وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے اپنا نوبیل امن انعام امریکی صدر ٹرمپ کو پیش کر دیا

وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے اپنا نوبیل امن انعام امریکی صدر ٹرمپ کو پیش کر دیا

وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران اپنا نوبیل امن انعام کا تمغہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کر دیا، جسے صدر ٹرمپ نے قبول کر لیا ہے۔وائٹ ہاؤس حکام کے مطابق صدر ٹرمپ اس تمغے کو اپنے پاس رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ماریا کورینا ماچاڈو نے ان کی خدمات کے اعتراف میں یہ تمغہ پیش کیا، جو باہمی احترام کی علامت ہے۔ماچاڈو نے ملاقات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تحفہ وینزویلا کے عوام کی آزادی کے لیے صدر ٹرمپ کے کردار کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔ تاہم، ناروے کے نوبیل انسٹی ٹیوٹ نے واضح کیا ہے کہ نوبیل انعام قانونی طور پر منتقل، تقسیم یا واپس نہیں لیا جا سکتا، اور یہ اعزاز بدستور ماچاڈو ہی کے نام رہے گا۔یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب صدر ٹرمپ نے اس امکان کو مسترد کر دیا تھا کہ ماچاڈو کو وینزویلا کی قیادت سونپی جائے۔ صدر ٹرمپ ماضی میں نوبیل امن انعام حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں اور ماچاڈو کو گزشتہ ماہ یہ اعزاز ملنے پر مایوسی کا اظہار بھی کیا تھا۔یہ دونوں رہنماؤں کی پہلی بالمشافہ ملاقات تھی، جس کے بعد ماچاڈو نے امریکی کانگریس کے ارکان سے بھی ملاقاتیں کیں۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے مطابق صدر ٹرمپ ماچاڈو سے ملاقات کے خواہشمند تھے، تاہم وہ اب بھی یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ فی الحال ماچاڈو کے پاس ملک کی قیادت کے لیے مطلوبہ حمایت موجود نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں