اسرائیلی حکومت پر تنقید کو یہود دشمنی قرار نہیں دیا جا سکتا، امریکی نائب صدر

اسرائیلی حکومت پر تنقید کو یہود دشمنی قرار نہیں دیا جا سکتا، امریکی نائب صدر

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیل حامی حلقوں کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا ہے کہ اسرائیلی حکومت یا وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر کی جانے والی ہر تنقید کو یہود دشمنی قرار دیا جائے۔ایک انٹرویو کے دوران جے ڈی وینس نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید اور یہود دشمنی دو الگ چیزیں ہیں، جنہیں ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے اسرائیل نواز حلقے یہ غلطی کرتے ہیں کہ وہ اسرائیلی حکومت پر ہونے والی ہر تنقید کو یہود دشمنی سے جوڑ دیتے ہیں۔امریکی نائب صدر نے کہا کہ کسی بھی ملک کی حکومت یا اس کے رہنماؤں کی پالیسیوں پر تنقید جمہوری عمل کا حصہ ہوتی ہے اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ بعض اسرائیل حامی گروہ امریکا اور اسرائیل کے مفادات کو ایک ہی چیز سمجھتے ہیں، حالانکہ دونوں ممالک کے قومی مفادات ہمیشہ ایک جیسے نہیں ہوتے اور ان کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔انٹرویو کے دوران جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور معروف سیاسی کارکن چارلی کرک کے بارے میں سوال کیا گیا تو جے ڈی وینس نے کہا کہ چارلی کرک یہود دشمنی کے سخت مخالف تھے، تاہم وہ امریکی سیاست میں اسرائیلی اثرورسوخ کے بڑھتے کردار پر تشویش کا اظہار کرتے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں