امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا دنیا بھر میں خیر مقدم، پاکستانی کردار کی تعریف
امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد دنیا بھر کے ممالک نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کے قیام پر زور دیا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ اس جنگ بندی کے تحت ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے گا، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمندری گزرگاہ ہے۔
اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مستقل امن معاہدے کے لیے مذاکرات اسلام آباد میں جمعہ سے شروع ہوں گے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوتریس نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اس معاہدے کی مکمل پابندی کریں تاکہ خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔
انہوں نے شہریوں کے تحفظ اور انسانی نقصان کو کم کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔
آسٹریلیا، ملائیشیا، جاپان، مصر، عراق اور نیوزی لینڈ سمیت متعدد ممالک نے اس جنگ بندی کو مثبت پیش رفت قرار دیا ہے اور زور دیا ہے کہ تمام فریقین کشیدگی میں کمی کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔
مصر کی وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ جنگ بندی مذاکرات اور سفارتکاری کے لیے ایک اہم موقع ہے، جس سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے بھی امید ظاہر کی کہ یہ اقدام خطے میں دیرپا استحکام کا باعث بنے گا، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ مستقل امن کے لیے مزید کوششیں درکار ہیں۔
عالمی رہنماؤں نے پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کی ثالثی کوششوں کو بھی سراہا، جنہوں نے اس جنگ بندی کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ جنگ بندی ایک مثبت قدم ہے، لیکن خطے میں دیرپا امن کے لیے فریقین کو مکمل سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا ہوں گے۔



