روسی جنگ میں 55 ہزار یوکرینی فوجی ہلاک ہوگئے، زیلنسکی کا بڑا انکشاف سامنے آگیا

روسی جنگ میں 55 ہزار یوکرینی فوجی ہلاک ہوگئے، زیلنسکی کا بڑا انکشاف سامنے آگیا

یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے انکشاف کیا ہے کہ روس کے ساتھ جاری جنگ میں اب تک تقریباً 55 ہزار یوکرینی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں فوجی تاحال لاپتہ ہیں۔
فرانسیسی ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر زیلنسکی نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں پیشہ ور فوجی اور جبری بھرتی کیے گئے اہلکار دونوں شامل ہیں۔ انہوں نے لاپتہ فوجیوں کی درست تعداد بتانے سے گریز کیا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس کے یوکرین پر حملے کو چار سال مکمل ہونے والے ہیں اور متحدہ عرب امارات کے شہر ابو ظہبی میں جنگ بندی کے لیے اہم مذاکرات جاری ہیں۔
صدر زیلنسکی اس سے قبل فروری 2025 میں ایک امریکی ٹی وی انٹرویو میں یوکرینی فوجی ہلاکتوں کی تعداد 46 ہزار سے زائد بتا چکے تھے۔ دوسری جانب واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک یوکرین کے تقریباً چار لاکھ فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق صرف 2025 کے دوران روسی حملوں میں 2,500 سے زائد یوکرینی شہری ہلاک اور 12 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
روس کو بھی بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ یوکرینی فوجی قیادت کے مطابق 2025 میں ہی روس کے تقریباً چار لاکھ 20 ہزار فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ برطانوی دفاعی انٹیلی جنس کے اندازے کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک روسی فوج کے مجموعی نقصانات 11 لاکھ سے تجاوز کر چکے ہیں۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس اس وقت تک جنگ جاری رکھے گا جب تک یوکرین وہ فیصلے نہیں کرتا جو جنگ کے خاتمے کا باعث بن سکیں۔ انہوں نے یہ بیان ایسے وقت دیا جب ابو ظہبی میں امریکا کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کا پہلا مرحلہ مکمل ہوا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت دونوں ممالک پر زور دے رہی ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی سمجھوتے پر پہنچیں، تاہم زمین کے کنٹرول، ڈونباس خطے اور زاپوریزیا نیوکلیئر پاور پلانٹ جیسے معاملات پر فریقین کے مؤقف میں اب بھی واضح فرق موجود ہے۔
اس وقت روس یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر قابض ہے، جن میں کریمیا اور مشرقی ڈونباس کے بڑے حصے شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں