وینزویلا کے تیل پر قبضے کی خفیہ کہانی؛ ٹرمپ، امریکی کمپنیوں اور عالمی سیاست کا پردہ فاش

وینزویلا کے تیل پر قبضے کی خفیہ کہانی؛ ٹرمپ، امریکی کمپنیوں اور عالمی سیاست کا پردہ فاش

واشنگٹن کی جانب سے وینزویلا کے خلاف حالیہ جارحانہ اقدامات اور ٹرمپ انتظامیہ کی تیل کمپنیوں کے مالکان کے ساتھ کھلی قربتیں کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم سیاسی و معاشی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔
پورے منظرنامے کا جائزہ لیا جائے تو اس کی ترتیب واضح دکھائی دیتی ہے، جس کے مطابق پہلے سیاسی طاقت کا بے دریغ استعمال، پھر قانونی ضمانتوں کا حصول اور آخر میں بیلنس شیٹ پر منافع کا حساب۔
امریکی انتظامیہ کی جانب سے ان نجی کمپنیوں کو، جو وینزویلا کے تیل کے شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں، ’’مکمل تحفظ‘‘ کی یقین دہانی کروانا اس بات کو واضح کرتا ہے کہ یہ پورا عمل عوامی مفاد کے بجائے مخصوص کارپوریٹ مفادات کے تحفظ کے لیے ترتیب دیا گیا۔
وینزویلا کے صدر کی گرفتاری کا ڈراما رچانا بھی کسی ایسی پالیسی کا حصہ نہیں تھا جس کا مقصد امریکی عوام کے لیے گیس کی قیمتیں کم کرنا یا وینزویلا کی خودمختاری کو بحال کرنا ہو، بلکہ یہ عالمی طاقت کے اس پرانے طریقۂ کار کی مثال ہے جس میں ریاستی قوت کو استعمال کر کے کسی دوسرے ملک کے وسائل کو نجی قبضے کے لیے محفوظ بنایا جاتا ہے۔
وینزویلا کی غیر معمولی اہمیت کی بنیادی وجہ اس کے قدرتی وسائل ہیں۔ اس کے پاس 300 ارب بیرل سے زائد ثابت شدہ خام تیل کے ذخائر موجود ہیں، جو دنیا میں توانائی کا سب سے بڑا غیر استعمال شدہ خزانہ تصور کیے جاتے ہیں۔ مالیاتی اور توانائی کے حلقوں میں یہ بات اچھی طرح سمجھی جاتی ہے کہ یہ ذخائر اس وقت تک سرمایہ داروں کے لیے بے معنی رہتے ہیں جب تک وہاں کے سیاسی خطرات کو مکمل طور پر ختم نہ کر دیا جائے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں امریکی طاقت تاریخی طور پر اپنا کردار ادا کرتی آئی ہے۔
یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نجی منافع کے لیے تیل کے حصول کی یہ کوشش کوئی اچانک پیدا ہونے والا رجحان نہیں ہے۔ امریکا اور وینزویلا کے درمیان موجودہ تصادم کو ماضی میں ایرانی وزیرِ اعظم محمد مصدق کے دور میں واشنگٹن کی مہم سے مشابہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس نوعیت کی ’جدوجہد‘ کی بنیاد ہمیشہ تیل پر قبضہ رہی ہے اور ہر بار وہی پرانے کارپوریٹ چہرے دوبارہ منظرِ عام پر آتے ہیں۔
ٹرمپ کے پہلے دورِ اقتدار میں ہی وینزویلا کی نام نہاد متبادل قیادت، جسے امریکا کی مکمل حمایت حاصل تھی، اپنے عزائم کھل کر ظاہر کر چکی تھی۔ واشنگٹن کے حمایت یافتہ رہنما خوان گوائیڈو نے کبھی اس بات کو نہیں چھپایا کہ ان کا منصوبہ وینزویلا کے تیل کے شعبے کو نجی امریکی کمپنیوں کے حوالے کرنا تھا۔ ان کے نمائندوں کے مطابق گوائیڈو کی قیادت میں بننے والی کسی بھی ممکنہ حکومت میں غیر ملکی نجی کمپنیوں کو وینزویلا کی سرکاری تیل کمپنی پی ڈی وی ایس اے کے ساتھ مشترکہ منصوبوں میں کہیں زیادہ بڑا حصہ دیا جاتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں