ٹرمپ اب ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے، چونکا دینے والی رپورٹ آگئی
لندن: برطانوی جریدے دی اکنامسٹ نے اپنی ایک تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اب ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے، کیونکہ وہ اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ یہ جنگ شروع کرنا ہی ایک غلط فیصلہ تھا۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور جنگی صورتحال نے نہ صرف خطے کو غیر مستحکم کیا بلکہ امریکی پالیسی اور طاقت کے استعمال کے حوالے سے ٹرمپ کے وژن کی کمزوریاں بھی واضح کر دیں۔
جریدے کا کہنا ہے کہ اگر جنگ بندی کے ذریعے اس تنازع کا خاتمہ ہوتا ہے تو سیاسی طور پر سب سے زیادہ نقصان صدر ٹرمپ کو اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
اکنامسٹ کے مطابق ٹرمپ کے ایران کے خلاف سخت اور اشتعال انگیز بیانات اب ایسے محسوس ہوتے ہیں جیسے وہ اپنی پسپائی کو مضبوط ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نئی جنگ نہ صرف عالمی منڈیوں میں خوف و ہراس پیدا کرے گی بلکہ ٹرمپ کے ’سنہری دور‘ کے دعووں کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے تین بڑے مقاصد — مشرق وسطیٰ کو محفوظ اور خوشحال بنانا، ایران میں حکومت کی تبدیلی، اور ایران کو مستقل طور پر جوہری طاقت بننے سے روکنا — خاطر خواہ حد تک حاصل نہیں ہو سکے۔
دوسری جانب رپورٹ میں ایران کی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ جریدے کے مطابق ایران کے لیے بھی جنگ جاری رکھنا آسان نہیں، کیونکہ اس کی قیادت نشانے پر ہے اور توانائی و ٹرانسپورٹ کے نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ ایران پابندیوں کے خاتمے کا خواہاں ہے اور اسے یقین ہے کہ وقت مذاکرات میں اس کے حق میں جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ جنگ جوہری خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ اگرچہ ایران کی کچھ تنصیبات کو نقصان پہنچا، تاہم افزودہ یورینیم اب بھی موجود ہے جو کئی جوہری ہتھیار بنانے کے لیے کافی ہو سکتا ہے، جس سے خطے میں جوہری پھیلاؤ کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
مزید برآں جریدے کے مطابق امریکا کے اندر بھی اسرائیل کے حوالے سے عوامی رائے میں تبدیلی آرہی ہے، جو مستقبل میں امریکی پالیسی کو متاثر کر سکتی ہے۔
رپورٹ کے اختتام میں کہا گیا ہے کہ یہ تنازع اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ محض فوجی طاقت کافی نہیں ہوتی، بلکہ مؤثر حکمت عملی کے بغیر طاقت کا استعمال الٹا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔



