ویتنام: درختوں کی ’خوشبو‘ شہریوں کے لیے وبالِ جان بن گئی، حکومت نے کاٹنا شروع کر دیا

ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں درختوں کی تیز خوشبو شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بن گئی جس کے بعد حکام نے سیکڑوں درختوں کی شاخیں کاٹنے اور بعض کو دوسری جگہ منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ہنوئی میں ’ہوا سوا‘ یا ’ملک فلاور‘ کہلانے والے درخت اپنی مخصوص میٹھی خوشبو کے لیے مشہور ہیں۔
یہ درخت شام کے وقت تیز خوشبو چھوڑتے ہیں، جو ستمبر اور اکتوبر میں مزید بڑھ جاتی ہے۔
شہر میں تقریباً 14 ہزار 400 ایسے درخت موجود ہیں جن کی خوشبو طویل عرصے سے ہنوئی کے موسمِ خزاں کی پہچان سمجھی جاتی ہے۔
تاہم بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ خوشبو اتنی تیز ہوتی ہے کہ انہیں سردرد اور مائیگرین کی شکایت ہونے لگتی ہے۔ ایک شہری نے بتایا کہ انہوں نے اسی وجہ سے شام کی واک چھوڑ دی۔
شکایات کے بعد حکام نے پانچ روزہ مہم کے دوران تقریباً 7 فیصد درختوں کی پھولوں والی شاخیں کاٹنے کا کام شروع کیا۔
دوسری جانب بعض شہری اس فیصلے سے ناخوش ہیں اور ان درختوں کی خوشبو کو شہر کی خوبصورتی کا حصہ قرار دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ خوشبو زہریلی نہیں، تاہم درختوں کے پولن سے بعض افراد کو الرجی ہو سکتی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں