بچوں میں ہائی بلڈ پریشر کے کیسز دگنے، تحقیق

بچوں میں ہائی بلڈ پریشر کے کیسز دگنے، تحقیق

طبی ماہرین اور محققین نے خبردار کیا ہے کہ خاموش قاتل کہلائے جانے والامرض فشار خون اب بچوں میں بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔سائنسی جریدے لانسیٹ میں شائع ہونے والی ایک اسٹڈی نے دنیا بھر کے میڈیکل پروفیشنلز میں تشویش کی لہر دوڑ دی ہے۔جس میں یہ انکشاف کیا گیا کہ برطانیہ میں بچوں اور نوجوانوں میں ہائی بلڈ پریشر (ہائپرٹینشن) کی شرح گزشتہ 20 سالوں میں دگنی ہوچکی ہے۔اس تحقیق کے مطابق برطانیہ میں 19 سال سے کم عمر کے بچوں میں یہ شرح 3.2% سے بڑھ کر 6.2% تک پہنچ گئی ہے۔جس سے ڈاکٹروں کو یہ سوال اٹھانے پر مجبور کیا ہے کہ یہ مسئلہ اتنی شدت سے کیوں بڑھ رہا ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔اس تحقیق نے عالمی سطح پر بچوں کے لیے ہائی بلڈ پریشر کو ایک سنگین مسئلہ قرار دیا ہے، جس پر اب تک مناسب توجہ نہیں دی گئی تھی۔برطانیہ کے ڈاکٹروں نے اس بات کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ملک بھر میں اسکولوں کے بچوں کی بلڈ پریشر اسکریننگ کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس مسئلے کا بروقت پتہ چلایا جا سکے۔ڈاکٹروں کا کہان ہے کہ بچوں میں ہائی بلڈ پریشر مستقبل میں دل، دماغ اور گردوں کی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے اور یہ خطرات وقت کے ساتھ بڑھتے جا رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں