بالی ووڈ اداکار سیف علی خان پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے کیس نے ایک نیا موڑ اختیار کرلیا

بالی ووڈ اداکار سیف علی خان پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے کیس نے ایک نیا موڑ اختیار کرلیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق کیس میں یہ اہم بات سامنے آئی ہے کہ پولیس نے وقوعہ کے بعد سیف علی خان کی رہائش گاہ سے فنگر پرنٹس کے جو نمونے حاصل کیے تھے، وہ مبینہ گرفتار ملزم کے فنگر پرنٹ سے میچ نہیں ہورہے۔سیف حملہ کیس میں ممبئی پولیس کی تحقیقات ایک نئے موڑ میں داخل ہوگئی ہے اور اب معاملہ فنگر پرنٹس کے گرد گھوم رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اداکار کے گھر سے ملنے والے 19 فنگر پرنٹس کے سیٹ میں سے کوئی بھی مبینہ ملزم شریف الاسلام سے میل نہیں کھاتے۔ گویا، کہانی میں ایک نیا موڑ آگیا ہے۔سیف علی خان پر چاقو سے حملے کے بعد ممبئی پولیس نے موقع واردات سے فنگر پرنٹس اکٹھے کیے تھے اور انہیں ریاستی کرمنل انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (CID) کے فنگر پرنٹ بیورو کو جانچ کےلیے بھیجا تھا۔ رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ یہ نشانات شریف الاسلام کے نہیں ہیں۔
سی آئی ڈی نے ممبئی پولیس کو اس بارے میں باضابطہ طور پر آگاہ کردیا ہے۔ لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی، پولیس نے مزید نمونے بھی جانچ کےلیے بھیجے ہیں، گویا ابھی کچھ اور پردے اٹھنا باقی ہیں۔