جنگ نہیں، زندگی چاہیے

No war, life is needed.


دنیا اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں طاقت، خوف، مفادات اور عدم اعتماد نے مل کر ایک ایسا ماحول بنا دیا ہے جس میں جنگ کی آہٹیں مسلسل سنائی دیتی رہتی ہیں مشرقِ وسطیٰ سے لے کر مشرقی یورپ تک، ایشیا سے افریقہ تک، کشیدگی کی لہر کبھی تیز تو کبھی مدھم ضرور ہوتی ہے مگر ختم نہیں ہوتی، عالمی سیاست میں طاقت کے توازن کی نئی صف بندی، معاشی مفادات کی کشمکش، نظریاتی اختلافات اور علاقائی بالادستی کی خواہش نے مل کر فضا کو بارود سے بھر دیا ہے ایسے میں عام انسان کے دل میں یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ کیا جنگ واقعی کسی مسئلے کا حل ہے؟ کیا بندوق کی گولی وہ بات منوا سکتی ہے جو مکالمہ اور تدبر سے نہیں منوائی جا سکتی؟ تاریخ کا مطالعہ ہمیں بار بار یہی بتاتا ہے کہ جنگ کا آغاز تو سیاستدان کرتے ہیں مگر اس کی قیمت عام لوگ ادا کرتے ہیں وہ لوگ جو نہ محاذ پر جانے کا فیصلہ کرتے ہیں اور نہ ہی میز پر بیٹھ کر معاہدوں پر دستخط کرتے ہیں جنگ کی آگ جب بھڑکتی ہے تو وہ سرحدوں کا لحاظ نہیں کرتی، وہ گھروں، سکولوں، ہسپتالوں اور خوابوں کو بھی جلا دیتی ہے کسی بھی جنگ کے آغاز میں قوم پرستی کے نعرے بلند ہوتے ہیں، جذبات کو گرمایا جاتا ہے، دشمن کا چہرہ خوفناک بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور عوام کو یقین دلایا جاتا ہے کہ یہ جنگ ناگزیر ہے، یہ جنگ عزت، بقا یا سلامتی کی جنگ ہے مگر جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، نعروں کی گونج کمزور پڑتی ہے اور جنازوں کی قطاریں لمبی ہوتی جاتی ہیں معیشت کا پہیہ سست پڑتا ہے، مہنگائی بڑھتی ہے، روزگار کے مواقع کم ہوتے ہیں اور معاشرتی بے چینی میں اضافہ ہوتا ہے جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی، وہ گھروں کے اندر بھی لڑی جاتی ہے جہاں مائیں اپنے بیٹوں کی راہ دیکھتی ہیں، بچے اپنے باپ کی واپسی کے منتظر رہتے ہیں اور خاندان غیر یقینی کی کیفیت میں زندگی گزارتے ہیں جدید دور کی جنگیں تو مزید ہولناک ہیں کیونکہ اب تباہی کی صلاحیت کئی گنا بڑھ چکی ہے، ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی نے انسانیت کے سر پر مستقل خطرہ لٹکا رکھا ہے اگر خدانخواستہ کوئی بڑی جنگ ایٹمی تصادم کی شکل اختیار کر لے تو اس کے اثرات صرف چند ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آ جائے گی،ماحولیات پر اس کے اثرات، خوراک کی قلت، مہاجرین کا بحران اور عالمی معیشت کا انہدام ایک ایسے سلسلے کو جنم دے سکتا ہے جس سے نکلنا نسلوں کیلئے مشکل ہو جائے گا ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ جنگ صرف فوجی محاذ پر نہیں ہوتی، آج کے دور میں معاشی پابندیاں، سائبر حملے، پراکسی تنازعات اور اطلاعاتی جنگ بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں جب 2 ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کا اثر عالمی منڈیوں پر پڑتا ہے، تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں، تجارت متاثر ہوتی ہے اور ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، وہ ممالک جو پہلے ہی غربت، بے روزگاری اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہیں، جنگی ماحول میں مزید کمزور ہو جاتے ہیں اس ساری صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان انسانیت کا ہوتا ہے، جنگ انسان کے اندر موجود رحم، ہمدردی اور برداشت کے جذبے کو کمزور کرتی ہے وہ ذہنوں میں نفرت کے بیج بوتی ہے جو نسلوں تک پنپتے رہتے ہیں، ایک جنگ ختم ہوتی ہے مگر اس کے اثرات دلوں میں باقی رہتے ہیں، انتقام کا جذبہ نئی کشیدگی کو جنم دیتا ہے اور یوں تشدد کا ایک نہ ختم ہونے والا چکر شروع ہو جاتا ہے ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اختلافات ہر معاشرے اور ہر ملک میں ہوتے ہیں، مفادات کا ٹکراؤ بھی ایک حقیقت ہے، مگر ان اختلافات کو حل کرنے کا راستہ جنگ نہیں بلکہ مکالمہ، سفارت کاری اور باہمی احترام ہے۔ دنیا کی تاریخ میں ایسے بے شمار مواقع آئے جب شدید کشیدگی کے باوجود قیادت نے دانشمندی کا مظاہرہ کیا اور تصادم سے بچنے کا راستہ نکالا، یہی وہ راستہ ہے جسے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، عالمی اداروں کو مزید فعال اور غیر جانبدار بنانا ہوگا تاکہ وہ تنازعات کے حل میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ طاقتور ممالک کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وقتی برتری یا علاقائی اثر و
رسوخ کی خاطر دنیا کو آگ میں جھونک دینا دراصل اپنے ہی مستقبل کو غیر محفوظ بنانا ہے امن محض جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ انصاف، مساوات اور ترقی کے مواقع فراہم کرنے کا نام ہے جب تک دنیا کے مختلف حصوں میں محرومی، ناانصافی اور استحصال موجود رہے گا، کشیدگی کے بیج بھی موجود رہیں گے اس لئے ضروری ہے کہ عالمی برادری ہتھیاروں کی دوڑ کم کرنے اور تعلیم، صحت اور پائیدار ترقی پر سرمایہ کاری بڑھانے کی طرف توجہ دے اس وقت دنیا میں اسلحے پر خرچ ہونے والی خطیر رقم اگر انسانی ترقی پر خرچ کی جائے تو کروڑوں لوگوں کی زندگی بدل سکتی ہے،بھوک، بیماری اور جہالت سے لڑنا کہیں زیادہ ضروری ہے بنسبت ایک دوسرے سے لڑنے کے، میڈیا کا کردار بھی اس حوالے سے نہایت اہم ہے اگر میڈیا ذمہ داری کا مظاہرہ کرے، نفرت انگیز بیانیے کو فروغ دینے کے بجائے امن اور مکالمے کو جگہ دے تو عوامی رائے کو مثبت سمت دی جا سکتی ہے، سوشل میڈیا کے دور میں غلط معلومات اور اشتعال انگیز مواد تیزی سے پھیلتا ہے، جس سے جذبات بھڑکتے ہیں اور حالات مزید بگڑ سکتے ہیں، اس لئے معلومات کی تصدیق اور ذمہ دارانہ صحافت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے، نوجوان نسل کو بھی یہ سمجھانا ہوگا کہ اصل بہادری جنگ میں نہیں بلکہ امن قائم کرنے میں ہے، اختلاف رائے کو برداشت کرنا، دوسروں کے نقطہ نظر کو سننا اور مشترکہ حل تلاش کرنا ہی پائیدار راستہ ہے، اگر ہم اپنے بچوں کو نفرت کے قصے سنائیں گے تو وہ نفرت ہی سیکھیں گے، مگر اگر ہم انہیں امن، رواداری اور باہمی احترام کی کہانیاں سنائیں گے تو وہ ایک بہتر دنیا بنانے کے قابل ہوں گے، ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہر ملک کے عوام بنیادی طور پر ایک جیسے خواب رکھتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کیلئے محفوظ مستقبل چاہتے ہیں، بہتر تعلیم، اچھی صحت اور خوشحال زندگی کی خواہش رکھتے ہیں، کوئی ماں یہ نہیں چاہتی کہ اس کا بیٹا جنگ میں جائے، کوئی بچہ یہ نہیں چاہتا کہ اس کا گھر بمباری میں تباہ ہو، یہ انسانی خواہشات سرحدوں سے ماورا ہیں، اسی لئے ضروری ہے کہ عالمی قیادت اپنے فیصلوں میں انسانی پہلو کو اولین ترجیح دے، طاقت کے مظاہرے وقتی اطمینان دے سکتے ہیں مگر پائیدار امن صرف اعتماد سازی اور تعاون سے حاصل ہوتا ہے، علاقائی تنازعات کو مذاکرات کی میز پر لانا، ثالثی کے عمل کو مضبوط کرنا اور متنازع امور پر تدریجی پیش رفت کرنا وہ راستے ہیں جو جنگ کے متبادل کے طور پر اختیار کئے جا سکتے ہیں بعض اوقات یہ عمل سست اور پیچیدہ ہوتا ہے مگر اس کی قیمت جنگ سے کہیں کم ہوتی ہے۔ ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ جنگ کا کوئی حقیقی فاتح نہیں ہوتا، بظاہر ایک فریق میدان میں کامیاب ہو جائے مگر انسانی، معاشی اور اخلاقی نقصانات اسے بھی کمزور کر دیتے ہیں، تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی، بے گھر افراد کی آبادکاری اور نفسیاتی زخموں کا علاج برسوں بلکہ دہائیوں تک جاری رہتا ہے، اس لئے دانشمندی اسی میں ہے کہ جنگ کی نوبت ہی نہ آنے دی جائے، دنیا کو اس وقت ایک ایسے عالمی وژن کی ضرورت ہے جس کی بنیاد مشترکہ مفاد پر ہو، نہ کہ محض قومی مفاد پر، ماحولیاتی تبدیلی، وبائیں، معاشی بحران اور دہشت گردی جیسے مسائل سرحدوں کو نہیں مانتے، ان کا حل بھی مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہے اگر ممالک ایک دوسرے کو دشمن کے طور پر دیکھنے کے بجائے شراکت دار کے طور پر دیکھیں تو بہت سے مسائل خود بخود کم ہو سکتے ہیں، تعلیم کے نصاب میں امن کی تعلیم شامل کی جائے، ثقافتی تبادلے بڑھائے جائیں، عوامی سطح پر روابط کو فروغ دیا جائے تاکہ غلط فہمیاں کم ہوں اور اعتماد بڑھے۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جنگ کسی کیلئے بہتر نہیں ہے، یہ نہ جیتنے والے کیلئے سودمند ہے نہ ہارنے والے کیلئے، نہ طاقتور کیلئے نہ کمزور کے لئے، جنگ انسانیت کے اجتماعی شعور کی ناکامی کا اعلان ہوتی ہے اگر ہم واقعی ایک محفوظ اور خوشحال دنیا چاہتے ہیں تو ہمیں جنگ کے بجائے امن کو ترجیح دینی ہوگی، اختلاف کے بجائے مکالمے کو اپنانا ہوگا اور نفرت کے بجائے احترام کو فروغ دینا ہوگا یہی وہ راستہ ہے جو آنے والی نسلوں کو ایک ایسی دنیا دے سکتا ہے جہاں خوف کے سائے کم ہوں اور امید کی روشنی زیادہ ہو، جہاں بارود کی بو کے بجائے پھولوں کی خوشبو ہو اور جہاں انسان، انسان کے خلاف نہیں بلکہ انسان کے ساتھ کھڑا ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں