یوکرین کا روس پر ایک ہزار سے زائد ڈرونز سے حملہ، تیل تنصیبات اور صنعتی مراکز میں آگ بھڑک اٹھی
یوکرین نے روس کے مختلف علاقوں پر ایک ہزار سے زائد ڈرونز سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں تیل کی تنصیبات، گوداموں اور صنعتی مراکز میں آگ لگ گئی۔
روسی حکام کے مطابق حملوں میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے، جبکہ کئی رہائشی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ یہ جنگ کے دوران یوکرین کے بڑے فضائی حملوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
الجزیرہ، اے ایف پی، اے پی اور رائٹرز کی رپورٹس کے مطابق، سینٹ پیٹرزبرگ کے گورنر الیگزینڈر بیگلوف نے بتایا کہ اتوار کو ہونے والے حملوں کے بعد شہر کے آئل ٹرمینل، روچی آئل ڈپو اور کولپنسکی ضلع میں صنعتی گوداموں میں آگ بھڑک اٹھی۔
روسی آن لائن کاروباری کمپنی اوزون نے بھی اپنے لاجسٹکس مرکز میں آگ لگنے کی اطلاع دی، جبکہ ٹیکنالوجی کمپنی وی کے کے مطابق لینن گراڈ کے علاقے میں اس کے ڈیٹا سینٹر کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، تاہم صارفین کے لیے خدمات معمول کے مطابق جاری رہیں۔
لینن گراڈ کے گورنر الیگزینڈر ڈروزڈینکو کے مطابق، حملے کے دوران تقریباً 145 ڈرونز مار گرائے گئے اور لگ بھگ 20 ہزار افراد بجلی سے محروم ہوگئے۔
روسی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ رات کے دوران روس کے 15 علاقوں، روس کے زیرِ قبضہ یوکرینی جزیرہ نما کریمیا اور بحیرۂ اسود کے اوپر مجموعی طور پر 1,015 یوکرینی ڈرونز کو تباہ یا ناکارہ بنایا گیا۔ سینٹ پیٹرزبرگ کے مرکزی ہوائی اڈے پر بھی حفاظتی وجوہات کی بنا پر پروازوں کا آپریشن متاثر ہوا۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کے درمیان اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ ٹرمپ نے روسی تیل اور توانائی کی تنصیبات پر یوکرینی حملوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ روس پر نئی پابندیاں نافذ کرنے میں جلد بازی نہیں کرنا چاہتے، کیونکہ ان کے بقول اس سے ماسکو کے ساتھ مذاکرات متاثر ہوسکتے ہیں۔
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یوکرینی صدر جنگ ختم نہیں کرنا چاہتے۔ دوسری جانب زیلنسکی نے کہا کہ روس نے توانائی کے شعبے پر حملے جاری رکھے ہیں اور ٹرمپ کے اعلان کردہ ’’توانائی جنگ بندی‘‘ کے بعد بھی یوکرین کے توانائی، تیل اور گیس کے شعبوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق، ایک ہفتے کے دوران ایسے 76 حملے ہوئے۔
زیلنسکی نے خبردار کیا کہ روس پر پابندیوں میں نرمی ماسکو کی جنگی کوششوں کو تقویت دے سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکا اور یوکرین کے درمیان انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ دوبارہ شروع ہوچکا ہے۔ اتوار کو انہوں نے امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے سفارتی رابطوں اور مذاکرات کے اگلے مراحل پر بھی بات کی۔
