ٹرمپ کا جوہری مذاکرات کیلئے خط درحقیقت دھمکی ہے، ایران کا ردعمل

ٹرمپ کا جوہری مذاکرات کیلئے خط درحقیقت دھمکی ہے، ایران کا ردعمل

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ خط ایک دھمکی ہے۔ ایران اس خط کا جلد باضابطہ جواب دے گا۔ایرانی وزیر خارجہ نے سرکاری ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ خط موقع فراہم کرنے کا دعویٰ کرتا ہے، مگر درحقیقت یہ ایران کو دھمکانے کی کوشش ہے۔رواں ماہ صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو خط لکھ کر مذاکرات کی دعوت دی ہے، ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے انکار کیا تو ممکنہ فوجی کارروائی ہو سکتی ہے۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے امریکی پیشکش کو چالاکی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ خود کو امن کا خواہاں اور ایران کو ہٹ دھرم ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ نے بیان جاری کیا ہے کہ خط کا مکمل جائزہ لینے کے بعد مناسب ردعمل دیا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق، یہ خط 12 مارچ کو متحدہ عرب امارات کے ایک سینئر سفارتکار کے ذریعے تہران پہنچایا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں