سہیل آفریدی کا مریم نواز کو خیبرپختونخوا میں جلسہ کرنے کا چیلنج

سہیل آفریدی کا مریم نواز کو خیبرپختونخوا میں جلسہ کرنے کا چیلنج

لاہور:وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے مریم نواز کو کے پی میں جلسہ کرنے کا چیلنج دے دیا اور کہا ہے کہ مریم نواز کے پی میں اور میں پنجاب میں جلسہ کروں گا دیکھتے ہیں کس کی کال پر عوام زیادہ باہر نکلتی ہے۔
دورہ لاہور کے تیسرے دن سینئر صحافیوں، اینکر پرسنز، ڈیجیٹل میڈیا نمائندوں، مختلف ٹی وی چینلز کے بیورو چیفس اور نورین نیازی سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کو خیبر پختونخوا آنے کی دعوت دی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ مریم نواز خیبر پختونخوا آئیں، جہاں انہیں بتایا جائے گا کہ وزیر اعلیٰ کے منصب کا استقبال اور احترام ایک جمہوری اور مہذب انداز میں کس طرح کیا جاتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے مریم نواز کو خیبرپختونخوا میں جلسہ منعقد کرنے کا کھلا چیلنج بھی دیا اور کہا کہ اگر پنجاب حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ عمران خان کی کال پر عوام باہر نہیں نکلتے تو وہ مریم نواز کو تیاری کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیتے ہیں، ہفتے کی تیاری کے بعد مریم نواز خیبر پختونخوا آئیں اور وہاں جلسہ کر کے دکھائیں، جبکہ اس کے برعکس وہ خود پنجاب میں جلسہ منعقد کریں گے اس کے بعد یہ واضح ہو جائے گا کہ کس کی کال پر عوام کی تعداد زیادہ باہر نکلتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے پنجاب سے 180 نشستیں جیتی تھیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پنجاب کے عوام نے پاکستان تحریک انصاف پر اعتماد کیا تھا اور وہ عمران خان کی کال پر نکلے تھے اور آج بھی نکلنے کے لیے تیار ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جو لوگ غیر قانونی طریقے سے حکومت پر قابض ہو چکے ہیں، یعنی فارم 47 کے ذریعے بننے والی حکومت، ان کا عوام سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ یہ لوگ مکمل طور پر عوام سے ڈسکنیکٹ ہو چکے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پنجاب آ کر اور زمینی حقائق کو خود سامنے دیکھ کر انہیں شدید حیرت ہوئی ہے پنجاب حکومت کی جانب سے جس قسم کی سختی، جبر اور زیادتیاں کی جا رہی ہیں، ان کی پاکستان کی تاریخ میں کہیں کوئی مثال نہیں ملتی، ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے ماضی کے کالے قانون کا نظام اب موجودہ پنجاب حکومت نے پنجاب میں نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت اجتماعی احتساب کیا جا رہا ہے، گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، شیشے توڑے جا رہے ہیں، لوگوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور خوف و ہراس کی فضا قائم کی جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں