غزہ امن بورڈ،ایک نیا بین الاقوامی فریم ورک، امکانات اور ذمہ داریاں

Gaza Peace Board, a new international framework, possibilities and responsibilities


غزہ کا مسئلہ کئی دہائیوں سے عالمی سیاست، بین الاقوامی سفارت کاری اور انسانی ہمدردی کے مباحث کا ایک مستقل اور اہم موضوع رہا ہے خطے میں پائیدار امن کیلئے مختلف ادوار میں متعدد منصوبے، تجاویز اور فریم ورک پیش کئے جاتے رہے ہیں جن میں علاقائی اور عالمی طاقتوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی اداروں نے بھی کردار ادا کیا انہی کوششوں کے تسلسل میں حالیہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں مجوزہ غزہ امن بورڈ کا چارٹر سامنے آیا ہے جسے 60 ممالک کو ارسال کیا گیا ہے یہ پیش رفت عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے اور مختلف حلقوں میں اس کے ممکنہ اثرات، دائرہ کار اور مستقبل پر غور کیا جا رہا ہےچارٹر کے مطابق غزہ امن بورڈ ایک ایسا بین الاقوامی فورم ہوگا جس کا مقصد غزہ میں استحکام، تعمیرِ نو، انتظامی نظم و نسق اور طویل المدتی امن کیلئے ایک منظم اور مربوط لائحہ عمل تشکیل دینا ہے اس بورڈ کے قیام کا بنیادی تصور یہ ہے کہ مختلف ممالک، ادارے اور ماہرین ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر آ کر غزہ سے متعلق سیکیورٹی، انسانی امداد، معاشی بحالی اور سیاسی ہم آہنگی جیسے معاملات پر عملی اقدامات کریں بین الاقوامی سیاست میں اس نوعیت کے فورمز کو عموماً ایک ایسے میکانزم کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو بکھری ہوئی کوششوں کو ایک سمت دینے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیںچارٹر میں شامل مالی شقیں اس منصوبے کا ایک نمایاں پہلو ہیں اس کے تحت طویل مدت کی رکنیت کے خواہشمند ممالک کیلئے ایک ارب ڈالر سے زائد فنڈ فراہم کرنے کی شرط رکھی گئی ہے جبکہ 3سالہ رکنیت کا عمومی اصول بھی متعارف کرایا گیا ہے اس کے ساتھ یہ گنجائش بھی رکھی گئی ہے کہ اگر کوئی ملک ابتدائی سال میں ہی ایک ارب ڈالر سے زائد نقد رقم فراہم کرتا ہے تو اس پر تین سالہ رکنیت کی شرط لاگو نہیں ہوگی ان شقوں کو بعض ماہرین اس تناظر میں دیکھ رہے ہیں کہ غزہ جیسے پیچیدہ خطے میں امن اور تعمیرِ نو کے لیے بڑے مالی وسائل ناگزیر ہوتے ہیں، اور بین الاقوامی شراکت داری اسی وقت مؤثر ہو سکتی ہے جب اس کے ساتھ واضح مالی ذمہ داریاں بھی منسلک ہوں۔

ہر رکن ملک نفاذ کی تاریخ سے تین سال تک خدمات انجام دے گا جبکہ بورڈ کے چیئرمین کی منظوری سے رکنیت کی مدت میں توسیع بھی ممکن ہوگی اس انتظامی ڈھانچے کا مقصد ایک ایسا فریم ورک تشکیل دینا بتایا جا رہا ہے جو تسلسل کے ساتھ کام کر سکے اور بار بار کی تبدیلیوں سے بچتے ہوئے طویل المدتی منصوبہ بندی کو یقینی بنائے عالمی اداروں کے تجربات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ مستقل مزاجی اور واضح مدتِ کار کسی بھی منصوبے کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

غزہ امن بورڈ کی تشکیل میں شامل شخصیات بھی اس منصوبے کی نوعیت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں عالمی استحکام فورس کے کمانڈر کے طور پر میجر جنرل جیسپر جیفرز کی تقرری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سکیورٹی اور استحکام کو اس منصوبے میں ایک اہم عنصر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اسی طرح بورڈ آف پیس میں مارکو روبیو، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر جیسے افراد کی شمولیت سفارتی اور پالیسی سطح پر تجربے کے استعمال کی کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

ٹونی بلیئر، مارک روون، اجے بنگا اور رابرٹ گیبریل جیسے بین الاقوامی سطح پر معروف ناموں کی موجودگی اس امر کی عکاس ہے کہ اس بورڈ کو محض ایک علاقائی فورم کے بجائے ایک عالمی نوعیت کا پلیٹ فارم بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ان شخصیات کا تجربہ، چاہے وہ سیاست ہو، معیشت ہو یا عالمی ادارہ جاتی نظم و نسق، غزہ سے متعلق مختلف پہلوؤں کو سمجھنے اور ان پر کام کرنے میں معاون ہو سکتا ہے۔

بورڈ آف پیس کیلئے آرئیے لائٹ اسٹون اور جوش گرون بام کو سینئر مشیر مقرر کیا گیا ہے جبکہ وائٹ ہاؤس کے مطابق نکولے ملادینوف کو ایگزیکٹو رکن کی حیثیت دی گئی ہے اور وہ غزہ کیلئے نمائندہ اعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دیں گے نکولے ملادینوف کا خطے اور اقوام متحدہ کے ساتھ سابقہ تجربہ اس کردار میں ایک عملی پہلو فراہم کر سکتا ہے کیونکہ ایسے معاملات میں علاقائی حساسیت اور زمینی حقائق کی سمجھ کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہےگزشتہ سال اعلان کیے گئے منصوبے کے مطابق غزہ امن بورڈ کے سربراہ خود ڈونلڈ ٹرمپ ہوں گے اس پہلو کو بعض مبصرین ایک مضبوط قیادت کے تصور کے طور پر دیکھتے ہیں جس کے ذریعے مختلف فریقین کے درمیان رابطہ کاری اور فیصلہ سازی میں تیزی لائی جا سکتی ہے عالمی سطح پر کئی امن منصوبے ایسے رہے ہیں جن میں کسی نمایاں بین الاقوامی شخصیت کی قیادت نے منصوبے کو شناخت اور توجہ فراہم کی،یہاں یہ نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ غزہ امن بورڈ کا تصور ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی برادری غزہ کی انسانی صورتحال، بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور معاشی سرگرمیوں کی بحالی کے حوالے سے سنجیدہ سوالات پر غور کر رہی ہے طویل تنازعات کے بعد کسی بھی خطے میں امن صرف جنگ بندی تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے ساتھ روزگار، تعلیم، صحت، پانی، بجلی اور انتظامی ڈھانچے جیسے مسائل کا حل بھی ناگزیر ہو جاتا ہے اس تناظر میں اگر غزہ امن بورڈ ان تمام پہلوؤں کو ایک جامع حکمت عملی کے تحت دیکھتا ہے تو یہ ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہےبین الاقوامی تجربات یہ بتاتے ہیں کہ امن کے منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف ڈھانچے اور فنڈز پر نہیں ہوتا بلکہ اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ وہ مقامی ضروریات، زمینی حقائق اور متعلقہ فریقین کی توقعات کو کس حد تک شامل کرتے ہیں غزہ ایک ایسا علاقہ ہے جہاں سماجی، سیاسی اور انسانی عوامل ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں، اس لئے کسی بھی منصوبے میں توازن، شفافیت اور تدریج کو خاص اہمیت دینا ضروری ہوگاغزہ امن بورڈ کے چارٹر میں مالی شراکت کی وضاحت ایک طرف تو وسائل کی دستیابی کو یقینی بنانے کی کوشش ہے جبکہ دوسری جانب یہ بین الاقوامی ذمہ داری کے تصور کو بھی اجاگر کرتی ہے ایسے فورمز میں مالی شفافیت، احتساب اور مؤثر استعمال وہ عوامل ہوتے ہیں جو رکن ممالک کے اعتماد کو مضبوط بناتے ہیں اگر بورڈ اس حوالے سے واضح طریقہ کار وضع کرتا ہے تو اس سے نہ صرف شراکت دار ممالک بلکہ عالمی اداروں اور امدادی تنظیموں کے ساتھ تعاون کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیںیہ بھی ایک حقیقت ہے کہ غزہ جیسے حساس خطے میں کسی بھی نئے انتظامی یا امن فریم ورک کو وقت درکار ہوتا ہے ابتدائی مراحل میں توجہ منصوبہ بندی، اعتماد سازی اور رابطہ کاری پر مرکوز رہتی ہے، جبکہ عملی نتائج مرحلہ وار سامنے آتے ہیں اس لئے غزہ امن بورڈ کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے کہ آیا یہ فورم طویل مدت میں ایک مؤثر اور قابلِ عمل ماڈل بن پاتا ہے یا نہیں،بین الاقوامی سیاست میں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ امن کے منصوبے مختلف نقطۂ نظر کو جنم دیتے ہیں کچھ حلقے انہیں ایک موقع سمجھتے ہیں جبکہ کچھ محتاط انداز میں ان کے عملی پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں غزہ امن بورڈ کے معاملے میں بھی یہی فطری تنوع نظر آتا ہے تاہم ایک امر پر عمومی اتفاق پایا جاتا ہے کہ غزہ کے عوام کیلئے امن، استحکام اور بہتر زندگی کے امکانات پیدا ہونا سب کی مشترکہ خواہش ہےآخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ غزہ امن بورڈ کا چارٹر ایک نئے بین الاقوامی فریم ورک کی نمائندگی کرتا ہے، جو مالی وسائل، تجربہ کار شخصیات اور منظم ڈھانچے کے ذریعے غزہ کے مسئلے سے نمٹنے کی کوشش کرتا ہے اس منصوبے کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ یہ کس حد تک شفاف، جامع اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ رہتا ہے اگر یہ فورم تعاون، ذمہ داری اور تدبر کے اصولوں پر آگے بڑھتا ہے تو یہ غزہ کیلئے ایک مثبت اور تعمیری سمت فراہم کر سکتا ہےامن کے سفر میں کوئی ایک قدم حتمی حل نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے غزہ امن بورڈ بھی اسی عمل کا ایک مرحلہ ہے جسے وقت، عملی اقدامات اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے پرکھا جائیگا عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ یہ نیا فریم ورک کس طرح اپنے اہداف کو حقیقت کا روپ دیتا ہے اور غزہ کے مستقبل میں کس نوعیت کا کردار ادا کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں