ایران امریکہ تکنیکی مذاکرات اختتام پذیر، اگلا مرحلہ اعلیٰ کمیٹی کے سپرد
تہران: ایران کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان تکنیکی مذاکرات جامع پیشرفت کے ساتھ مکمل ہو گئے، اگلا مرحلہ اعلیٰ سطح کی کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔
ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا ہے کہ مذاکرات کاروں نے فیصلہ کیا کہ چار ورکنگ گروپس پابندیوں کے خاتمے کا گروپ، جوہری امور کا گروپ، تعمیرِ نو اور اقتصادی ترقی کا گروپ اور نگرانی و نفاذ کا گروپ قائم کیے جائیں گے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بتایا کہ سوئٹزرلینڈ میں امریکا کے ساتھ مذاکرات میں اہم اور جامع پیش رفت حاصل ہوئی، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس کے بعد فنی سطح پر مذاکرات کے عملی طریقہ کار پر اتفاق کیا گیا۔
کاظم غریب آبادی کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان ضروری سمجھوتے طے پا گئے ہیں، معاہدے کے تحت آئندہ مذاکرات ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کی نگرانی میں ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ کمیٹی میں ایران کی جانب سے باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شامل ہوں گے، کمیٹی میں امریکی نمائندگی نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، پاکستان و قطر کے وزرائے اعظم بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔
کاظم غریب آبادی نے کہا کہ فنی ٹیموں کے سربراہان چاروں گروپس کی نگرانی کریں گے اور رپورٹ اعلیٰ کمیٹی کو پیش کریں گے۔
یاد رہے کہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعلان کیا تھا کہ نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی ایرانی تکنیکی وفد کی سربراہی کریں گے۔
دوسری طرف ایران کے چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے فیصلے پر کہا ہے کہ ایران خطے میں طویل بدامنی کے خاتمے کے لیے سوئٹزرلینڈ گیا اور بہت کچھ حاصل کیا۔
خیال رہے کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کر دی ہے، ایرانی تیل کی پیداوار اور فروخت پر پابندی بھی ساٹھ روز کے لیے ختم کر دی ہے جبکہ منجمد اثاثوں میں سے 12 ارب ڈالر بھی جاری کر رہا ہے۔
پاکستان اور قطر کی ثالثی کوششوں سے لبنان میں جنگ کے خاتمہ کے لیے میکانزم طے پایا ہے، امریکہ اور ایران میں حتمی معاہدے کے لیے ساٹھ روزہ روڈ میپ طے پایا ہے۔



