ایران کے آبنائے ہرمز بند کرنے کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

ایران کے آبنائے ہرمز بند کرنے کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

امریکا کی جانب سے ایران پر تازہ حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے جبکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سرمایہ کاروں نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور توانائی کی ترسیل سے متعلق خدشات کے باعث تیل کی خریداری میں اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں اوپر چلی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں 2.30 ڈالر یا 2.47 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت 95.40 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت میں 2.60 ڈالر یا 2.89 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 92.63 ڈالر فی بیرل پر جا پہنچی۔
تجارتی اعداد و شمار کے مطابق امریکی خام تیل کے فیوچر معاہدوں میں ابتدائی کاروبار کے دوران 3 ڈالر سے زائد کا اضافہ بھی دیکھا گیا، جو سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے، جہاں سے دنیا کے بڑے حصے کو تیل فراہم کیا جاتا ہے۔ اس اہم گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور تیل کی قیمتوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے یا آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل متاثر ہوتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر مرتب ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں