امریکا کا ایران پر بڑا معاشی حملہ، 50 سے زائد افراد، کمپنیوں اور جہازوں پر نئی پابندیاں
واشنگٹن: امریکا نے ایران کے تیل کی برآمدات اور شپنگ نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 50 سے زائد افراد، کمپنیوں اور بحری جہازوں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ Politics(Right)
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ پابندیاں ایرانی شپنگ اور تیل کی تجارت سے وابستہ ایک ایسے نیٹ ورک پر لگائی گئی ہیں جسے امریکا نے پابندیوں سے بچنے اور ایرانی تیل کی برآمدات جاری رکھنے کا ذریعہ قرار دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ نیٹ ورک ایرانی تیل کے معروف کاروباری شخصیت محمد حسین شمخانی سے منسلک ہے، جس پر الزام ہے کہ وہ مختلف ممالک میں قائم کمپنیوں اور بحری جہازوں کے ذریعے امریکی پابندیوں سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اس نیٹ ورک میں ایرانی اور غیر ملکی شہری، کمپنیاں اور مختلف ادارے شامل ہیں، جو مبینہ طور پر آف شور شیل کمپنیوں کے ذریعے پابندیوں کے باوجود تیل اور دیگر اشیا کی تجارت کرتے ہیں اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو منتقل کرتے ہیں۔
واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یہ نیٹ ورک ایران کی تیل برآمدات جاری رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ ایرانی حکومت ان وسائل سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔
امریکی حکام نے کہا کہ امریکا ایران کو اس کی پالیسیوں پر جوابدہ بنانے کے لیے اپنے پاس موجود تمام قانونی اور معاشی ذرائع استعمال کرتا رہے گا۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے ان تازہ پابندیوں پر فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم ماضی میں تہران امریکی پابندیوں کو غیر قانونی قرار دیتا رہا ہے اور ان کے باوجود اپنی تیل برآمدات جاری رکھنے کا دعویٰ کرتا آیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نئی پابندیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور توانائی کی عالمی منڈی بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
