27 ویں ترمیم میں مزید ترامیم سینیٹ سے منظور، اپوزیشن کا شدید احتجاج، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں

27 ویں ترمیم میں مزید ترامیم سینیٹ سے منظور، اپوزیشن کا شدید احتجاج، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں

چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس جاری ہے جس میں 27 ویں ترمیم کے نئے مسودے کی منظوری دے دی گئی۔
قومی اسمبلی سے منطور کردہ 27ویں آئینی ترمیمی بل سینیٹ میں پیش کیا گیا، قومی اسمبلی سے منظور کردہ بل 56 شقوں پر مبنی ہے، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بل پیش کیا جب کہ اپوزیشن نے اس دوران شدید احتجاج کیا۔
پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ منحرف رکن آئین کے آرٹیکل 63اے کے تحت نااہل ہوگئے ہیں، وہ دو حضرات اس آئینی ترمیم پر وقت کاسٹ نہیں کر سکتے۔
جے یو آئی سینیٹر کامران مرتضی نے کہا کہ ہم نے ن لیگ کے اس انداز کو اچھا محسوس نہیں کیا، اس کو اپنے دل میں رکھیں گے، ن لیگ کیساتھ اچھا رلیشن شپ رہا، جنہوں نے پارٹی پالیس کے خلاف ووٹ دیا وہ پارٹی کے نام پر دوبارہ ووٹ نہیں دے سکتے۔
سینیٹ اجلاس کے دوران جے یو آئی کے منحرف رکن احمد خان تاحال ایوان میں نہ پہنچ سکے۔
وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ نے کہا کہ 63اے کے تحت ممبر ووٹ ڈالنے کے بعد ناہل ہوتا جاتا ایسا آئین میں نہیں لکھا، سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کیلئے آئین کا استعمال نہیں کرنا چاہئیے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ پر پارٹی نوٹس کریگی، پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی پر نااہلی کا ایک طریقہ کار آئین میں درج ہے۔
ستائیسویں آئینی ترمیم میں آرٹیکل 255 میں ترمیم کو حذف کردیا گیا، آرٹیکل 214،آرٹیکل 168 کی شق دو میں ترمیم بھی حذف کردی گئی، آرٹیکل 42 میں ترمیم بھی حذف کر دی گئی، چاروں ترامیم کی ستائیسویں آئینی ترمیم میں سینیٹ نے منظوری دی تھی۔
قومی اسمبلی نے اضافی ترامیم کے ذریعے ان کو حذف کیا، آرٹیکل 6 کی شق ٹو اے،آرٹیکل 10 کی شق ٹو اے میں ترمیم کی گئی۔
آرٹیکل 176 اور آرٹیکل 260 میں اضافی ترامیم کی گئیں، اضافی ترامیم میں چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کو واضح کیا گیا۔
آرٹیکل 6 کی شق 2اے میں وفاقی آئینی عدالت کو شامل کیا گیا، قومی اسمبلی میں 27ویں آئینی ترمیم میں 8اضافی ترامیم کی گئیں تھی۔
اضافی ترامیم کو سینیٹ سے منظور کروایا جائیگا، قومی اسمبلی نے سینیٹ سے منظور 4ترامیم کو حزف 3میں اضافی ترمیم کیں۔قومی اسمبلی نے آرٹیکل 6کی شق 2اے میں نئی ترمیم کو بھی منظور کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں