امریکا میں خالصتان رہنما کو قتل کرنے کی ناکام کوشش
بھارتی شہری نکھل گپتا نے مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں سکھ علیحدگی پسند رہنما کو قتل کرنے کی سازش پر اپنے خلاف عائد تمام الزامات قبول کرلیے۔امریکی استغاثہ کے مطابق نکھل گپتا پر الزام تھا کہ انھوں نے نیویارک میں مقیم سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو قتل کرنے کی سازش تیار کی تھے۔پراسیکیوٹرز کا کہنا تھا کہ سکھ رہنما کے قتل کی ہدایات بھارتی حکومت کے ایک اہم اہلکار کی جانب سے دی گئی تھیں۔عدالتی دستاویزات کے مطابق نکھل گپتا پر کرائے کے قاتل کے ذریعے قتل کی کوشش اور سازش کے دو الزامات عائد تھے۔جس وقت یہ الزام سامنے آیا تھا، مودی سرکار نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے بے بنیاد قرار دیا تھا۔تاہم اب گرفتار بھارتی شہری نے وفاقی عدالت میں پیش ہو کر تینوں الزامات قتل کی سازش تیار کرنا، کرائے کے قاتل سے ساز باز اور منی لانڈرنگ کا اعتراف کرلیا۔استغاثہ کا اندازہ ہے کہ سنگین جرائم کے اعتراف پر وفاقی قوانین کے تحت بھارتی شہری نکھل گپتا کو تقریباً 40 برس تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔



