حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدے کا امکان

تل ابیب: اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی ثالثی میں حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق پیش رفت کی امید پھر سے جاگ اُٹھی ہے۔اسرائیلی اخبار ’ہارٹز‘ نے باخبر ذرائع کا حوالہ دیکر انکشاف کیا ہے کہ امریکی ادارے ’سی آئی اے‘ کے ڈائریکٹر ولیم برنز کی حماس اور اسرائیل کی قیادت سے رابطوں میں پیش رفت سامنے آئی ہے۔سی آئی اے کے ڈائریکٹر کے ان رابطوں میں امریکی صدر جو بائیڈن کے مشرق وسطیٰ کے امور کے مشیر بریٹ میک گرک نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔خیال رہے کہ اسماعیل ہنیہ کی قیادت میں حماس کا ایک وفد اس وقت مصر کے دورے پر ہے اور وہاں کی انٹیلی جنس کے اعلیٰ حکام کے ساتھ بات چیت بھی کی۔قیدیوں کی فائل اور جنوبی غزہ کی پٹی کے شہر رفح پر متوقع اسرائیلی حملے کے بارے میں بات کرنے کے لیے میک گرک آج مصر کا بھی دورہ کریں گے۔حماس اور اسرائیل کے درمیان سیز فائر معاہدے کے لیے امریکا، قطر، اردن اور مصر بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں لیکن یہ مذاکرات بار بار تعطل کا شکار ہوجاتے ہیں۔جس کے بعد سے یہ گمان ہونے لگا تھا کہ شاید اب جنگ کے کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے سے قبل سیز فائر ممکن نہیں ہوسکے گا تاہم امریکی سی آئی اے نے ایک امید پھر پیدا کردی ہے۔