خلیج میں بدلتی صف بندیاں اور سفارت کاری کا نیا امتحان

Shifting alignments in the Gulf and a new test of diplomacy

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں آ کھڑا ہوا ہے جہاں ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے حالیہ اطلاعات کے مطابق امریکی انتظامیہ نے احتیاطی تدبیر کے طور پر قطر میں قائم العدید ایئر بیس اور بحرین میں موجود امریکی بحریہ کا ففتھ فلیٹ سے منسلک تنصیبات سے سیکڑوں فوجی اہلکاروں کو عارضی طور پر منتقل کیا ہے اس پیش رفت کو ایک رپورٹ میں نمایاں کرتے ہوئے اسے ایک احتیاطی قدم قرار دیا ہے نہ کہ فوری جنگی تیاری، بظاہر یہ اقدام اس امکان کے پیش نظر کیا گیا ہے کہ اگر اچانک حالات کشیدہ ہوں تو انسانی جانوں کو لاحق خطرات کم سے کم رکھے جا سکیں، تاہم اس فیصلے کے باوجود امریکا کے فوجی دستے خطے کے دیگر ممالک جیسے عراق، شام، کویت، سعودی عرب، اردن اور متحدہ عرب امارات میں بدستور موجود ہیں جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن اپنی اسٹریٹجک موجودگی مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے اسے منظم اور لچکدار انداز میں ترتیب دے رہا ہے، خلیجی خطہ طویل عرصے سے عالمی توانائی منڈی، سمندری گزرگاہوں اور جغرافیائی سیاست کا محور رہا ہے اور یہاں معمولی سی عسکری نقل و حرکت بھی بڑے سفارتی اشارے کے طور پر دیکھی جاتی ہے، اس تناظر میں العدید ایئر بیس کی اہمیت غیر معمولی ہے کیونکہ یہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فضائی کارروائیوں کا مرکزی مرکز سمجھا جاتا ہے جہاں ہزاروں اہلکار تعینات رہتے ہیں اور اسے امریکا کی علاقائی حکمت عملی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے، چنانچہ وہاں سے اہلکاروں کی جزوی منتقلی کو ایک تزویراتی پیغام بھی سمجھا جا رہا ہے کہ امریکا ممکنہ خطرات کا پیشگی ادراک رکھتا ہے اور اپنی فورس پروٹیکشن کو اولین ترجیح دے رہا ہے، دوسری جانب امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف کے حالیہ انٹرویو میں یہ بیان کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سوال کر رہے ہیں کہ اتنی عسکری طاقت بڑھانے کے باوجود ایران نے ابھی تک ہتھیار کیوں نہیں ڈالے، دراصل داخلی اور خارجی سیاسی بیانیے کا حصہ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ کسی بھی بڑی طاقت کے لیے طاقت کے مظاہرے اور سفارت کاری کے دروازے کھلے رکھنے کے درمیان توازن قائم رکھنا ایک نازک مرحلہ ہوتا ہے، ایران کی طرف سے بھی ردعمل محتاط مگر واضح رہا ہے، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عندیہ دیا ہے کہ اگر آئندہ اڑتالیس گھنٹوں میں جوہری معاہدے سے متعلق ایرانی تجاویز پیش کر دی گئیں تو جنیوا میں مزید مذاکرات متوقع ہیں، یہ بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ تہران مکمل محاذ آرائی کے بجائے سفارتی راستے کو کھلا رکھنا چاہتا ہے، اسی سلسلے میں عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعيدي کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی تصدیق ایک اہم پیش رفت ہے کیونکہ عمان ماضی میں بھی خطے میں پس پردہ سفارت کاری اور بیک چینل رابطوں میں کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے، یہ تمام عناصر مل کر ایک ایسی تصویر پیش کرتے ہیں جس میں عسکری احتیاط اور سفارتی سرگرمی بیک وقت جاری ہیں، خطے کیلئے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا یہ کشیدگی محض دباؤ کی حکمت عملی ہے یا کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ، مثبت زاویے سے دیکھا جائے تو دونوں جانب سے بیانات اور اقدامات میں ایک حد تک ضبط اور حساب کتاب دکھائی دیتا ہے، امریکا اگرچہ اپنی فوجی موجودگی کو ازسرنو ترتیب دے رہا ہے مگر اس نے اسے فوری جنگی تیاری قرار نہیں دیا جاسکتا، ایران بھی اپنی خودمختاری اور دفاعی تیاری پر زور دیتے ہوئے مذاکرات کی گنجائش برقرار رکھے ہوئے ہے، ایرانی کمانڈر علی جہاں شاہی کا یہ کہنا کہ افواج دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی جارحیت کا جواب دیا جائے گا، دفاعی تیاری کے عمومی اصول کے تحت آتا ہے اور اسے براہ راست اشتعال انگیزی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ہر ریاست اپنی سلامتی کے تحفظ کو بنیادی حق سمجھتی ہے، موجودہ منظرنامے میں اقتصادی پہلو بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں، رپورٹس کے مطابق مذاکرات میں پابندیوں میں نرمی اور ایران کے تیل کے شعبے میں ممکنہ امریکی سرمایہ کاری زیر غور ہے، اگر واقعی ایسا کوئی فریم ورک سامنے آتا ہے تو یہ خطے میں معاشی انضمام اور استحکام کیلئے ایک نیا باب کھول سکتا ہے، ایران کا یہ مؤقف کہ وہ اپنے تیل اور معدنی وسائل پر کنٹرول کسی کو نہیں دے گا، قومی خودمختاری کے اصول سے ہم آہنگ ہے اور کسی بھی ریاست کیلئے اپنے قدرتی وسائل پر اختیار ایک بنیادی معاملہ ہوتا ہے، اصل امتحان اس بات کا ہوگا کہ کیا فریقین باہمی احترام اور مرحلہ وار اعتماد سازی کے ذریعے ایسے فارمولے تک پہنچ سکتے ہیں جو سلامتی کے خدشات اور معاشی مفادات دونوں کو متوازن کرے، خلیجی ریاستیں بھی اس ساری صورت حال میں محض تماشائی نہیں بلکہ براہ راست متاثر فریق ہیں کیونکہ ان کی سرزمین پر قائم اڈے، سمندری راستے اور توانائی کی تنصیبات عالمی معیشت سے جڑی ہوئی ہیں، اسی لئے وہ عمومی طور پر کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے تسلسل کو ترجیح دیتی ہیں، عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں، بحری تجارت کی روانی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد سب اسی استحکام سے وابستہ ہیں، اس پس منظر میں جنیوا میں ممکنہ مذاکرات کو ایک موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے نہ کہ محض رسمی سفارت کاری کے طور پر، تاریخ گواہ ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات کے باوجود بعض ادوار میں بامعنی معاہدے بھی طے پائے جنہوں نے وقتی ہی سہی مگر کشیدگی کو کم کیا، موجودہ حالات میں بھی اگر دونوں فریق زیادہ سے زیادہ مطالبات کے بجائے قابلِ عمل درمیانی راستہ تلاش کریں تو خطہ کسی بڑے تصادم سے بچ سکتا ہے، طاقت کا مظاہرہ بعض اوقات مذاکرات کی میز تک لانے کا ذریعہ بنتا ہے لیکن حتمی کامیابی ہمیشہ سیاسی بصیرت اور لچک سے وابستہ ہوتی ہے، مثبت پہلو یہ ہے کہ سفارتی رابطوں کے دروازے بند نہیں ہوئے اور ثالثی کے امکانات موجود ہیں، اگر یہ عمل تسلسل سے آگے بڑھتا ہے تو نہ صرف خلیج بلکہ وسیع تر مشرقِ وسطیٰ میں ایک نسبتاً مستحکم ماحول کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے، اس سارے تناظر میں ضروری ہے کہ بیانات کو جذباتی عینک سے دیکھنے کے بجائے اس وسیع اسٹریٹجک فریم میں سمجھا جائے جہاں ہر قدم کئی سطحوں پر پیغام دیتا ہے، فوجی اہلکاروں کی منتقلی، بحری بیڑوں کی پوزیشننگ، مذاکرات کی تاریخوں کا اعلان اور اقتصادی تجاویز سب ایک بڑے سفارتی کھیل کا حصہ ہوتے ہیں جس میں مقصد بالآخر اپنے مفادات کا تحفظ اور تصادم سے گریز ہوتا ہے، اگر آنے والے دنوں میں ایرانی تجاویز اور امریکی ردعمل کے درمیان کوئی قابلِ قبول مشترکہ نکات سامنے آتے ہیں تو یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہوگی کہ کشیدگی کے باوجود مکالمہ ہی وہ راستہ ہے جو پائیدار امن کی طرف لے جا سکتا ہے، خطے کے عوام کی خواہش بھی یہی ہے کہ ترقی، تجارت اور استحکام کو ترجیح دی جائے اور اختلافات کو میز پر حل کیا جائے، چنانچہ موجودہ حالات کو ایک نازک مگر امید افزا موڑ کہا جا سکتا ہے جہاں دانشمندانہ قیادت اور ذمہ دارانہ سفارت کاری آنے والی دہائیوں کی سمت کا تعین کر سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں