امریکا ایران معاہدے کا مسودہ تیار، سعودی میڈیا کا دعویٰ

امریکا ایران معاہدے کا مسودہ تیار، سعودی میڈیا کا دعویٰ

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی ثالثی میں تیار کیا گیا ایک ممکنہ معاہدے کا حتمی مسودہ مکمل ہوگیا جس کا اعلان آئندہ چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔اس بات کا انکشاف سعودی عرب کے سرکاری نشریاتی نیٹ ورک العربیہ نے باخبر اور مستند ذرائع کے حوالے سے اپنی خصوصی رپورٹ میں کیا ہے۔نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس باخبر ذرائع نے العربیہ نیوز کو مزید بتایا کہ یہ مسودہ ابھی دونوں ممالک کی باضابطہ منظوری کا منتظر ہے۔ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حتمی مسودے کی منظوری بھی بہت جلد متوقع ہے اور اب چند گھنٹوں کے بعد اس کا اعلان کردیا جائے گا۔رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ معاہدے کے نافذ ہوتے ہی فوری اور غیر مشروط جنگ بندی عمل میں آ جائے گی جس کا اطلاق زمینی، فضائی اور بحری تمام محاذوں پر ہوگا۔مجوزہ معاہدے کے تحت امریکا اور ایران ایک دوسرے کی فوجی، شہری اور معاشی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کے پابند ہوں گے جبکہ میڈیا پر جاری سخت بیانات اور پراکسی محاذ آرائی کو بھی روکنے پر اتفاق کیا گیا۔مجوزہ نو نکاتی معاہدے میں آبنائے ہرمز، خلیج عمان اور خلیج عرب میں جہاز رانی کی آزادی کی ضمانت بھی شامل ہے جبکہ عمل درآمد کی نگرانی اور تنازعات کے حل کے لیے مشترکہ میکنزم قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔اس مجوزہ معاہدے کے مطابق اعلان کے 7 روز بعد باقی متنازع امور پر باضابطہ مذاکرات شروع ہوں گے جبکہ ایران کی شرائط پر عمل درآمد کے بدلے امریکا بتدریج اقتصادی پابندیاں نرم کرے گا۔تاہم رپورٹ میں یہ بات نمایاں ہے کہ مجوزہ مسودے میں امریکا کے اہم مطالبات واضح طور پر شامل نہیں جن میں ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ، 60 فیصد افزودہ یورینیم کے ذخائر بیرون ملک منتقل کرنا، بیلسٹک میزائل پروگرام محدود کرنا اور خطے میں مسلح اتحادی گروپوں کی حمایت روکنا شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں