ایران کی امریکا کو نئی پیشکش، آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے بڑا فارمولا سامنے آگیا
ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے اور جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کو نئی شرائط پیش کر دی ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے ایکزیوس کی رپورٹ کے مطابق یہ پیشکش ایک امریکی عہدیدار اور معاملے سے واقف دیگر ذرائع کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے تجویز دی ہے کہ پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے اور جنگ بندی کی طرف پیش رفت کی جائے، جبکہ جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر رکھا جائے۔
ذرائع کے مطابق ایران نے یہ پیغام پاکستان کے ذریعے ثالثی کے طور پر امریکا تک پہنچایا جو اس وقت دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کھولنے اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کا معاہدہ طے پا جاتا ہے تو امریکی صدر ٹرمپ کے پاس ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے محدود آپشنز رہ جائیں گے، خاص طور پر یورینیم افزودگی کے پروگرام کے حوالے سے پیش رفت نہیں ہوسکے گی۔
ماہرین کے مطابق امریکا چاہتا ہے کہ ایران کم از کم ایک دہائی کے لیے یورینیم افزودگی معطل کرے، لیکن ایران کی نئی تجویز میں اس معاملے کو فوری طور پر شامل نہیں کیا گیا، جس سے مذاکرات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلیجی خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی معیشت پر اس کے اثرات بڑھتے جا رہے ہیں۔



