اسلام آبادمیں امام بارگاہ میں خودکش دھماکا، جاں بحق افراد کی تعداد 31 ہوگئی
ترلائی کے علاقے میں واقع امام بارگاہ کے گیٹ پر خودکش دھماکے میں 31 افراد جاں بحق اور 169 زخمی ہوگئے جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔امام بارگاہ کے گیٹ پر ایک بج کر چالیس منٹ پر دھماکا ہوا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی، امام بارگاہ سے ملحقہ گھروں اور قریب کھڑی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ پولیس اور ریسکیو کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں جبکہ آئی جی اسلام آباد کی جانب سے اسلام آباد میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ دھماکے کی جگہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا۔وفاقی دارالحکومت کے پولی کلینک، پمز اور سی ڈی اے اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ اسپتالوں کے عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں۔پولیس ذرائع کے مطابق بم ڈسپوزل اسکواڈ دھماکے کی نوعیت سے متعلق تحقیقات کر رہا ہے۔ رینجرز اور پاک فوج کے جوان بھی موقع پر پہنچ گئے۔زخمیوں کو پمز اور پولی کلینک اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ مین ایمرجنسی، آرتھو پیڈک، برن سینٹر اور نیورو ڈیپارٹمنٹ فعال ہیں۔ضلعی انتظامیہ اسلام آباد کے مطابق دھماکے میں زخمیوں کو پمز اور پولی کلینک اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنرز کو مختلف اسپتالوں میں زخمیوں کے علاج و معالجے کی نگرانی کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔ای ڈی پمز عمران سکندر کے مطابق پمز اسپتال میں 28 ڈیڈ باڈیز منتقل کی گئیں، 105 زخمی پمز اسپتال لائے گئے۔ نوجوانوں کی کثیر تعداد خون کے عطیات دینے پمز پہنچ گئی۔اسی طرح پولی کلینک میں عون عباس، ڈاکٹر عباس مہدی، ناصر علی جاں بحق ہوئے، ایک جاں بحق شخص نامعلوم ہے۔بے نظیر بھٹو اسپتال میں بھی زخمیوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، 5 زخمی بے نظیر بھٹو اسپتال لائے گئے، اسپتال میں پولیس کی اضافی نفری تعینات کردی گئی، پولیس اہلکار اسپتال ایمرجنسی کے باہر اور اندر تعینات ہیں۔ ایک زخمی 22 سالہ ضامن شاہ اسی اسپتال میں دوران علاج دم توڑ گیا، دیگر زخمیوں میں زین شاہ، اظہر شاہ اور ریاض شاہ شامل ہیں۔



