عمان نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹرانزٹ فیس کی مخالفت کردی
مسقط: عمان نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر ٹرانزٹ فیس عائد کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی بحری گزرگاہ پر لازمی فیس کے حق میں نہیں ہے، تاہم بحری خدمات، ماحولیاتی تحفظ اور نیویگیشن سے متعلق سروس چارجز پر رضاکارانہ بنیادوں پر بات چیت کی جا سکتی ہے۔
عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی نے فرانسیسی ریڈیو اسٹیشن مونٹی کارلو دولیہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مسقط آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹرانزٹ فیس عائد کرنے کی حمایت نہیں کرتا۔
انہوں نے کہا کہ اگر جہاز رانی، ماحولیاتی تحفظ یا نیویگیشن کی بہتری سے متعلق مخصوص خدمات فراہم کی جائیں تو ان کے عوض فیس کا معاملہ فائدہ اٹھانے والے ممالک اور کمپنیوں کے ساتھ رضاکارانہ بنیادوں پر زیرِ غور لایا جا سکتا ہے۔
وزیر خارجہ کے مطابق ایسی خدمات میں بحری راستوں کی حفاظت کو مزید مؤثر بنانا، سمندری آلودگی سے تحفظ، اور حادثات یا ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے تیاریوں کو بہتر بنانا شامل ہو سکتا ہے۔
بدر بن حمد البوسعیدی نے یہ بھی کہا کہ اس سلسلے میں دنیا کے دیگر کامیاب ماڈلز، خصوصاً آبنائے ملاکا اور سنگاپور کے بحری راستوں کے انتظامی نظام سے رہنمائی لی جا سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، اس لیے اس کے انتظام اور بحری سلامتی سے متعلق فیصلوں میں بین الاقوامی قوانین، علاقائی تعاون اور تمام متعلقہ فریقوں کے مفادات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
عمان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی، جہاز رانی اور ممکنہ فیس کے نظام سے متعلق علاقائی اور عالمی سطح پر مختلف تجاویز اور سفارتی مشاورت جاری ہے۔



