ایران اب بھی طاقتور؟ امریکی رپورٹ نے ٹرمپ دعووں پر سوال اٹھا دیا
امریکا کے ایک ٹی وی چینل کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کی فوجی صلاحیت اب بھی خاصی حد تک برقرار ہے، جس میں میزائل، بحری اسلحہ اور فضائی طاقت شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے تقریباً آدھے بیلسٹک میزائل اور ان کے لانچنگ سسٹمز اب بھی موجود ہیں۔ اسی طرح پاسداران انقلاب کے پاس 60 فیصد بحری اسلحہ اور تیز رفتار کشتیاں (اسپیڈ بوٹس) بدستور موجود ہیں، جنہیں مبینہ طور پر آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال کیا گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایرانی فضائیہ کا تقریباً دو تہائی حصہ اب بھی فعال (آپریشنل) ہے، جو ایران کی دفاعی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایران کی حقیقی فوجی طاقت اس سے کہیں زیادہ ہے جتنی ٹرمپ انتظامیہ نے عوام کے سامنے ظاہر کی ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے اس رپورٹ کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی میڈیا ایک بار پھر ایران کے حق میں پروپیگنڈا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں امریکی افواج نے صرف 38 دنوں میں ایران کے دفاعی اور صنعتی ڈھانچے کو تقریباً مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔
ن کے مطابق ایران کی بیلسٹک میزائل اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز بنانے اور ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو کئی سال پیچھے دھکیل دیا گیا ہے، جبکہ ایرانی بحریہ کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
یہ متضاد دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور عالمی برادری ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ کشیدگی میں کمی کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔



