیشت اور سکیورٹی پر ناقابلِ برداشت بوجھ پڑے گا۔
قدم پیچھے ہٹانا: کمزوری یا دانشمندی؟تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں بچ پاتی ہیں جو وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنے مفادات کا تحفظ کرنا جانتی ہیں۔ ایران کے لیے “اسٹیپ ڈاؤن” کرنا یا پیچھے ہٹنا کوئی شکست نہیں، بلکہ اپنے عوام کو ایک ہولناک جنگ سے بچانے کی دانشمندانہ حکمتِ عملی ہے۔مذاکرات کی بحالی سے ایران کو درج ذیل مواقع مل سکتے ہیں: * پابندیوں میں نرمی اور معاشی سانس لینے کی جگہ۔ * اپنے ایٹمی اور دفاعی اثاثوں کو سفارتی تحفظ دینا۔ * خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو جنگ کے بجائے تجارت کے ذریعے مستحکم کرناایران کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ضد کی سیاست کا دور گزر چکا ہے۔ ’’بڑی تباہی” کے سائے تہران کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ اگر آج مذاکرات شروع نہ کیے گئے تو کل پچھتاوے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ امریکہ اسے مکمل طور پر مجرم قرار دینے کے لیے تیار بیٹھا ہے، اور پاکستان جیسے دوست ممالک کے لیے ایران کا دفاع کرنا بوجھ بنتا جا رہا ہے۔ایران کی بقا اس بات میں ہے کہ وہ عالمی برادری کے تحفظات کو دور کرے اور ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر مذاکرات کی میز پر واپس آئے۔ تباہی کا راستہ روکنے کے لیے ایک قدم پیچھے ہٹنا، دراصل مستقبل کی طرف دو قدم بڑھانے کے مترادف ہوگا۔



