ایران کا مفاہمتی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے ماہرین کی ٹیم قطر بھیجنے کا فیصلہ
ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ رواں ماہ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد سے متعلق امور پر بات چیت کے لیے اپنے ماہرین پر مشتمل ایک وفد اس ہفتے قطر کے دارالحکومت دوحہ بھیجے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا ایک تکنیکی اور ماہرین پر مشتمل وفد اس ہفتے دوحہ روانہ ہوگا، جہاں مفاہمتی یادداشت کی مختلف شقوں پر عمل درآمد کے طریقہ کار اور تکنیکی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ ملاقات صرف تکنیکی اور عملی معاملات تک محدود ہوگی اور اس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے ابتدائی معاہدے پر پیش رفت کو یقینی بنانا ہے۔
اسماعیل بقائی نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ ایران اور امریکا کے درمیان کسی حتمی معاہدے پر مذاکرات شروع ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ابھی تک حتمی معاہدے کے لیے باضابطہ مذاکرات کے مرحلے میں داخل نہیں ہوا۔
ترجمان کے مطابق آئندہ چند روز کے دوران امریکا کے ساتھ کسی بھی سطح پر نہ تو سیاسی مذاکرات ہوں گے اور نہ ہی کسی قسم کی براہِ راست ملاقات طے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ مرحلے میں صرف مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد سے متعلق تکنیکی امور پر توجہ دی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دوحہ میں ہونے والے یہ تکنیکی مذاکرات مستقبل میں ایران اور امریکا کے درمیان اعتماد سازی، سفارتی رابطوں میں بہتری اور ممکنہ حتمی معاہدے کے لیے راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، تاہم دونوں ممالک کی جانب سے اس مرحلے پر سیاسی مذاکرات سے گریز محتاط سفارتی حکمت عملی کی نشاندہی کرتا ہے۔



