بدلتی دنیا اور ہماری اجتماعی ذمہ داری

بدلتی دنیا اور ہماری اجتماعی ذمہ داری


دنیا کی سیاست میں بعض بیانات محض جملے نہیں ہوتے، وہ آنے والے وقت کی سمت کا اعلان ہوتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فلوریڈا میں دیا گیا حالیہ خطاب بھی ایسا ہی ایک بیان ہے، جسے محض سیاسی شیخی یا انتخابی تقریر سمجھ کر نظرانداز کرنا دانشمندی نہیں ہوگی۔ ٹرمپ نے جہاں اپنی روایتی خود ستائشی انداز میں یہ دعویٰ کیا کہ انہوں نے دنیا میں آٹھ جنگیں رکوائیں، وہیں پاک بھارت جنگ کو ان میں سب سے زیادہ خطرناک قرار دے کر عالمی سیاست کے ایک نازک باب پر انگلی رکھ دی۔یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی امریکی صدر نے جنوبی ایشیا کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہو، مگر یہ پہلا موقع ضرور ہے کہ ایک امریکی صدر کھلے عام یہ اعتراف کرے کہ پاک بھارت تصادم اگر آگے بڑھتا تو اس کے اثرات عالمی سطح پر تباہ کن ہو سکتے تھے۔ اس ایک جملے میں وہ سچ چھپا ہے جسے برسوں سے عالمی طاقتیں دبانے کی کوشش کرتی رہی ہیں: پاکستان اور بھارت کی دشمنی محض دو ملکوں کا تنازع نہیں بلکہ ایٹمی دنیا کا سب سے حساس فلیش پوائنٹ ہے۔پاک بھارت جنگ: ایک لمحہ جو تاریخ بدل سکتا تھاصدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ مئی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ میں آٹھ جنگی طیارے تباہ ہوئے۔ اگر اس دعوے کو درست مان لیا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سا لمحہ تھا جب دنیا واقعی ایک بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑی تھی؟ جنوبی ایشیا میں جنگ کا مطلب صرف سرحدی جھڑپیں نہیں ہوتیں، یہاں ایک غلط حساب، ایک غلط فیصلہ، کروڑوں جانوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں، دونوں کے پاس میزائل ٹیکنالوجی ہے، اور دونوں کی عسکری قیادت یہ جانتی ہے کہ مکمل جنگ کا انجام صرف تباہی ہے۔ مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جنگیں ہمیشہ عقل کے فیصلوں سے نہیں رکتیں، اکثر انا، سیاست اور داخلی دباؤ انہیں آگے دھکیلتا ہے۔ اگر اس مئی میں جنگ رکی تو اس کے پیچھے محض سفارت کاری نہیں بلکہ خوف بھی کارفرما تھا—خوف اس بات کا کہ ایٹمی آگ بھڑک گئی تو کوئی اسے بجھا نہیں سکے گا۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف: ایک غیر معمولی اشارہٹرمپ کے خطاب کا سب سے چونکا دینے والا پہلو پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کھلی تعریف تھی۔ امریکی صدور عموماً پاکستانی عسکری قیادت کے بارے میں محتاط زبان استعمال کرتے ہیں، مگر ٹرمپ کا یہ کہنا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک ’’انتہائی قابل احترام شخصیت” ہیں، محض تعریف نہیں بلکہ ایک سفارتی پیغام بھی ہے۔یہ بیان اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی طاقتیں پاکستان کی عسکری قیادت کو خطے میں استحکام کا ضامن سمجھتی ہیں۔ یہ اعتراف اس بیانیے کی نفی بھی کرتا ہے جو پاکستان کو عالمی سطح پر غیر ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ اگر امریکی صدر خود یہ تسلیم کر رہا ہے کہ پاک بھارت جنگ کو روکنے میں پاکستانی قیادت کا کردار اہم تھا، تو یہ پاکستان کے لیے ایک سفارتی کامیابی ہے، چاہے اسے خاموشی سے ہی کیوں نہ حاصل کیا گیا ہو۔ٹرمپ اور جنگیں: حقیقت یا سیاسی داستان؟یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا واقعی ٹرمپ نے آٹھ جنگیں رکوائیں؟ یا یہ ایک سیاسی دعویٰ ہے جو انتخابی مہم یا ذاتی امیج سازی کے لیے کیا گیا؟ ٹرمپ کی سیاست ہمیشہ “میں” کے گرد گھومتی ہے—میں نے یہ کیا، میں نے وہ کیا، میرے بغیر دنیا تباہ ہو جاتی۔ مگر اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ ان کے دور میں بعض بڑے تنازعات مکمل جنگ میں تبدیل نہیں ہوئے۔ایران، شمالی کوریا، روس، چین—ہر محاذ پر ٹرمپ نے جارحانہ زبان کے ساتھ ساتھ غیر متوقع سفارت کاری بھی کی۔ پاک بھارت معاملے میں بھی ان کا کردار شاید ثالث سے زیادہ ایک دباؤ ڈالنے والے طاقتور فریق کا تھا، مگر بعض اوقات جنگ رکوانے کے لیے ثالث نہیں بلکہ خوف کافی ہوتا ہے، اور امریکا آج بھی وہ طاقت ہے جس کا خوف بہت کچھ رکوا سکتا ہے۔امریکی بحری طاقت کا اعلان: پیغام کس کے لیے؟اپنے خطاب میں ٹرمپ نے امریکی بحری فوج کو دنیا کی بہترین بحری طاقت قرار دیا، نئے طیارہ بردار جہازوں اور پندرہ جدید آبدوزوں کی تیاری کا اعلان کیا، اور کہا کہ امریکا آبدوز سازی میں دنیا سے کم از کم پندرہ سال آگے ہے۔ یہ سب باتیں محض عسکری اپڈیٹس نہیں بلکہ واضح پیغامات ہیں۔یہ پیغام چین کے لیے بھی ہے، جو تیزی سے اپنی بحری طاقت بڑھا رہا ہے، اور روس کے لیے بھی، جو سرد جنگ کے بعد دوبارہ سمندری اثر و رسوخ قائم کرنا چاہتا ہے۔ یہ پیغام ان ممالک کے لیے بھی ہے جو سمجھتے ہیں کہ امریکا کمزور ہو رہا ہے۔ ٹرمپ کا بیانیہ واضح ہے: امریکا نہ صرف موجود ہے بلکہ مزید طاقتور ہونے جا رہا ہے۔طاقت کا یہ اظہار کیوں ضروری تھا؟سوال یہ ہے کہ جب ٹرمپ جنگیں رکوانے کا دعویٰ کر رہے ہیں تو پھر اس قدر عسکری طاقت کے مظاہرے کی ضرورت کیوں؟ اس کا جواب عالمی سیاست کی تلخ حقیقت میں چھپا ہے: امن کمزوروں کی خواہش اور طاقتوروں کی حکمت عملی ہوتا ہے۔ امریکا یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ امن کا داعی ضرور ہے، مگر کمزور نہیں۔یہی وہ تضاد ہے جو عالمی سیاست کو چلاتا ہے—امن کی بات ہتھیاروں کے سائے میں ہوتی ہے، اور جنگ روکنے کے لیے جنگ کی تیاری ضروری سمجھی جاتی ہے۔پاکستان کے لیے اس بیان کے اثراتپاکستان کے لیے ٹرمپ کا یہ خطاب کئی حوالوں سے اہم ہے۔ ایک طرف پاک بھارت جنگ کے خطرے کا عالمی اعتراف، دوسری طرف پاکستانی عسکری قیادت کی تعریف، اور تیسری طرف خطے میں طاقت کے توازن کا دوبارہ اشارہ۔ یہ سب اس بات کی
طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان اب بھی عالمی سیاست میں ایک اہم فریق ہے، چاہے داخلی طور پر ہم خود کو کتنا ہی کمزور کیوں نہ سمجھیں۔تاہم یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ عالمی طاقتوں کی تعریف مستقل نہیں ہوتی، وہ مفادات سے جڑی ہوتی ہے۔ آج اگر فیلڈ مارشل عاصم منیر قابل احترام ہیں تو کل حالات بدل بھی سکتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس عالمی اہمیت کو اپنی عوام کے فائدے کے لیے استعمال کر پائیں گے، یا یہ صرف عسکری اور سفارتی بیانات تک محدود رہے گی؟نتیجہ: ایک بیان، کئی سوالاتٹرمپ کا فلوریڈا میں دیا گیا خطاب محض ایک تقریر نہیں بلکہ ایک آئینہ ہے، جس میں دنیا اپنی کمزوریاں اور خوف دیکھ سکتی ہے۔ پاک بھارت جنگ کا ذکر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم کس قدر بارود کے ڈھیر پر بیٹھے ہیں۔ امریکی بحری طاقت کا اعلان یہ بتاتا ہے کہ طاقت کی دوڑ ختم نہیں ہوئی، صرف اس کے میدان بدل گئے ہیں۔اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف یہ سوال چھوڑ جاتی ہے کہ کیا پاکستان اس عالمی اعتراف کو محض خبر بنا کر چھوڑ دے گا، یا اسے ایک ذمہ داری سمجھ کر خطے میں واقعی امن کا کردار ادا کرے گا؟کیونکہ تاریخ گواہ ہے: جنگیں صرف بندوقوں سے نہیں جیتی جاتیں، اور امن صرف تقریروں سے قائم نہیں ہوتا۔ اصل امتحان نیت، حکمت اور عوامی فلاح میں ہوتا ہے—اور یہی امتحان آج پاکستان، بھارت اور پوری دنیا کے سامنے ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں