ٹرمپ کے اسلام آباد یادداشت سے متعلق بیان پر ایران برہم، امریکی سفارت کاری کو کھوکھلا قرار دے دیا
تہران: ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے متعلق بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے امریکی سفارت کاری کو کھوکھلا قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ٹرمپ کا یہ اعتراف کہ وہ کبھی بھی اسلام آباد ایم او یو پر یقین نہیں رکھتے تھے اور اسے وقت کا ضیاع سمجھتے تھے، امریکا کے سفارتی وعدوں کی حقیقت ظاہر کرتا ہے۔
اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ واشنگٹن کی سفارت کاری کے لیے حقارت ایک بار پھر واضح ہوگئی ہے، تاہم ایران کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں۔
بقائی نے الزام عائد کیا کہ امریکا کی تاریخ بین الاقوامی وعدوں سے پیچھے ہٹنے اور اپنے مفادات کے خلاف ہونے پر عالمی ذمہ داریوں کو نظرانداز کرنے سے بھری پڑی ہے۔
انہوں نے یورپی ممالک اور امریکا کے دیگر حامیوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ انہیں واشنگٹن کے طرزِ عمل کا دفاع کرنے یا اسے جواب دہی سے بچانے کا سلسلہ بند کرنا چاہیے۔
ان کے مطابق، وعدوں کی خلاف ورزی کو جائز قرار نہیں دیا جاسکتا اور بین الاقوامی قانون کا اطلاق منتخب انداز میں نہیں ہونا چاہیے۔
ایرانی ترجمان نے مزید کہا کہ سیاسی بیانات اور وضاحتیں امریکا کو اس کے اقدامات کی جواب دہی سے نہیں بچا سکتیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور امریکا و ایران کے درمیان سفارتی رابطوں پر اختلافات نمایاں ہیں۔
