امریکا اور روس کے درمیان آخری جوہری معاہدہ ختم، دنیا ایک نئے خطرناک دور میں داخل

امریکا اور روس کے درمیان آخری جوہری معاہدہ ختم، دنیا ایک نئے خطرناک دور میں داخل

واشنگٹن/ماسکو: امریکا اور روس کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی تعداد کو محدود کرنے والا آخری بڑا معاہدہ نیو اسٹارٹ آج 5 فروری کو ختم ہوگیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹیجک جوہری کنٹرول کا کوئی فعال معاہدہ باقی نہیں رہا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیو اسٹارٹ معاہدے کی مدت ختم ہونے کے باوجود امریکا اور روس کے درمیان نہ تو معاہدے میں توسیع پر اتفاق ہو سکا اور نہ ہی کسی متبادل فریم ورک پر پیش رفت ہوئی۔
اس معاملے پر روسی صدر کے معاون یوری اوشاکوف نے کہا ہے کہ روس سفارتی ذرائع کے ذریعے اسٹریٹیجک استحکام برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں معاہدے کی شرائط اب لاگو نہیں رہیں۔
رپورٹ کے مطابق معاہدے کے خاتمے سے ایک روز قبل روسی وزارتِ خارجہ نے بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا کہ اب دونوں فریق نیو اسٹارٹ کے تحت کسی بھی قسم کی ذمہ داری کے پابند نہیں رہے اور مستقبل کے اقدامات کا آزادانہ طور پر تعین کرنے کا حق رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ نیو اسٹارٹ معاہدہ 2010 میں طے پایا تھا، جس کے تحت امریکا اور روس جوہری وار ہیڈز، بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں اور لانچ سسٹمز کی تعداد محدود رکھنے کے پابند تھے۔
دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے امریکا اور روس پر زور دیا ہے کہ وہ جلد از جلد نئے جوہری معاہدے پر دستخط کریں تاکہ عالمی سلامتی سے متعلق خدشات کو کم کیا جا سکے اور جوہری اسلحے کی دوڑ کو روکا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں